کالم

تہذیب کے رشتے- عبدالقادر حسن

گزشتہ ہفتے وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے ایران کا دورہ کیا جہاں پر اس سادہ مزاج شخص نے کچھ ایسی باتیں بھی کہہ دیں جو ہمارے میڈیا کی پکڑ میں آ گئیں اور پھر جس کے منہ میں جو

عوام دوست سلطان اور سیاسی اشرافیہ- حسن نثار

ہمارا بھی جواب نہیں، پوری دنیا میں کوئی’’ ہم سا ہو تو سامنے آئے‘‘کرپٹ ہم خود ہیںکرپشن ختم کرنے کے لئے چین سے’’ٹیوشن‘‘ لیتے ہیں۔گند ہم خود ڈالتے ہیں۔صفائی کا ٹھیکہ ترکی کو دیتے ہیں۔ماحولیات کا ستیاناس خود کرتے ہیں،

سب کچھ جھوٹ ہے، جھوٹ کے سواکچھ نہیں۔۔۔ سعد اللہ جان برق

اور یہ ہم کسی گیتا، سیتا یا ببیتا، نمیتا پر ہاتھ رکھے بلکہ نظر ڈالے بغیر کہتے ہیں کیوں کہ گیتا، سیتا ، ببیتا اور نمیتا بلکہ کسی بھی خاتون پر ہاتھ رکھ کر جو کچھ بولا جاتا ہے وہ

شہداء کے ساتھ غداری۔۔۔حامد میر

یہ ایک جج کا تعزیتی خط ہے۔ اس خط میں جج نے ایک خودکش حملے میں مارے جانے والے وکلاء کے ورثا سے تعزیت کی تھی۔ اس تعزیتی خط کے کچھ الفاظ پر غور کریں۔ جج نے لکھا ’’قاتلوں کو

جلیانوالہ باغ اور پہلوان کی ریوڑی۔۔۔وسعت اللہ خان

پہلی عالمی جنگ میں لگ بھگ تیرہ لاکھ ہندوستانی فوجی سلطنتِ برطانیہ عظمیٰ کی سربلندی کے لیے یورپ ، افریقہ اور مشرقِ وسطی کے محاذوں پر لڑے۔تقریباً ایک لاکھ زخمی اور پچھتر ہزار جاں بحق ہوئے۔محاذ سے لوٹنے والے بہت

چیئرنگ کراس، شاہدہ منی اور میگھا۔۔مظہر بر لاس.

اس مرتبہ لاہور میں سیاسی ملاقاتوں کے علاوہ دو اور تقریبات میں شرکت کا موقع ملا۔ پہلی تقریب مال روڈ پر الحمرا ہال میں تھی جبکہ دوسری تقریب الحمرا کلچرل کمپلیکس، قذافی اسٹیڈیم کے پاس تھی۔ پہلی تقریر ادبی اور

جیک رسل۔۔۔جاوید چوہدری۔

’’دنیا آپ کو خطرناک سمجھتی ہے‘ آپ جب تک یہ حقیقت نہیں مانیں گے آپ پھنستے چلے جائیں گے‘‘ فضا میں سگار کی بھینی بھینی خوشبو پھیل رہی تھی‘ وہ ناک اور منہ دونوں سے دھواں اگل رہے تھے‘ مجھے

سیاسی ٹٹیریاں اور ’’ٹی ٹیوں‘‘ کا حساب۔۔حسن نثار.

میرے ساتھ دلچسپ آنکھ مچولی جاری ہے۔ میں نیوٹرل ہو کر مکمل غیر جانبداری کے ساتھ پی ٹی آئی کے حوالہ سے حق تنقید ادا کرنا چاہتا ہوں لیکن پیپلز پارٹی، ن لیگ اور حضرت مولانا فضل الرحمٰن ٹائپ لوگ

پاکستان میں کامیاب سیاست اور اُم نصرت فائونڈیشن- ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

وزیر پٹرولیم غلام سرور اپنی ڈگری کے جعلی ہونے کے کیس سے بری ہو گئے ہیں۔ اینٹی کرپشن نے ان کے خلاف مقدمہ جھوٹا قرار دیدیا۔ اینٹی کرپشن کے سینئر جج نے انہیں بری کیا ہے۔ اب جھوٹا مقدمہ کرنے

معلّق- ھارون الرشید

کاش کوئی اسے بتا سکے کہ بہادری فقط برہمی اور چیخ و پکار رہ جاتی ہے، راستہ اگر معلوم نہ ہو۔ آدمی اگر یکسو نہ ہو تو آخر میں فقط بیچارگی۔ جو بھی فیصلہ اسے کرنا ہو، کر ڈالے، ہوا