کالم

چور کے ہاتھ اور وزیر کی زبان کاٹ دو

’’قائم مقام‘‘ بادشاہ کمہار نے تمام لوگوں کی باتیں سن کر ملزم کے ہاتھ کاٹنے کی سزا سنا دی سزا سنتے ہی کھسر پھسر شروع ہو گئی ایک وزیر اٹھا اس نے کمہار سے کہا کہ تم اس کیس کو

کرونا سے لڑنا نہیں بچنا ہے۔۔۔

اس صدی کے قابل ذکر واقعات میں سے ایک واقعہ یقینی طور پرکرونا کی وبا بھی ہوگی جو اچانک نمودار ہوئی اور چشم زدن میں ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ میرا نہیں خیال کہ دنیا کا کوئی

اہم ترین مسئلہ ، کرونا یا انتخابی اصلاحات؟

انگریزی کا ایک ناول نگار چند ماہ قبل فوت ہوا ہے۔اصل نام اس کا ڈیوڈ کارن ول David Cornwellتھا۔ کتابیں لکھنے کے لئے مگر اس نے John Le Carreکا نام استعمال کیا۔ قلمی نام سے لکھنا اس کی مجبوری اس

صرف نام کے مسلمان

کہتے ہیں سوچوہے کھاکربلی حج کوچلی۔بلی حج کوگئی یانہ۔۔؟ لیکن اس زمین پررینگنے والے یہ بلی نماانسان سود،جھوٹ،فریب،دھوکہ،غریبوں کی حق تلفی اورمظلوموں کی مظلومیت کے ہزاروں نہیں لاکھوں اورکروڑوں چوہے کھاکرحج کوضرورگئے۔ہمارارب بہت رحیم وکریم ہے۔اس رب کی رحمت اتنی

شوگر مافیا اور کرونا

ایک مرتبہ افیون کے تمام ٹھیکے کسی مذہبی تقریب کی بناء پر بند تھے ۔ ایک افیونی اس روز افیون کی تلاش میں کئی میل کی مسافت طے کر کے ایک گائوں پہنچا۔ لیکن وہاں بھی ٹھیکہ بند تھا۔ اسے

وی۔ آئی ۔پی کلچر کبھی ختم ہوگا؟

گزشتہ کئی دہائیوں سے تمام سیاسی پارٹیاں عوام کو جو سبز باغ دکھاتی ہیں ان میں سے ایک اور سب سے اہم یہ وعدہ ہوتا ہے کہ ہم وی۔آئی۔پی کلچر کا خاتمہ کر دیں گے۔ معیشت کی بہتری، کشکول توڑ

مہنگی بجلی کے معاہدوں کا ظلم!!!!!

میاں نواز شریف اور ان کی جماعت کے اراکین بڑھ چڑھ کر سی پیک، چائنہ کی سرمایہ کاری، آئی پی پیز، اور اس حوالے سے دیگر کاروباری معاہدوں پر بڑھ چڑھ کر باتیں کرتے ہیں۔ وہ سوشل میڈیا پر یہ

ڈسکہ سے کراچی

چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی نے کل ایک تیر سے بلے، پتنگ، ڈولفن اور شیر سمیت کئی شکار کیے۔پاکستان کے کرپٹ انتخابی نظام میں ووٹ کے ذریعے کم ہی شکار کیا گیا ہے ۔

ملاقات: ترین گروپ کو کیا ملا؟

عمران حکومت کا تسلسل وقت کی مجبوری بن چکا ہے۔ یہ حقیقت مگر جہانگیر ترین اور ان کی حمایت میں جمع ہونے والے دیکھنے سے انکاری ہیں۔ وزیر اعظم سے منگل کے روز ہوئی ملاقات کے بعد خوش گمانی پر

رمضان المبارک اور انسان سازی( 2)

کالم کی پہلی قسط میں تحریر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے عبادات کو تقوی کے ساتھ جوڑا ہے- قرآن میں ارشاد ربانی ہے کہ روزے اس لئے فرض کئے گئے تاکہ روزے دار تقوی اختیار کریں یعنی نیکی اور پرہیز