افسانے

گھی شکر اور مکھن لگانا (طنزومزاح) تحریر ؛مراد علی شاہدؔ دوحہ قطر

لسی،مکھن اور گھی شکر کا پنجاب میں اتنا ہی احترام کیا جاتا ہے جتنا کہ ہندو دھرم میں گاؤ ماتا یا دھرتی ماتا کا کیا جاتا ہے،ہمارے ہاں مکھن کھانے اور’’ لگانے‘‘کے علاوہ دیہی علاقوں میں بچوں کا نام بھی’’

شہزادی – ڈاکٹرمیمونہ حمزہ

وہ بچوں کو سکول بھیج کر سانس بھی نہ لینے پائی تھی کہ دروازے پر ہونے والی بیل نے اسے ایک مرتبہ پھر گیٹ کی جانب بھاگنے پر مجبور کر دیا، آنے والا نہایت ہی بے صبرا تھا، یا پھر

زعم زدہ نفس ۔۔۔ عاصمہ عزیز

’’ تایا ابا آپ یہاں۔۔۔‘‘ ایدھی سنٹر کے ہال نما کمرے کے وسط میں وہیل چیئر پر آنکھیں موندیں بیٹھے ،اپنے اداس اور وحشت ناک دنوں میں حسین یادوں کی پیوندکاری کرتے ہوئے انھیں ایک جانی پہچانی نسوانی آواز سنائی

ھنگوکی ڈائری ۔۔۔ محمد عظیم شاہ بخاری

کچھ ماہ پہلے خیبرپختونخواہ کے جنوبی اضلاع میں جانے کا موقع مِلا۔ شمالی پختونخواہ تواب اپنے گھر جیسا لگتا ہے لیکن جنوبی علاقوں کی طرف جانے کا یہ پہلا اِتفاق تھا۔ ہمارا سفر پِشاور سے دوآبہ براستہ بڈھ بیر، متانی،

سالا ایک مچھر ۔۔۔ مراد علی شاہد

روائت ہے کہ ایک گائوں میں مچھروں کی بکثرت ِ پیداوار اور لوگوں کو اکثریت سے مچھروں کا’’ ٹیکہ‘‘ لگانے کی وجہ سے گائوں کے لوگ بہت پریشان تھے۔گائوں کے مکھیا نے پنجائت بلا کر پنجوں سے مشورہ کیا کہ

عید بنا بابل۔۔۔رافعہ مستور صدیقی

میں اگر بولوں تو دم گھٹتا ہے۔ پر چپ رہنا بھی تو مشکل ہے۔ طویل خیالات پر مختصر الفاظ کے پہناوے پورے نہیں آتے۔ خیالات کو الفاظ دینا ضروری ہے۔ کاغذ پر دکھ اتارنا بھی تو مشکل ہے۔ تخیل کو

تبصرہ کتاب تیری یاد کے جگنو ۔ تبصرہ ۔ وسیم سہیل

جب کوئی یادوں کی بال سے بھی باریک پینسل کو چاند کی چاندنی میں ڈبو کر رات کی کالی چادر پر کسی کا چہرا بناتا ہے تو تخیل میں بیٹھے الفاظ اس چہرے کا طواف کرنے لگ جاتے ہیں۔ جب

قطر کرکٹ ایسوسی ایشن کے زیرِانتظام u-19 بین المدارس کرکٹ ٹورنامنٹ رپورٹ؛مراد علی شاہدؔ دوحہ قطر

خلیجی ممالک چند سال قبل صرف فٹ بال کے دیوانے خیال کئے جاتے تھے۔تاہم آج کل فٹ بال کے ساتھ ساتھ کرکٹ میں بھی ان ممالک کی دلچسپی روز افزوں بڑھتی جا رہی ہے۔خاص کر قطر میں کرکٹ کا جنون

میں ثناء خوان ہونے کے ناطے تحریک لبیک یا رسو ل اللہ میں کٹنے کے لیے بھی تیار ہوں.حافظہ صاءمہ لاروش نعت خواں

میں ثنا خواں ہونے کی حثیت سے یہ سمجھتی ہوں کے اگر نبی کے نام پر کٹ مرنے کا جذبہ نہ ہو تو ہم زندہ رہتے ہوئے بھی مرگئے اور اُن کے نام پر مرگئے, تو مر کے بھی زندہ

کہانی عقل کی

کہانی ہے تو پرانی پر ہے صدا بہار۔خاص کر آج کل کے لئے تو اس کو آپ انگریزی والا ستائش کا جملہ اے ون کہہ سکتے ہیں ۔لیکن ایک بات کا وسوسہ ہے کہ پتہ نہیں کہ آپ اس کو