شاعری

اپنی تنہائی مرے نام پہ آباد کرے

اپنی تنہائی مرے نام پہ آباد کرے کون ہو گا جو مجھے اس کی طرح یاد کرے دل عجب شہر کہ جس پر بھی کھلا در اس کا وہ مسافر اسے ہر سمت سے برباد کرے اپنے قاتل کی ذہانت

نہ جانے کن اداؤں سے لبھا لیا گیا مجھے

نہ جانے کن اداؤں سے لبھا لیا گیا مجھے قتیل میرے سامنے چُرا لیا گیا مجھے کبھی جو ان کے جشن میں سیاہیاں بکھر گئیں تو روشنی کے واسطے جلا لیا گیا مجھے براہِ راست رابطہ نہ مجھ سے تھا

ایک صدا سی کانوں میں گونجتی رہتی ہے ۔۔غزل ۔۔۔ خالد راہی

ایک صدا سی کانوں میں گونجتی رہتی ہے جیسے ہر کسی سے پتہ میرا پوچھتی رہتی ہے آنکھوں میں اسکی کوئی منظرجم گیا ہو جیسے میرے ساتھ ہوکر بھی مجھے ڈھونڈتی رہتی ہے وہ جیسے مجھے پہچانتی ہے مجھ سے

خوشبو.نبیلہ خان

“ﺗﻢ” ﻭﮦ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺟﻮ مہکائے ﺭﻭﺡ میری ﮐﻭ ﺳﺎﻧﺲ ﮐﯽ ڈﻭﺭﯼ جڑی ﮨﮯ ﺗﻢ سے ﻧﻈﺮ نہ آؤکبھی ﺟﻮ مجھ کو میرے ﻭﺟﻮﺩ میں ﺭﮨﮯ نہ ﮐﭽﮫ بھی خالی مکاں ﺳﺎ ﺑﺪﻥ ﯾﮧ میرا کہاں سےلائے اپنی مکیں ﺗﻢ ﻭﮦ

یہ مصرع کاش نقش ہر در و دیوار ہو جائے۔۔غزل۔۔۔ جگرؔ مرادآبادی

یہ مصرع کاش نقش ہر در و دیوار ہو جائے جسے جینا ہو مرنے کے لیے تیار ہو جائے وہی مے خوار ہے جو اس طرح مے خوار ہو جائے کہ شیشہ توڑ دے اور بے پیے سرشار ہو جائے

نقش فریادی ہے کس کی شوخی تحریر کا۔۔ غزل۔۔۔ مرزا غالب

نقش فریادی ہے کس کی شوخی تحریر کا کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا کاو کاو سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ صبح کرنا شام کا لانا ہے جوئے شیر کا جذبۂ بے اختیار شوق دیکھا چاہئے سینۂ شمشیر

ایک بے تکی سی غزل۔۔۔ خالد راہی

جاں پھر جان جاں پھر جان جاناں کی روائت چھوڑ دی ہے بس یوں سمجھ لیجئیکہ محبت کرنا چھوڑ دی ہے حاضری تو سارے خدائوں کے حضور ہوتی ہیں سجدے تو سب کرتے ہیں، عبادت کرنا چھوڑ دی ہے مونٹیسری

دسمبر کے حوالے سے،نبیلہ خان

دسمبر کے حوالے سے کئی قصے یہ سنتے ہیں عجب یہ پر فضا موسم دلوں میں سرد چاہت ہے لہوں کو گرم کرتی داستانیں سناتاہے مگر ہے یہ عجب قصہ ، کہ ، اس میں ہجر کا حصہ بہت انمول

غربت نے میری صبر کا چہرہ پہن لیا

یہ آسمانِ عقل بھلا کیا پہن لیا تاروں کی جستجو میں اندھیرا پہن لیا ظلمت کو ڈھیر کرکے اجالا پہن لیا دھاگا شمع کا جیسے شرارہ پہن لیا بھوکے شکم نے پھر سے لبادہ پہن لیا ننگے سروں نے جیسے

،نبیلہ خان رات اور اسکی ذات دونوں کے ہی رنگ گہرے، بوجھل، دل کے سب رنگ آنکھ سے اوجھل

رات اور اسکی ذات دونوں کے ہی رنگ گہرے، بوجھل، دل کے سب رنگ آنکھ سے اوجھل رات کے رازوں کے پردے بڑے دبیز اپنے اندر سانبھ کے رکھے کھوٹے جھوٹے خواب سچے خوابوں کا مسکن ہوتا روشن چمکیلا چاند