افسانے

فیس بکی شاعری، چائے، اس پر ہماری رائے

دو دوست تھے دونوں کو شاعری پڑھنے اور سننے کا بہت شوق تھا ، پھر دیکھتے ہی دیکھتے ایک دوست کو شعر کہنے کی بیماری لگ گئی، دوسرے نے کئی دن برداشت کیا اور آخر کار گہری دوستی ختم ہوگئی۔

خدارا کسی کا سکون نہ برباد کیجیے

تحریر: محمد طیب طاہر چغتائی، فیصل آباد ”دلخراش سوالات! دنیا میں جتنے بڑے نام ہیں۔ چاہے دنیاوی اعتبار سے ہوں یا دینی لحاظ سے نظر آتے ہیں۔ جنہیں ہم کامیاب گردانتے ہیں۔ اُن میں سے بیشتر کہ اندر ایک صفت

مرزا صاحباں

تحریر: مونا شہزاد ،کینیڈا ڈھولک پر تھاپ پڑ رہی تھی، حلوائی مٹھائیاں تیار کر رہے تھے ، دلہن مایوں کے زرد جوڑے میں ملبوس اپنے گجرے کے پھول بے پروائی سے نوچ رہی تھی، باہر حویلی کے دالان میں خوب

گڑیوں کا گاؤں

تحریر: وقاص احمد کچھ روز قبل اوکاڑہ کے نواحی گاؤں ٹھٹھہ غلام کا دھیروکہ جانے کا اتفاق ہوا۔یہ دورہ خاص اہمیت کا حامل تھا کیونکہ اس دورے کا اہتمام پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ برائے جرمن زبان و ادب کی طرف

گھی شکر اور مکھن لگانا (طنزومزاح) تحریر ؛مراد علی شاہدؔ دوحہ قطر

لسی،مکھن اور گھی شکر کا پنجاب میں اتنا ہی احترام کیا جاتا ہے جتنا کہ ہندو دھرم میں گاؤ ماتا یا دھرتی ماتا کا کیا جاتا ہے،ہمارے ہاں مکھن کھانے اور’’ لگانے‘‘کے علاوہ دیہی علاقوں میں بچوں کا نام بھی’’

شہزادی – ڈاکٹرمیمونہ حمزہ

وہ بچوں کو سکول بھیج کر سانس بھی نہ لینے پائی تھی کہ دروازے پر ہونے والی بیل نے اسے ایک مرتبہ پھر گیٹ کی جانب بھاگنے پر مجبور کر دیا، آنے والا نہایت ہی بے صبرا تھا، یا پھر

زعم زدہ نفس ۔۔۔ عاصمہ عزیز

’’ تایا ابا آپ یہاں۔۔۔‘‘ ایدھی سنٹر کے ہال نما کمرے کے وسط میں وہیل چیئر پر آنکھیں موندیں بیٹھے ،اپنے اداس اور وحشت ناک دنوں میں حسین یادوں کی پیوندکاری کرتے ہوئے انھیں ایک جانی پہچانی نسوانی آواز سنائی

ھنگوکی ڈائری ۔۔۔ محمد عظیم شاہ بخاری

کچھ ماہ پہلے خیبرپختونخواہ کے جنوبی اضلاع میں جانے کا موقع مِلا۔ شمالی پختونخواہ تواب اپنے گھر جیسا لگتا ہے لیکن جنوبی علاقوں کی طرف جانے کا یہ پہلا اِتفاق تھا۔ ہمارا سفر پِشاور سے دوآبہ براستہ بڈھ بیر، متانی،

سالا ایک مچھر ۔۔۔ مراد علی شاہد

روائت ہے کہ ایک گائوں میں مچھروں کی بکثرت ِ پیداوار اور لوگوں کو اکثریت سے مچھروں کا’’ ٹیکہ‘‘ لگانے کی وجہ سے گائوں کے لوگ بہت پریشان تھے۔گائوں کے مکھیا نے پنجائت بلا کر پنجوں سے مشورہ کیا کہ

عید بنا بابل۔۔۔رافعہ مستور صدیقی

میں اگر بولوں تو دم گھٹتا ہے۔ پر چپ رہنا بھی تو مشکل ہے۔ طویل خیالات پر مختصر الفاظ کے پہناوے پورے نہیں آتے۔ خیالات کو الفاظ دینا ضروری ہے۔ کاغذ پر دکھ اتارنا بھی تو مشکل ہے۔ تخیل کو