کرونا سے لڑنا نہیں بچنا ہے۔۔۔

اس صدی کے قابل ذکر واقعات میں سے ایک واقعہ یقینی طور پرکرونا کی وبا بھی ہوگی جو اچانک نمودار ہوئی اور چشم زدن میں ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ میرا نہیں خیال کہ دنیا کا کوئی بھی ملک ایسا ہوگا جسے کرونا نے متاثر نہ کیا ہو۔ اس مہلک کی تباہ کاریاں صرف انسانی جانوں کی قربانیاں لینے اور لوگوں کو بیمار کرنے تک محدود نہیں بلکہ اس نے معاشی تباہی کا بھی ایک ہولناک سرکل چلایا ہے جو تاحال پوری طاقت کے ساتھ چلے جارہا ہے۔ پوری دنیا میں اس وقت کرونا کیسز کی تعداد 14کروڑ50لاکھ ہے جبکہ تاحال 30لاکھ سے زائد افراد اس کی وجہ سے موت کے منہ میں جاچکے ہیں۔ فی الوقت کرونا کے شدید شکار ممالک کی صف میں سرفہرست امریکہ ہے جہاں کرونا کیسز کی تعداد 32ملین ہے جبکہ 5لاکھ 71ہمار افراد موت کے منہ میں جاچکے ہیں۔ بھارت میں کیسز کی تعداد 16.3 ملین اور مرنے والے افراد کی تعداد ایک لاکھ 87ہزار، برازیل میں 14.2ملین اور تین لاکھ 86ہزار، فرانس میں 5.44ملین اور ایک لاکھ دو ہزار ، برطانیہ میں 4.4ملین اور 36ہزار 672جبکہ پاکستان میں کیسز کی تعداد 7لاکھ 84ہزار اور جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 17 ہزار ہے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں یہ بڑھتی جارہی ہے۔

بدترین کرونا وائرس کی وجہ سے ساری دنیا میں معاشی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئی ہیں جس نے خاص طور پر پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کیلئے کافی زیادہ مشکلات پیدا کی ہیں۔ صنعتیں طویل عرصہ بند رہیں، جی ڈی پی کم اور بے روزگاری بڑھی۔ مجموعی طور پر معیشت کو اربوں ڈالر کا جھٹکا لگا۔ اللہ تعالی کا پاکستان پر ایک خصوصی کرم یہ رہا ہے کہ کرونانے پاکستان پر اس طرح حملہ نہیں کیا جس طرح بہت سے یورپی ممالک جہاں اموات اور بیمار ہونیوالے لوگوں کی تعداد لاکھوں میں چلی گئی۔افسوس کی بات ہے کہ کچھ طبقات اس آفت کے دور میں بھی اپنی تجوریاں بھرنے میں مصروف ہیں۔ ماہرین طب، فارماسسٹ اور لیبارٹری ٹیسٹ والے بہتی گنگا میں ہاتھ دھوکر ارب پتی بننے کو ہیں جبکہ ہر ایسی مشکل میں جان بچانے والی ادویات کی شارٹیج اور بلیک مارکیٹنگ معمول کی بات ہے۔ کچھ روز قبل میں اپنے دوست کی والدہ کیلئے ایک ضروری انجکشن ڈھونڈ رہا تھا جس کی قیمت سات سو روپے ہوگی مگر اوپن مارکیٹ میں یہ ناپید تھا جبکہ بلیک مارکیٹ میں یہ بیس ہزار روپے میں دستیاب تھا۔ اسی طرح ڈاکٹرز کی اکثریت مریضوں کو اب آن لائن مشورے دے رہی ہے اور ہر مرتبہ آن لائن آنے کی بھاری فیس چارج کی جارہی ہے۔ ڈاکٹرز نسخے پر باقاعدہ کمپنی کا نام لکھ رہے تھے اور یہ انتہائی مہنگی ادویات غریب عوام کی پہنچ سے باہر تھیںجس پر ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان نے ایکشن لیکر پابند کیا ہے کہ نسخے پر ادویات کا صرف فارمولا لکھا جائیگا۔ سکول مالکان بھی پیچھے نہیں رہے، اطلاعات کیمطابق انہوں نے اپنے غریب سکیورٹی گارڈز سمیت دیگر عملہ کی تنخواہیں تو نصف کردیں لیکن والدین سے پوری پوری فیس وصول کررہے ہیں حالانکہ سکول طویل عرصہ سے بند ہیں ۔ یہ بھی بہت بڑی ناانصافی ہے ، وفاقی و صوبائی وزرائے تعلیم کو اس کا سختی سے نوٹس لینا چاہیے۔

یہاں تذکرہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ انڈیا میں کرونا سے نمٹنے کیلئے نامور صنعتکار مکیش امبانی نے پندرہ سو کروڑ روپے کا عطیہ حکومت کو دیا، باقی تعاون اسکے علاوہ ہے جبکہ ہمارے ہاں ایسی کوئی اطلاع نہ آنا نجی شعبے کے متعلقہ اداروں پر عدم اعتماد کی نشاندہی کرتا ہے۔ ایس او پیز پر عمل درآمد کے حوالے سے تائیوان ایک مثالی ملک ہے، اس نے قواعد و ضوابط وضع کرکے ان پر بھرپور عمل کیا اور وہاں کے لوگوں نے حکومت کا بھرپور ساتھ دیا جس کی وجہ سے انہوں نے کرونا کو شکست دی۔ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ ہمارے ملک میں لوگوں کی اکثریت کرونا کا پھیلائو روکنے کیلئے اپنا کردار ادا کرنے میں سنجیدہ نہیں اور حالات کو مسلسل پیچیدگی کی طرف لیے جارہی ہے قطع نظر اسکے کہ کرونا کے پہلے دو حملوں کی وجہ سے کتنی جانیں ضائع ہوئیں اور ٹریڈ و انڈسٹری کو کس قدر بھاری نقصان ہوا۔ ابھی بھی پاکستان میں ایک طبقہ پایا جاتا ہے جو یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ کرونا وائرس واقعی ہی وجود رکھتا ہے اور وہ اسے اپنے خلاف “سازش”قرار دیتے ہیں۔ ایک دوسرا بہت “بہادر”طبقہ ہے جو یہ کہتے پایا جاتا ہے کہ میں خود بہت بڑا کرونا ہوں، مجھے کرونا کچھ نہیں کہہ سکتا وغیرہ وغیرہ۔ اب بھی یہ لوگ کرونا سے بچائو کیلئے ایس او پیز پر عمل درآمد، ماسک اور سینیٹائزرز وغیرہ کے استعمال کو اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ ایسے ہی لوگ نہ صرف خود کرونا کی مہلک وبا کا شکار ہورہے ہیں بلکہ اسے آگے پھیلانے میں بھی بہت بڑا کردار ادا کرکے اپنی، اپنے اہل خانہ اور دیگر لوگوں کی جان کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

یہاں ایک اور طبقے کا ذکر کرنا دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا۔ اس طبقے کے افراد کی اکثریت کو شاید اپنے نام کا مطلب بھی نہیں معلوم ہوگا لیکن یہ بہت وثوق سے ادھر ادھر اپنے علم کے موتی نچھاور کرتے ہوئے دوسرے لوگوں کو گمراہ کرتے پھرتے ہیں کہ کرونا وائرس مائیکرو سافٹ کے سربراہ بل گیٹس نے سوچی سمجھی سازش کے تحت پھیلایا ہے۔ اب وہ کروناوائرس کے ذریعے پاکستانیوں کے جسموں میں چپ داخل کرنا چاہتا ہے۔ اب انکے یہ دعوے سن کر ہنسی بھی آتی ہے اور افسوس بھی ہوتا ہے۔ کرونا کو سنجیدگی سے نہ لینے والے طبقات کو اب ہوش کے ناخن لے لینے چاہئیں ۔ کرونا کی پہلی اور دوسری لہر پہلے ہی بے پناہ تباہی مچاچکی ہے۔ ہزاروں افراد جاں بحق اور لاکھوں بیمار ہوچکے ہیں۔ کاروبار بند ہونے سے تاجر معاشی طور پر دیوالیہ ہوئے،لاکھوں افراد بے روزگار ہوگئے اور ایک ایک وقت کی روٹی کا حصول ان کیلئے چیلنج بن گیا۔ اب نادان لوگوں کی وجہ سے کرونا کی لہر مسلسل پھیلتی جارہی ہے حالانکہ اگر احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد کیا جاتا تواس پر باآسانی قابو پایا جاسکتا تھا۔ ماسک نہ پہننا اور احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد نہ کرنا بہادری نہیں بلکہ سراسر خودکشی کرنے، اپنے ساتھ اپنے اہل خانہ کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے اور تاجروں کے مفادات پر ضرب لگانے کے مترادف ہے لہٰذا انہیں ہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔ تاجر برادری سے بھی درخواست ہے کہ کرونا سے بچائو کیلئے جو ایس او پیز بنائے گئے ہیں ان پر سختی سے عمل درآمد کریں جس سے صرف انسانی جانیں ہی نہیں بلکہ ان کے کاروبار بھی بچیں گے۔

یہ اللہ تعالی کا خاص کرم ہے کہ کرونا نے پاکستان میں ویسی تباہی نہیں مچائی جیسی ساری دنیا، یہاں تک کہ ہمسایہ ملک بھارت میں مچا رہا ہے جہاں لوگ سڑکوں پر مر رہے ہیں، جہاں مردوں کو جلانے اور دفنانے کیلئے جگہ باقی نہیں بچی اس لیے اس آفت کا پھیلائو روکنے کیلئے حتی المقدور حد تک اپنا کردار ادا کریں۔ حکومت کو بھی چاہیے کہ مکمل لاک ڈائون کا عندیہ دینے کے بجائے ایس او پیز پر انتہائی سختی سے عمل درآمد کروائے اور جو لوگ حفاظتی تدابیر پر عمل درآمد کرنا اپنی توہین سمجھتے ہیں انکے ساتھ سختی سے پیش آئے کیونکہ کسی بیوقوف کی وجہ سے لوگوں کے جان و مال ، صنعت و تجارت اور معیشت کو دائو پر لگانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔ ایسے بیوقوف افراد کو یہ دیکھ کر آنکھیں کھول لینی چاہئیں کہ کرونا کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے ہسپتالوں میں کرونا مریضوں کیلئے گنجائش، آکسیجن اور دیگر سہولیات تقریبا ختم ہونے کو ہیں۔ ایڑیاں رگڑنے کے بجائے اور اگراحتیاطی تدابیر پر عمل کرلیں تو ان کا اپنا ہی بھلا ہے۔

(Visited 29 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *