افسانے

اعلیٰ تعلیم، مشاورت کا فقدان اور چیئرمین ایچ ای سی کی برطرفی

تحریر: پروفیسر ڈاکٹر چوہدری عبدالرحمان  (چیئرمین ایپ سپ) دنیا کی کسی بھی قوم کا مستقبل جاننا ہو تواس کے معیارتعلیم کوجانچ لیں۔ تعلیم کو ترجیح بنانے والی اقوام نے زمانے میں اپنا لوہا منوایا ہے لیکن جہاں جہاں تعلیم کو

اے عورت!تم بے مثل ہو تمہیں پہنچے میراسلام

پاکستان میں اب شاید ہی کوئی ایسا شعبہ ہو جس میں خواتین کام نہ کر رہی ہوں۔پرانے وقتوں میں خواتین کو اپنی صلاحتیں دکھانے کے مواقع بہت کم دیے جاتےتھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ پاکستان میں صرتحال بہتر ہو رہی

1919 کی ایک بات ۔۔۔ سعادت حسن منٹو

یہ 1919ء کی بات ہے بھائی جان، جب رولٹ ایکٹ کے خلاف سارے پنجاب میں ایجی ٹیشن ہورہی تھی۔ میں امرتسر کی بات کر رہا ہوں۔ سر مائیکل اوڈوائر نے ڈیفنس آف انڈیا رولز کے تحت گاندھی جی کا داخلہ

فیس بکی شاعری، چائے، اس پر ہماری رائے

دو دوست تھے دونوں کو شاعری پڑھنے اور سننے کا بہت شوق تھا ، پھر دیکھتے ہی دیکھتے ایک دوست کو شعر کہنے کی بیماری لگ گئی، دوسرے نے کئی دن برداشت کیا اور آخر کار گہری دوستی ختم ہوگئی۔

خدارا کسی کا سکون نہ برباد کیجیے

تحریر: محمد طیب طاہر چغتائی، فیصل آباد ”دلخراش سوالات! دنیا میں جتنے بڑے نام ہیں۔ چاہے دنیاوی اعتبار سے ہوں یا دینی لحاظ سے نظر آتے ہیں۔ جنہیں ہم کامیاب گردانتے ہیں۔ اُن میں سے بیشتر کہ اندر ایک صفت

مرزا صاحباں

تحریر: مونا شہزاد ،کینیڈا ڈھولک پر تھاپ پڑ رہی تھی، حلوائی مٹھائیاں تیار کر رہے تھے ، دلہن مایوں کے زرد جوڑے میں ملبوس اپنے گجرے کے پھول بے پروائی سے نوچ رہی تھی، باہر حویلی کے دالان میں خوب

گڑیوں کا گاؤں

تحریر: وقاص احمد کچھ روز قبل اوکاڑہ کے نواحی گاؤں ٹھٹھہ غلام کا دھیروکہ جانے کا اتفاق ہوا۔یہ دورہ خاص اہمیت کا حامل تھا کیونکہ اس دورے کا اہتمام پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ برائے جرمن زبان و ادب کی طرف

گھی شکر اور مکھن لگانا (طنزومزاح) تحریر ؛مراد علی شاہدؔ دوحہ قطر

لسی،مکھن اور گھی شکر کا پنجاب میں اتنا ہی احترام کیا جاتا ہے جتنا کہ ہندو دھرم میں گاؤ ماتا یا دھرتی ماتا کا کیا جاتا ہے،ہمارے ہاں مکھن کھانے اور’’ لگانے‘‘کے علاوہ دیہی علاقوں میں بچوں کا نام بھی’’

شہزادی – ڈاکٹرمیمونہ حمزہ

وہ بچوں کو سکول بھیج کر سانس بھی نہ لینے پائی تھی کہ دروازے پر ہونے والی بیل نے اسے ایک مرتبہ پھر گیٹ کی جانب بھاگنے پر مجبور کر دیا، آنے والا نہایت ہی بے صبرا تھا، یا پھر

زعم زدہ نفس ۔۔۔ عاصمہ عزیز

’’ تایا ابا آپ یہاں۔۔۔‘‘ ایدھی سنٹر کے ہال نما کمرے کے وسط میں وہیل چیئر پر آنکھیں موندیں بیٹھے ،اپنے اداس اور وحشت ناک دنوں میں حسین یادوں کی پیوندکاری کرتے ہوئے انھیں ایک جانی پہچانی نسوانی آواز سنائی