شاعری

علمی،ادبی، سماجی و ثقافتی روایات کی امین تنظیم جگنو انٹر نیشنل لاہور کے زیرِ اہتمام جگنو ماہانہ مشاعرہ

لاہور (اظہراقبال مغل) ادب و ثقافت کے فروغ میں کوشاں،ا علمی،ادبی، سماجی و ثقافتی روایات کی امین تنظیم جگنو انٹر نیشنل لاہور کے زیرِ اہتمام تنظیم کی سربراہ ایم زیڈ کنول کی میزبانی میں جگنو ماہانہ مشاعرہ بیاد راؤ قاسم

مجھے وہ چاندنی بھولی نہیں اب تک: شاعر دعا علی

مجھے وہ چاندنی بھولی نہیں اب تک ترے آنے پہ جو کھل کر برستی تھی تجھے تکتا تھا چندا بھی شجر کی اوٹ سے اکثر مگر تو اپنی قسموں کو وفا کرنے نبھانے اپنے وعدوں کو چلے آتے تھے میرے

کہتے ہیں سب کی سانجھی ہوتی ہیں بیٹیاں سب :شاعر دعا علی

کہتے ہیں پھول جیسی ہوتی ہیں بیٹیاں سب تنہا دکھوں میں ان کو کیوں لوگ چھوڑتے ہیں معصوم دل ہیں ان کے کیوں لوگ توڑتے ہیں ہوتی ہیں پریوں جیسی کہتے ہیں بیٹیاں سب معصوم دل ہیں ان کے کیوں

بے سمت وبے خیال تھی اور میں سفر میں تھی:دعؔاعلی

بے سمت وبے خیال تھی اور میں سفر میں تھی وہ شام پُر ملال تھی اور میں سفر میں تھی ایسے ہی اک سفر میں تھا وہ میرے ساتھ ساتھ سو قُرب سے نہال تھی اور میں سفر میں تھی

آنکھوں سے آنکھیں ملا کردیکھ لوں کیا

آنکھوں سے آنکھیں ملا کردیکھ لوں کیا چہرے سے پردہ ہٹا کر دیکھ لوں کیا ہو اجازت تو میں اپنے آشیاں میں اک ترا پرتو بنا کردیکھ لوں کیا کہتے ہیں کلیوں سے نازک ہیں ترے لب اپنے ہونٹوں سے

نظم: دُکھ شاعر: اسامہ زاہروی ڈسکہ سیالکوٹ پاکستان

نظم: دُکھ شاعر: اسامہ زاہروی ڈسکہ سیالکوٹ پاکستان یہ بهی پیغام ہے کسی دُکھ کا زندگی نام ہے کسی دُکھ کا دُکھ ہزاروں اُسے ملیں گے، دوست! جس کی بیٹی کو دُکھ کہیں گے، دوست! خواب سارے بُهلا دیے سُکھ

ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں

ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں ستم ہو کہ ہو وعدہ بے حجابی کوئی بات صبر آزما چاہتا ہوں یہ جنت مبارک رہے زاہدوں کو کہ میں آپ کا سامنا چاہتا ہوں ذرا سا

رُودادِ محبّت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کچھ بھول گئے

رُودادِ محبّت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کچھ بھول گئے دو دِن کی مُسرّت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کُچھ بھول گئے جب جام دیا تھا ساقی نے جب دور چلا تھا محفل میں اِک ہوش کی ساعت کیا کہئیے

کب سماں تھا بہار سے پہلے

کب سماں تھا بہار سے پہلے غم کہاں تھا بہار سے پہلے ایک ننھا سا آرزو کا دیا ضوفشاں تھا بہار سے پہلے اب تماشا ہے چار تنکوں‌کا آشیاں تھا بہار سے پہلے اے مرے دل کے داغ یہ تو

اِس کا سوچا بھی نہ تھا اب کے جو تنہا گزری

اِس کا سوچا بھی نہ تھا اب کے جو تنہا گزری وہ قیامت ہی غنیمت تھی جو یکجا گزری آ گلے تجھ کو لگا لوں میرے پیارے دشمن اک مری بات نہیں تجھ پہ بھی کیا کیا گزری میں تو