کالم

ہمارا اسامہ چلا گیا مگر۔۔۔مظہر بر لاس

اگرچہ اسلام آباد میں ’’جگتو فرنٹ‘‘ کا اجلاس ہوا ہے مگر آج مجھے سیاست سے ہٹ کر لکھنا ہے۔ مجھے اسامہ قمر کی یاد رہ رہ کے آرہی ہے، یہ گیارہواں روزہ تھا، جمعہ کی شام تھی، کسی نے آکر

مہنگائی اپنی جگہ، باقی کاموں سے کس نے روکا ہے۔۔۔ایاز امیر

یہ آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ پولیس کے بارے میں کچھ نہیں کرنا؟ تعلیمی اصلاحات سے کسی نے منع کیا ہے؟ ہسپتال ایسے ہی رہیں یہ کسی کا فرمان ہے؟ مانا کہ معاشی حالات خراب ہیں، ورثے میں

کیا اپوزیشن کا اتحاد حقیقی خطرہ بن سکتا ہے۔۔۔سلیم صافی

پہلے باری باری اپوزیشن جماعتوں کی پوزیشن سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔مسلم لیگ(ن) کی پوزیشن :انتخابات تک میاں شہباز شریف اور میاں نواز شریف کے متضاد بیانیے ساتھ ساتھ چلتے رہے۔ دو کشتیوں پر سواری کی اِس کوشش نے اِس

اگلا شکار شبر زیدی۔۔۔جاوید چوہدری

’’ہماری معیشت اب ہمارے ہاتھ میں نہیں رہی‘ یہ آئی ایم ایف کے پاس چلی گئی ہے‘ یہ اگر چاہیں گے تو ہم سانس لیں گے‘ یہ نہیں چاہیں گے تو ہم پھڑک کر مر جائیں گے‘‘ سگار کی بو

ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے۔۔۔سلیم صافی

پارٹی ختم نہیں بلکہ ابھی شروع ہوئی ہے۔ ایک پنڈورا باکس ابھی سینیٹ میں کھلے گا اور دوسرا پھر قبائلی اضلاع کے اندر۔ چھبیسویں آئینی ترمیم نے ابھی سینیٹ سے منظور ہونا ہے جہاں پہلے سے بلوچستان کے سینیٹرز نے

عوام بھگت رہے ہیں، خواص کی باری کب۔۔۔حسن نثار

مجھے اک بہت ہی عزیز دوست نے یہ پیغام بھیجا ہے۔ خواص اور عوام اس پر غور فرمائیں۔ ممکن ہو تو خستہ حال معاشی کشتی کے نئے ملاح بھی اس کے بارے میں سوچیں۔ پیغام کچھ یوں ہے۔’’ایک غیر ملکی

جب انقلاب کا بھوت سر پہ سوار تھا۔۔۔ایاز امیر

ایک وقت تھا جب اِس موضوع کو یا یوں کہیے اِس خواب کو یعنی انقلاب کے خواب کو ہم بڑی سنجیدگی سے لیتے تھے۔ سمجھتے تھے کہ بس کوشش درکار ہے اور صحیح سوچ رکھنے والوں کا اجتماع۔ کوشش اور

زرداری صاحب کے خفیہ ارادوں کا علم نہیں- ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

قومی کتاب میلے میں صدر مملکت عارف علوی نے خوب خطاب کیا۔ میں ابھی اسلام آباد میں ہوں اور صدر علوی نے نظریہ پاکستان ٹرسٹ لاہور میں خطاب کر دیا انہوں نے کہا کہ بھارتی مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ

پیسہ نہ پلے، ہار گھناں کہ چھلے! روف کلاسرا

پھر وہی ہم دوستوں کی رات گئے محفل اور ملکی حالات کا رونا۔ ہم بیٹھتے تو گپ شپ کیلئے ہیں لیکن بات پھر ملکی حالات پر پہنچ جاتی ہے۔ ارشد شریف، راجہ عدیل، خاور گھمن، علی، ضمیر حیدر مستقل‘ تو

بیتے ہوئے دن کچھ ایسے ہیں- ھارون الرشید

آرزو ہے کہ ڈیوڈ یہاں آئے، گھومے پھرے اور دیکھے کہ پاکستانی مسلمان کیسی محبت سری لنکا والوں سے کرتے ہیں۔ گو میں رہا رہینِ ستم ہائے روزگار لیکن ترے خیال سے غافل نہیں رہا سری لنکا میں بیتے دل