کالم

بچھڑ گئے!راؤ منظر حیات

کیابہترین کتاب ہے۔فرخ کیونکہ عمرمیں مجھ سے بڑے ہیں۔لہٰذافرخ صاحب لکھنامقدم ہے۔ شاید برادرم فرخ کہنازیادہ مناسب ہے۔عرصے درازسے فوج سے ریٹائر ہونے والاکرنل زیڈآئی فرخ۔ان سے محض چند ملاقاتیں ہیں۔واجبی سی۔دوچارمباحثوں میں اکٹھے جانے کااتفاق۔ذہن میں ان کے متعلق

مولانے۔۔۔ مفتی منیب الرحمن

نام لکھنے کی ضرورت نہیں ‘ آپ خود سمجھ جائیں گے کہ اتنا ”شیریں دہن‘‘ معروف دانشورکون ہے‘ ان سے کسی مولانا کے حوالے سے سوال ہواتو وہ بھرے بیٹھے تھے ‘ چھلک پڑے۔ کافی عرصے سے ٹیلی ویژن کے

لیڈر اور فقیر۔۔۔ عبدالقادر حسن

سیاسی لیڈروں اور عوام کے تعلق کے بارے میں لکھتے لکھتے عمر بیت گئی وقتاً فوقتاً اس بات کا اظہار کرتے رہے کہ ایک سیاستدان اور ایک عام آدمی کے درمیان تعلقات کی نوعیت کیا ہوتی ہے دونوں کا اگرچہ

وہ یوں بھی تھا امیر وہ یوں بھی غریب تھا۔۔۔۔ وسعت اللہ خان

جتنی کہانیاں امیر لوگ اپنے بارے میں مشہور کرتے ہیں۔ان سے دس گنا کہانیاں غریب لوگ ان امیروں کے بارے میں مشہور کر دیتے ہیں۔جیسے یہی افسانہ کہ بل گیٹس اگر سڑک پر جا رہا ہو اور اس کے بٹوے

آئی ایم ایف کا باپ بھی آ جائے۔۔۔ جاوید چوہدری

میں نپولین بونا پارٹ کا فین ہوں‘ میں نے 2005ء میں نپولین کا پیچھا شروع کیا‘ یہ کورسیکا (Corsica) آئی لینڈ میں اجیکسیو(Ajaccio) میں پیدا ہوا تھا‘ میں پیرس سے فلائٹ لے کر وہاں پہنچا اور دو دن بونا پارٹ

کچھ نئے تحقیقی زاویے۔۔۔ حامد میر

تحقیق ایک محنت طلب کام ہے۔ تحقیق کا حسن یہ ہوتا ہے کہ اس میں کسی بھی قسم کا تعصب نہیں بلکہ صرف حقائق نظر آئیں۔ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کی شخصیت اور کردار پر بہت سی کتابیں لکھی جا چکی

پانی آنکھ میں بھر کر لایا جا سکتا ہے ۔۔۔ بابر اعوان

کتاب وزیر اعظم کی میز پر رکھی تھی۔ سینٹر ٹیبل کی اس نکڑ پر جہاں عمران خان بیٹھے تھے۔ کتاب کا سر ورق دیکھ کر مجھے خوش گوار حیرت ہوئی۔ جدید عرب سلطنت کے بانی کی آٹو بائیو گرافی کا

عقیدہ اور عقیدت اور شکر گڑھ- ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

شکر گڑھ نارروال سے سب سے پہلے معروف شاعر ادیب نے مجھے فون کیا۔ وہ شکر گڑھ سے نوائے وقت کا نمائندہ بھی ہے۔ مجھ سے بہت پہلے میرے بیٹے نے پوچھا تھا کہ شکرگڑھ میں شکر بہت ہوتی ہے۔

گڈ گورننس کیلئے پولیس کی ’’خودمختاری‘‘ کی اہمیت؟ نصرت جاوید

مڈل کلاس کے پڑھے لکھے لوگوں کی اکثریت نے اپنے ذہنوں میں ’’گڈگورننس‘‘ کے چند معیار طے کررکھے ہیں۔ پولیس کی ’’خودمختاری‘‘ اس ضمن میں اہم ترین شمار ہوتی ہے۔ ہمیں یقین کی حد تک گماں ہے کہ پولیس میں

Social Non Movements- خورشید ندیم

کیا پاکستانی معاشرہ ایک بے چہرہ سماجی تبدیلی کے دھانے پر کھڑا ہے؟ تبدیلی کے اس عمل کے لیے انگریزی میں ‘سوشل نان موومنٹس‘ (Social Non Movements) کی اصطلاح رائج ہے جو غالباً سب سے پہلے سماجیات کے ایرانی نژاد