کالم

مودی کے ہاتھوں جمہوریت کی پامالی- نذیر ناجی

ہندوستان کو انگریزوں کے تسلط و استبداد سے آزاد ہوئے ایک طویل عرصہ گزر چکا ہے۔ اس دوران ہندوستانی مسلمانوں نے اتار چڑھائو کی کئی داستانیں دیکھی ہیں۔ ان گنت مصائب و آلام سے دوچار ہوئے ہیں۔ تعصب ا ور

گورے اور کالے- ھارون الرشید

مساوات آدمیت کے پیغمبر جناب عیسیٰ علیہ السلام کیبات بھی وہ نہیں سنتے ہیں۔ ان کی آنکھیں وہ نیلی اور جلدگوری چٹی دکھاتے ہیں۔ یہ دہشت گردی کا کوئی عام سا واقعہ نہیں۔ واقعہ ایک شہر میں ہوا مگر تاریخ

ذہن کے تالے نہ کھلیں تو کچھ نہیں ہو سکتا! ایاز امیر

عورت مارچ کیا ہوا اِس قلعہ نُما ملک کی بنیادیں ہل گئیں۔ پلے کارڈوں پہ چند نعرے درج تھے اور محافظِ اخلاقیات وہ نہ سہہ سکے۔ اَب تک بحث چل رہی ہے کہ یہ کیا کہہ دیا، وہ کیا لکھ

نواز شریف ابھی زندہ ہیں! خورشید ندیم

نواز شریف ابھی زندہ ہیں! مظلومیت اور عزیمت… کسی موڑ پر اگر ہم قدم ہو جائیں تو تاریخ کی گواہی یہ ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت ان کا سامنا نہیں کر سکتی۔ امامِ عزیمت احمد ابن حنبل جیل سے

زندگی اے زندگی- ھارون الرشید

کامرانی دانش اور لچک سے ہوتی ہے۔ تن کر چٹانیں کھڑی ہوتی ہیں‘ آدمی نہیں۔ آدمی کو کامرانی کے لیے آدمی بننا پڑتا ہے۔ زندگی اے زندگی‘ روشنی اے روشنی‘ آدمی اے آدمی! اب بالآخر خان کو احساس ہوا کہ

کیا امن‘عمران خان کے دور میں ہوا؟ نذیر ناجی

افغانستان سے امریکی افواج کے مکمل انخلاء کا وقت قریب ہے۔ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان کے سینئررہنماملا عبدالغنی برادر کے امریکی حکام سے مذاکرات جاری ہیں۔ان طویل مدتی مذاکرات کا پانچواں دور اختتام پذیر ہو چکا ہے ۔

ہماری جامعات کا منفرد حال ۔۔۔ ایاز امیر

یہ باہر کی یونیورسٹیوںکا پرابلم ہو گا کہ اُن کا تعلیمی معیار کیا ہے اور اُن میں پڑھنے والوں نے اپنے مخصوص شعبوں میں کون سا مقام حاصل کیا ہے۔ یہ دردِ سر ہارورڈ (Harvard)، ییل (Yale)، پرنسٹن (Princeton)، کیمبرج

لسانی احساسِ برتری یا احساسِ کمتری ؟وسعت اللہ خان

سمجھ میں نہیں آتا کہ خوف کس بات کا ہے؟ اگر علاقائی زبانیں اتنی ترقی یافتہ ہیں کہ وہ اپنا ادب اور میڈیا پیدا کر رہی ہیں تو پھر انھیں قومی زبان کا درجہ کیوں نہیں ملنا چاہیے۔جب بھی اس

کچھ احوال مغربی سرحد کا۔۔۔ سلیم صافی

ہوشیار لوگ اپنے دوست اور بے وقوف اپنے دشمن بڑھانے کے ماہر ہوتے ہیں۔ جنگ اور کشیدگی کے دنوں میں تو خصوصی طور پر عقلمند لوگ کوشش کرتے ہیں کہ اصل دشمن سے نمٹنے کیلئے دور کے دشمنوں کو کم

اٹھو وگرنہ حشر نہ ہو گا پھر کبھی۔۔۔ ہارون الرشید

خیالات کی وادیوں میں بھٹکتے اور پھول چنتے شاعر ازل سے دل بہلانے میں لگے رہتے ہیں۔ ابد تک بہلاتے رہیں گے۔ زندگی کی بساط پہ یہی ان کا کردار ہے… مگر حکمران؟ حکمران ذرا سی بے توجہی کے متحمل