کہیں آپ بھی نیند کے حوالے سے ان وہمات کا شکار تو نہیں؟

کیا انسان، کیا جانور یہاں تک کہ نباتات کے لیے بھی ‘نیند’ کو بنیادی ضرورت مانا جاتا ہے اور اسی ‘نیند’ کے حوالے سے لوگوں کے ذہنوں میں بہت سے وہم اور غلط تصورات بھی ہیں جن پر عمل کر کے صحت کے خرابی کے ساتھ ساتھ مزاج کی برہمی بھی شروع ہو جاتی ہے۔

سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ نیند سے جڑے مسائل انسانی زندگی کم کرنے کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔

نیویارک یونیورسٹی کی ایک ٹیم نے انٹرنیٹ پر ‘اچھی نیند’ سے متعلق کیے گئے دعووں کو سائنسی شواہد پر جانچا اور بعد ازاں یہ تحقیق سلِیپ ہیلتھ جرنل میں بھی شائع ہوئی۔

ٹیم کا کہنا ہے کہ نیند سے متعلق وہمات کی تردید سے لوگوں کی جسمانی اور ذہنی صحت بہتر ہونے میں مدد ملے گی۔

واہمہ نمبر 1 : ‘5 گھنٹوں سے کم کی نیند سے بھی گزارا کیا جا سکتا ہے’

یہ سمجھنا کہ 5 گھنٹے سے کم کی نیند سے صحت پر منفی اثرات نہیں ہوتے غلط ہے۔

سابق برطانوی وزیراعظم مارگریٹ تھیچر اپنی رات کی چار گھنٹے کی نیند کے حوالے سے مشہور تھیں۔ جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل بھی کچھ ایسا ہی دعویٰ کرتی ہیں۔

عام لوگ بھی اسی طرح کے دعوے کرتے نظر آتے ہیں تاکہ وہ بستر سے وقت بچا کر اپنے دیگر کاموں کو وقت دے سکیں۔

تاہم سائنسدانوں نے اس وہم کی تردید کی ہے، ان کے مطابق 5 گھنٹوں سے کم کی نیند صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔

تحقیق کرنے والی ٹیم میں شامل ڈاکٹر ربیکا روبنسز کا کہنا ہے کہ مسلسل5 گھنٹوں یا اس سے کم کی نیند صحت پر برے اثرات مرتب کرتی ہے۔ان اثرات میں دل کی بیماریاں جیسے ہارٹ اٹیک اور فالج کا حملہ شامل ہوسکتے ہیں اور ان کی وجہ سے طبعی عمر میں کمی بھی ہوسکتی ہے۔

انھوں نے رات کو کم سے کم 7 یا 8 گھنٹوں کی نیند لینے کی تجویز دی ہے۔

وہم نمبر 2 : ‘سونے سے قبل ٹی وی دیکھنا سکون آور ہوتا ہے’

سونے سے قبل ٹی وی دیکھنے سے دماغ کو سکون ملنے کے دعوے بھی غلط ہیں۔ڈاکٹر روبنسز کا کہنا ہے کہ عموماً ہم سونے سے قبل ٹی وی پر خبریں یا ان سے متعلق تجزیے ہی دیکھتے ہیں۔اس سے نیند میں خلل پیدا ہوتا ہے یا اس کا نتیجہ ایک بے سکون نیند کی صورت میں نکل سکتا ہے۔

ٹی وی اور دیگر جدید آلات کا ایک بڑا تکنیکی مسئلہ یہ ہے کہ ان سے نیلی روشنی کا انعکاس ہوتا ہے جس کی وجہ سے جسم میں ‘سلیپ ہارمون میلاٹونن’ کی پروڈکشن تاخیر سے شروع ہوتی ہے۔

وہم نمبر 3 : ‘اگر آپ سونے کی کوشش کر رہے ہیں تو بستر میں لیٹے رہیں’

اکثر لوگ سونے کی کوشش میں خود کو تھکا لیتے ہیں اور نیند سے پھر بھی دور رہتے ہیں۔تو پھر کرنا کیا چاہیے،سائنسدانوں کا جواب ہے کہ زبردستی سونے کی کوشش ترک کر دیں۔

ڈاکٹر روبنسز کا کہنا ہے ایک صحت مند شخص کو بھی سونے کے لیے کم از کم 15 منٹ درکار ہوتے ہیں لیکن اس سے بھی زائد وقت ہونے کی صورت میں بستر سے نکل آئیں اور خالی ذہن کے ساتھ کچھ ایسا کریں جس سے دماغ نیند کے مدعے سے ہٹ جائے۔

وہم نمبر 4 : ‘الارم میں تاخیری حربوں سے نیند پوری ہوجاتی ہے’

الارم لگا کر پھر اس پر اسنوز کے بٹن دبا دبا کر بستر پر مزید لیٹے رہنے کے تاخیری حربے کون نہیں آزماتا۔لیکن کیا ان کچھ زائد منٹوں سے کوئی فرق پڑتا ہے؟

تحقیق کرنے والی ٹیم کا کہنا ہے کہ جیسے ہی الارم بند ہو بغیر کسی تاخیر کے آپ بستر سے اٹھنے کی کوشش کریں۔

ڈاکٹر روبنسز کا کہنا ہے کہ اسنوز کا بٹن دبا دینے کے بعد بے شک آپ کچھ دیر نیند کے لمحے حاصل کر لیتے ہیں لیکن یہ نیند بہت ہلکی اور بے آرام کر دینے والی ہوتی ہے۔

ان کی تجویز ہے کہ اسنوز کا بٹن دبانے کی بجائے اٹھ کر کمرے کے پردے پیچھے کر دیں اور دن کی روشنی کے سامنے کھڑے ہوجائیں، کوشش کریں کہ تازہ ہوا میں سانس لے سکیں۔ آپ فوری طور پر خود کو تازہ دم محسوس کریں گے۔

وہم نمبر 5 : ‘نیند کے دوران لیے جانے والے خراٹے ہمیشہ بے ضرر ہوتے ہیں’

خراٹے لینا بے ضرر ہو سکتا ہے لیکن ہمیشہ نہیں، یہ نیند کے ایک مسئلے ‘اپنوئیا’ کی نشانی بھی ہوسکتی ہے۔اس سے نیند کے دوران سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہو سکتا ہے۔

اس مسئلے میں مبتلا لوگ بلند فشار خون، دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی یا ہارٹ اٹیک کا شکار ہو سکتے ہیں۔

ڈاکٹر روبنسز کا کہنا ہے کہ رات کی نیند جسمانی ، ذہنی صحت اور مزاج کو بہتر رکھنے کے لیے بہت اہمیت کی حامل ہے لہٰذا رات کے وقت کم سے کم 8 گھنٹے کی پرسکون نیند لینے کی کوشش کرنی چاہیے۔

(Visited 8 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *