کالم

دریائے سندھ کے کنارے۔۔۔ایاز امیر

ہمارے لارنس کالج کے پرانے دوست سردار سعیداللہ خان نیازی کا ڈیرہ میانوالی سے تقریباً دس کلومیٹر دور دریائے سندھ کے کنارے پہ واقع ہے۔ نہایت پُر فضا اور خوبصورت جگہ ہے۔ کھیتی باڑی وسیع ہے، مالٹے اور کینو کے

صفائی سے ’’ہاتھ کی صفائی‘‘ تک۔۔۔حسن نثار

المناک بھی ہے، طربناک بھی، مضحکہ خیز بھی، دلچسپ اور دردناک بھی کہ اک دنیا پاکستانیوں کو صاف ستھرا رہنے، صفائی اختیار کرنے کی تلقین کر رہی ہے اور اس میں بہت سے غیرملکی خواتین و حضرات بھی شامل ہیں۔ان

خسارے کے سوداگر – جاوید چوہدری

اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے کسی شخص کوکسی ایسے بزرگ سے ملا دیا جو جس پتھر پر انگلی رکھ دیتا تھا وہ سونے کا بن جاتا تھا‘ وہ شخص اس بزرگ کے پیچھے پیچھے چل پڑا‘بزرگ نے اس کی

دلی پھر برباد ہو گئی!۔۔۔روٗف کلاسرا

ہو سکتا ہے آپ کو عجیب سا لگے کہ مجھے دلی میں موجودہ قتل و غارت اور بربادی پر حیرانی نہیں ہوئی لیکن انسان ہونے کے ناتے بہت افسوس اور دکھ ہے ۔ یہ دکھ پہلی دفعہ نہیں ہو رہا

صفائی سے ’’ہاتھ کی صفائی‘‘ تک۔۔۔حسن نثار

المناک بھی ہے، طربناک بھی، مضحکہ خیز بھی، دلچسپ اور دردناک بھی کہ اک دنیا پاکستانیوں کو صاف ستھرا رہنے، صفائی اختیار کرنے کی تلقین کر رہی ہے اور اس میں بہت سے غیرملکی خواتین و حضرات بھی شامل ہیں۔ان

مینڈک جیسی زندگی۔۔۔جاوید چوہدری

آپ نے ابن بطوطہ اور مارکو پولو کا نام سنا ہو گا‘ یہ کون تھے؟ یہ عام سے بھی کم تر لوگ تھے‘ ابن بطوطہ طنجہ کا منحنی سیاہ فام شخص تھا‘ ایک کمرے کے مکان میں رہتا تھا‘ تعلیم

چمچہ ازم ۔۔۔تحریر: مراد علی شاہد

اپنے باس کے دفتر میں ایک میٹنگ میں تھا کہ میری ایک تجویز کے جواب میں وہ اچانک گویا ہوئے کہ مسٹر مرادI Love Spoonism ذرا حیرت ہوئی کہ سوشلزم،کمیونزم،فاشزم،بدھ ازم اور نیپوٹزم تو سن اور پڑھ رکھا تھا یہ

دلی پھر برباد ہو گئی!۔۔۔روٗف کلاسرا

ہو سکتا ہے آپ کو عجیب سا لگے کہ مجھے دلی میں موجودہ قتل و غارت اور بربادی پر حیرانی نہیں ہوئی لیکن انسان ہونے کے ناتے بہت افسوس اور دکھ ہے ۔ یہ دکھ پہلی دفعہ نہیں ہو رہا

سوری رانگ نمبر۔۔۔ تحریر: جاوید چوہدری

سکھ نے دوسرے شہر سے اپنے گھر فون کیا‘ نوکر نے فون اٹھایا‘ سکھ کو ملازم کی آواز اجنبی سی محسوس ہوئی‘ اس نے پوچھا تم کون ہو؟ نوکر نے اپنا نام بتا دیا‘ سکھ نے کہا ’’میں نے تو

عمران خان اب تک ناکام کیوں ہے۔۔۔ تحریر: ہارون الرشید

ساری خرابی تجزیے کی ہوتی ہے ۔ تجزیہ ناقص ہوتو عمل بے ثمر ۔ اپنی ذات سے اوپر اٹھنا ہوتا ہے ۔ وہ نہیں اٹھ سکتا ۔ اب تک نہیں اٹھ سکا ۔ اللہ اس کا حامی و ناصر ہو