شاعری

برسوں بعد تجھ سے ملاقات خوب رہی

برسوں بعد تجھ سے ملاقات خوب رہی وصل کی از سر نو شروعات خوب رہی ایک چھتری برستا ساون تو اور میں کل شب جو برسی برسات خوب رہی تیرے دل کی گفتگو میری دھڑکن نے سنی خاموشی میں ہوئی

اے وطن مری جنت ہے تُو

اے وطن مری جنت ہے تُو عظمتوں کی علامت ہے تُو جس پہ نازاں ہے دنیا تمام وہ سراپا محبت ہے تُو تری مٹی کے سونے کے رنگ ساری دنیا کی نزہت ہے تُو وادیاں تری جنت نشاں کس قدر

کہنے کو مرے ساتھ دغا بھی نہیں کرتا

کہنے کو مرے ساتھ دغا بھی نہیں کرتا وہ شخص مگر وعدہ وفا بھی نہیں کرتا دریا کے کناروں کی طرح ساتھ ہے میرے ملتا وہ نہیں ہے تو جدا بھی نہیں کرتا آئینے وہ احساس کے سب توڑ چکا

اے پیارے وطن تیری ہرچیزپیاری ہے

اے پیارے وطن تیری ہرچیزپیاری ہے دیکھوجشن آزادی کی ہرگھرمیں تیاری ہے پرچم کاسماں آیا جھنڈیوں کی بہارآئی پرچم لہراتے ہیں خواہ گھرہویاگاڑی ہے جب ماہِ اگست آئے فورٹی سیون(1947)پلٹ آئے بدلہ خون شہیدوں کا یہ دھرتی ساری ہے ہرفردپہ

پروین شاکر

یوں حوصلہ دل نے ہاریا کب تھا سرطان میرا ستارہ کب تھا لازم تھا گزرنا زندگی سے بن زہر پیے گزارا کب تھا کچھ پل اسے اور دیکھ سکتے اشکوں کو مگر گوارا کب تھا ہم خود بھی جدائی کا

وطن کاگیت

اے پیارے وطن تیری ہرچیزپیاری ہے دیکھوجشن آزادی کی ہرگھرمیں تیاری ہے پرچم کاسماں آیا جھنڈیوں کی بہارآئی پرچم لہراتے ہیں خواہ گھرہویاگاڑی ہے جب ماہِ اگست آئے فورٹی سیون(1947)پلٹ آئے بدلہ خون شہیدوں کا یہ دھرتی ساری ہے ہرفردپہ

میرا زندہ اب بھی ضمیر ہے

شاعر: احمد نثار، انڈیا تیری زلف کا جو اسیر ہے وہ زمانے بھر کا امیر ہے جو زمانے بھر کا امیر ہے تیرے در کا ادنیٰ فقیر ہے تیرا شکریہ میرے اے خدا میرا زندہ اب بھی ضمیر ہے تو

مجھے خط ملا ہے غنیم کا

مجھے خط ملا ہے غنیم کا بڑی عجلتوں میں، لکھا ہوا کہیں۔۔ رنجشوں کی کہانیاں کہیں دھمکیوں کا ہے سلسلہ مجھے کہہ دیا ہے امیر نے کرو۔۔۔۔حسنِ یار کا تذکرہ تمہیں کیا پڑی ہے کہ رات دن کہو۔۔۔۔ حاکموں کو

سنو جانم

سنو جانم…. مجھے تم یاد کرتی ہو یاد میں آہیں بھرتی ہو رو رو کہ فریاد کرتی ہو تمہیں لگتا ہے میں جھوٹا ہوں میں فریبی ہوں کیسے تم مجھ پہ شک کرتی ہو میں دور بہت دور سے دیکھ

اک پاگل سی لڑکی ہے

اک لڑکی تھی نازک سی معصوم سی پھول سی خوشبو سی خواب کی تعبیر سی ڈری سی نڈر سی یقین اس کا ایمان تھا اعتماد اس کی پہچان تھا دھوکھے فریب سے ڈرتی تھی پھر بھی سب کے ساتھ چلتی