شاعری

جاناں تم سے محبت بھی ضروری ہے

جاناں تم سے محبت بھی ضروری ہے مگر یہ شرط بھی ضروری ہے تمہیں اپنا بنانا بھی ضروری ہے مگر یہ بتانا بھی ضروری ہے چلو تمہارا کہا مان لیتے ہیں محبت کر لیتے ہیں گر اتنی ضروری ہے مگر

جان کی اب کوئی مانگ نہیں

جان کی اب کوئی مانگ نہیں ہتھیلی پہ رکھ کہ جلتا ہوں کیا خبر کب چھین لی جائے اسی ڈر سے زور مرتا ہوں موت مجھ کو کیا ڈرائے گی میں تو جینے سے ڈرتا ہوں جب مخافط ہی ٹھہرے

کشمیر کا نوحہ

چلو کشمیر دیکھتے ہیں، جنت نظیر دیکھتے ہیں موت کا رقص دیکھتے ہیں ، خون کی ہولی دیکھتے ہیں ہنستے مسکراتے چہرے چڑھتے سولی دیکھتے ہیں چیخوں میں سسکیوں کی صدائیں سنتے ہیں برف پوش وادیوں میں سلگتی آگ دیکھتے

غزل نما

یہ وسعتِ نظر کا کمال تھا ہر طرف تو اور تیرا خیال تھا بد گمانو کو بھی خوش گمان تھا یہ بھی کرشمہ حسن و جمال تھا گزار تو لیا ہے تیرے بغیر بھی وہ وقت بھی گویہ وبال تھا

پھولوں سا بھرا شجر اچھا لگتا ہے ازقلم :تابندہ جبیں

پھولوں سا بھرا شجر اچھا لگتا ہے گھر تو سب کو اپنا اچھا لگتا ہے باغ میں بہت سے پھول یے کھلتے مگر ان میں سے بھی کوئی ایک ہھول اچھا لگتا ہے دنیا ساری ہی اچھی ہے تابی مگر

میں کملی جوگن ہو جاؤں شاعرہ: ثناء خان تنولی

میں کملی جوگن ہو جاؤں لوں عشق کے گھنگھرو پہن پیا تیرا دن چڑھے میرا دن نکھرے لوں تعویز ایسا باندھ پیا تیری آااہ نکلے، میرا دَم نکلے لوں دل سے دل کو جوڑ پیا تیری مہک اُترے گُلاب بن

عذاب بے دلئ جان مبتلا نہ گیا

عذاب بے دلئ جان مبتلا نہ گیا جو سر پہ بار تھا اندیشۂ سزا نہ گیا خموش ہم بھی نہیں تھے حضور یار مگر جو کہنا چاہتے تھے بس وہی کہا نہ گیا پلٹ کے دیکھنے کی اب تو آرزو

چلنے کا حوصلہ نہیں رکنا محال کر دیا ۔۔۔ پروین شاکر

چلنے کا حوصلہ نہیں رکنا محال کر دیا عشق کے اس سفر نے تو مجھ کو نڈھال کر دیا اے مری گل زمیں تجھے چاہ تھی اک کتاب کی اہل کتاب نے مگر کیا ترا حال کر دیا ملتے ہوئے

گیسوئے تابدار کو اور بھی تابدار کر ۔۔۔ علامہ اقبال

گیسوئے تابدار کو اور بھی تابدار کر ہوش و خرد شکار کر قلب و نظر شکار کر عشق بھی ہو حجاب میں حسن بھی ہو حجاب میں یا تو خود آشکار ہو یا مجھے آشکار کر تو ہے محیط بیکراں

ہوکے آہواں بھردی پئی آں۔۔۔ اظہر اقبال مغل

ہوکے آہواں بھردی پئی آں غماں دی اگ وچ سڑنی پئی آں وچھڑن والا تاں وچھڑ گیا اے ہن کاہدے توں ڈرنی پئی آن زخماں بھریا اے دل میرا نال دُکھاں دے لڑنی پئی آں یاداں اوہدیاں بہت ستاون بن