شاعری

پھولوں سا بھرا شجر اچھا لگتا ہے ازقلم :تابندہ جبیں

پھولوں سا بھرا شجر اچھا لگتا ہے گھر تو سب کو اپنا اچھا لگتا ہے باغ میں بہت سے پھول یے کھلتے مگر ان میں سے بھی کوئی ایک ہھول اچھا لگتا ہے دنیا ساری ہی اچھی ہے تابی مگر

میں کملی جوگن ہو جاؤں شاعرہ: ثناء خان تنولی

میں کملی جوگن ہو جاؤں لوں عشق کے گھنگھرو پہن پیا تیرا دن چڑھے میرا دن نکھرے لوں تعویز ایسا باندھ پیا تیری آااہ نکلے، میرا دَم نکلے لوں دل سے دل کو جوڑ پیا تیری مہک اُترے گُلاب بن

عذاب بے دلئ جان مبتلا نہ گیا

عذاب بے دلئ جان مبتلا نہ گیا جو سر پہ بار تھا اندیشۂ سزا نہ گیا خموش ہم بھی نہیں تھے حضور یار مگر جو کہنا چاہتے تھے بس وہی کہا نہ گیا پلٹ کے دیکھنے کی اب تو آرزو

چلنے کا حوصلہ نہیں رکنا محال کر دیا ۔۔۔ پروین شاکر

چلنے کا حوصلہ نہیں رکنا محال کر دیا عشق کے اس سفر نے تو مجھ کو نڈھال کر دیا اے مری گل زمیں تجھے چاہ تھی اک کتاب کی اہل کتاب نے مگر کیا ترا حال کر دیا ملتے ہوئے

گیسوئے تابدار کو اور بھی تابدار کر ۔۔۔ علامہ اقبال

گیسوئے تابدار کو اور بھی تابدار کر ہوش و خرد شکار کر قلب و نظر شکار کر عشق بھی ہو حجاب میں حسن بھی ہو حجاب میں یا تو خود آشکار ہو یا مجھے آشکار کر تو ہے محیط بیکراں

ہوکے آہواں بھردی پئی آں۔۔۔ اظہر اقبال مغل

ہوکے آہواں بھردی پئی آں غماں دی اگ وچ سڑنی پئی آں وچھڑن والا تاں وچھڑ گیا اے ہن کاہدے توں ڈرنی پئی آن زخماں بھریا اے دل میرا نال دُکھاں دے لڑنی پئی آں یاداں اوہدیاں بہت ستاون بن

جناب اعجاز حیدر کی’’عکسِ موقوف‘‘پر خراجِ تحسین۔۔۔ ڈاکٹر سعید اقبال سعدی

لکھی ہے ’’عکسِ موقوف‘‘اس طرح اعجاز حیدر نے سخن کا کر دیا ہے حق ادا اعجاز حیدر نے یہ ہے اعجاز اس کے نام کا یہ پھر سخن گوئی دیا ہر شعر کو لہجہ نیا اعجاز حیدر نے بڑی قدرت

یادیں خوبصورت ہوتی ہیں ۔۔۔ خالد راہی

آئو کے دل کو کچھ بہلائیں ان وحشتوں سے کہیں دور لے جائیں چلو پرانے محلے کی سیر کر آئیں سلام کریں سب کو اور دیکھ دیکھ مسکرائیں جہاں گلی کے کونے پر یونہی گھنٹوں گزر جائیں نا کوئی موبائل

گر ٹوٹا ہے اک خواب ، تو کیا ہوا۔۔۔اسماء طارق

گر ٹوٹا ہے اک خواب ،تو کیا ہوا گر روٹھی ہیں کچھ خواہشیں، تو کیا ہوا گر نم ہیں آنکھیں ،تو کیا ہوا گر الجھے ہیں راستے ،تو کیا ہوا گر انجان ہے منزل، تو کیا ہوا گر دل ہے

ہمنشیں! پوچھ نہ مجھ سے کہ محبت کیا ہے احسان دانش.

ہمنشیں! پوچھ نہ مجھ سے کہ محبت کیا ہے اشک آنکھوں میں ابل آتے ہیں اس نام کے ساتھ تجھ کو تشریحِ محبت کا پڑا ہے دورہ پھر رہا ہے مرا سر گردشِ ایام کے ساتھ سن کر نغموں میں