کالم

روگ- ھارون الرشید

ہر آدمی اور ہر گروہ کی قدر و قیمت اس کے اپنے ہنر کے مطابق ہوتی ہے۔ یہ اٹل اصول ہے ۔ بے قابو ‘ بے مہار خواہشات میں‘ ان کی وحشت میں اکثر یہ بھلا دیا جاتا ہے ‘

پاسبانِ عقل بمقابلہ ’’پاسبانِ بے عقل!‘‘ عطا ء الحق قاسمی

ہمارے ہاں بہت سے ’’مریض‘‘ ایسے ہیں جو زندگی ڈاکٹر کے دئیے ہوئے شیڈول کے عین مطابق گزارتے ہوئے اور قدرت کے مرتب کئے ہوئے شیڈول کے مطابق انتقال کر جاتے ہیں، مگر کچھ اللہ کے بے نیاز بندے ایسے

مفید معلومات- ڈاکٹر عبدالقدیر خان

(1)چند دن پیشتر ایک نہایت پیارے دوست، پُرخلوص، ہمدرد، نمازی، متقی اور مخیر سے گپ شپ چل رہی تھی، وہ کچھ پریشان تھے۔ میں نے وجہ پوچھی تو کہا کہ ملک کے حالات سے پریشان ہوں۔ مسجد جاتا ہوں تو

عوام دشمنی میں بدلتی سیاسی دشمنی- انصار عباسی

سیاست کو دشمنی میں نہیں بدلنا چاہئے اور وہ بھی اس حد تک کہ محض اپنے مخالف کو نیچا دکھانے کے لیے قومی نوعیت کے اہم ترین پروجیکٹس کو نقصان پہنچایا جائے، صرف اس لیے کہ وہ مخالفین نے شروع

چھوٹے سر اور بڑے کانوں والی مخلوق! عطا ء الحق قاسمی

کئی لوگ کانوں کے بہت کچے ہوتے ہیں، جو کوئی اُن کے کان میں کچھ کہہ دیتا ہے اُس پر فوراً ایمان لے آتے ہیں۔ صرف ایمان ہی نہیں لاتے بلکہ اُس کے مطابق لائحہ عمل بھی مرتب کر لیتے

مودی کے ہاتھوں جمہوریت کی پامالی- نذیر ناجی

ہندوستان کو انگریزوں کے تسلط و استبداد سے آزاد ہوئے ایک طویل عرصہ گزر چکا ہے۔ اس دوران ہندوستانی مسلمانوں نے اتار چڑھائو کی کئی داستانیں دیکھی ہیں۔ ان گنت مصائب و آلام سے دوچار ہوئے ہیں۔ تعصب ا ور

گورے اور کالے- ھارون الرشید

مساوات آدمیت کے پیغمبر جناب عیسیٰ علیہ السلام کیبات بھی وہ نہیں سنتے ہیں۔ ان کی آنکھیں وہ نیلی اور جلدگوری چٹی دکھاتے ہیں۔ یہ دہشت گردی کا کوئی عام سا واقعہ نہیں۔ واقعہ ایک شہر میں ہوا مگر تاریخ

ذہن کے تالے نہ کھلیں تو کچھ نہیں ہو سکتا! ایاز امیر

عورت مارچ کیا ہوا اِس قلعہ نُما ملک کی بنیادیں ہل گئیں۔ پلے کارڈوں پہ چند نعرے درج تھے اور محافظِ اخلاقیات وہ نہ سہہ سکے۔ اَب تک بحث چل رہی ہے کہ یہ کیا کہہ دیا، وہ کیا لکھ

نواز شریف ابھی زندہ ہیں! خورشید ندیم

نواز شریف ابھی زندہ ہیں! مظلومیت اور عزیمت… کسی موڑ پر اگر ہم قدم ہو جائیں تو تاریخ کی گواہی یہ ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت ان کا سامنا نہیں کر سکتی۔ امامِ عزیمت احمد ابن حنبل جیل سے

زندگی اے زندگی- ھارون الرشید

کامرانی دانش اور لچک سے ہوتی ہے۔ تن کر چٹانیں کھڑی ہوتی ہیں‘ آدمی نہیں۔ آدمی کو کامرانی کے لیے آدمی بننا پڑتا ہے۔ زندگی اے زندگی‘ روشنی اے روشنی‘ آدمی اے آدمی! اب بالآخر خان کو احساس ہوا کہ