ڈسکہ سے کراچی

چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی نے کل ایک تیر سے بلے، پتنگ، ڈولفن اور شیر سمیت کئی شکار کیے۔پاکستان کے کرپٹ انتخابی نظام میں ووٹ کے ذریعے کم ہی شکار کیا گیا ہے ۔ روٹی کپڑا مکان کا نعرہ تو ہوا فراڈ، ووٹ کو عزت دو کا ڈرامہ کھیلنے والوں نے بھی چالیس برسوں میں انتخابی نظام کو مافیا بنا دیا ہے۔ کل عمران خان نے کہا کہ اپنی کارکردگی پر فخر ہے، اور آج کراچی والوں نے اس فخر کو دفن کر دیا۔عمران خان کہتے ہیں کہ ٹکٹ دینے میں غلط فیصلے پراکثرسوچتارہتاہوں۔ قصور ٹکٹ کا نہیں وکٹ کاہے۔ کپتانی کاتکبر اور کمر توڑ مہنگائی کو بھی سوچ کر دیکھ لیں، شاید کچھ تبدیلی آ جائے۔ تحریک لبیک کے خلاف آپریشن کا طریقہ کار اور ٹائمنگ پر بھی ذرا غور کر لیجیے گا، بہت سے جواب مل جائیں گے۔ ڈسکہ کے بعد کراچی میں حکومت کی ہار نوشتۂ دیوار ہے۔ ڈسکہ مسلم لیگ ن کی جدی پشتی سیٹ تھی جیتنا متوقع تھا، البتہ کراچی میں پیپلز پارٹی کی جیت نے حکومت کو جھنجھوڑ دیا ہے۔ ہمارے ایک قاری لکھتے ہیں کہ ’’مسلم لیگ ن دھاندلی دھاندلی کا شور مچانے اور سازشی تھیوریاں پیش کرنے کی بجائے اپنی غلطیوں پر غور فرمائے۔ حلقہ این اے 249 کراچی کے مضافات میں واقع ایک پسماندہ علاقہ ہے۔ اس حلقے کے بعد کراچی ختم اور بلوچستان شروع ہوجاتا ہے۔ اس حلقے میں پنجابی اور ہزارہ اکثریت میں ہیں، اسکے علاوہ یہاں پشتون، بہاری اور بلوچ بھی آباد ہیں۔ کراچی کے پنجابی اور ہزارے اپنا ووٹ ہمیشہ نواز شریف کو ہی دیتے ہیں۔ ہر الیکشن میں اس حلقے سے نواز شریف کو ووٹ ملتے ہیں۔ پچھلے عام انتخابات میں بھی ن لیگ کو یہاں سے 35 ہزار ووٹ ملے تھے۔ علاقے کے کسی مقامی رہنما کو ٹکٹ دینے کی بجائے آپ نے ڈیفنس کے گجراتی میمن صنعتکار مفتاح اسماعیل کو ٹکٹ دیا۔ جو سینیٹ کی ٹیکنوکریٹ سیٹ کیلئے تو ایک موزوں امیدوار ہو سکتا ہے لیکن عوامی سطح پر اپنے ووٹرز کو متحرک کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، اور اسی لیے اس حلقے سے ن لیگ کے کم از کم 20 ہزار ووٹرز کو اپنے گھروں سے نکال کر ووٹ ڈلوانے میں ناکام رہا۔ اس کے مقابلے میں پیپلز پارٹی نے بہتر حکمت عمل اختیار کی، اپنے مقامی رہنما کو ٹکٹ دیا جو اپنے مقامی ووٹرز کو متحرک کرنے میں کامیاب ہوا اور الیکشن جیت گیا۔ اب رونا دھونا بند کرو اور آئندہ کسی مقامی پنجابی یا ہزارے کو ٹکٹ دینا اور الیکشن جیت جانا۔‘‘ نواز شریف پیپلز پارٹی کی جیت کو دھاندلی کہہ رہے ہیں ، میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کو انکوائری کرنی چاہیے کہ دھاندلی کس نے کی؟ رزلٹ کیوں رکے رہے؟ گھنٹوں رکے رہے۔ ٹرن آؤٹ چالیس فیصد تھا تو پی پی پی کو ملے سات ہزار ووٹ ، اور ٹرن آؤٹ اکیس فیصد ہوا تو سولہ ہزار ووٹ کیسے مل گیا ؟ شہری حلقہ تھا یہ، اور کوئی بھی پولنگ سٹیشن، مرکزی دفتر سے آدھے گھنٹے سے زیادہ کی دوری پر نہیں تھا، لیکن میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ اگر نتائج آنا رک جائیں تو سمجھ جائیں کہ کہیں دھاندلی ہو رہی ہے۔ نواز شریف کے تحفظات پاکستان کے کرپٹ انتخابی نظام کی نشاندہی ہے لیکن غور طلب حقیقت یہ ہے مسلم لیگ ن جیت جائے تو الیکشن شفاف ورنہ دھاندلی ! کراچی تحریک انصاف کے فیصل واوڈا کی جیتی ہوئی سیٹ پر تحریک انصاف کی ہار نے فیصل واوڈا کی جیت کا پول بھی کھول دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ ’’آپ نے امریکی شہریت کب چھوڑی؟‘‘ فیصل واڈا نے تو اس کا جواب نہیں دیا، کراچی کے عوام نے تحریک انصاف کو جواب دے دیا۔ کراچی کے عوام نے سرے محل بنانے والوں اور سوئس اکاؤنٹ میں عوام سے لوٹا مال جمع کرنے والوں کو ووٹ دیکر جواب دے دیا۔ پاکستان کا انتخابی نظام انتہائی کرپٹ ہے۔ عمران خان خود بھی اسی نظام کے تحت الیکشن لڑ کے آئے اور اب کہتے ہیں کہ الیکشن نظام تبدیل کرنا نا گزیر ہے۔ پورے ملک کا نظام تبدیل کرنے کا مینڈیٹ لے کر آئے تھے مگر خود اس نظام کی نذر ہو گئے ۔ پاکستان میں جھوٹ اور کرپشن کا نظام رائج ہے۔ الیکشن میں ووٹ خریدا جاتا ہے۔ ووٹ کوعزت دو ایک فراڈی نعرہ ہے۔ ضمیر بیچنے اور خریدنے میں تمام سیاسی جماعتیں برابر کی مجرم ہیں۔پاکستان میں ہمارا کوئی لیڈر نہیں ہے۔پاکستان میں ہماراایک ہی لیڈر صادق و امین تھا اور اس کا نام ہے قائداعظم محمد علی جناح۔ ہمارے اس لیڈر کو جھوٹ سے نفرت تھی۔ ایک نوجوان نوکری کے سلسلے میں قائداعظم تک پہنچا اور ان سے عرض کیا کہ ’’جناب، میں بے روزگاری کے ہاتھوں تنگ ہوں، آپ فلاں صاحب کو میری سفارش کر دیں گے تو مجھے نوکری مل جائے گی۔‘‘ قائداعظم نے انکار سے پہلے نوجوان کا انٹرویو لینا شروع کر دیا۔ آپ نے اس سے پوچھا کہ ’’کیا تعلیم کے (دوران) تم سپورٹس میں حصہ لیتے رہے ہو؟‘‘ نوجوان نے جواب دیا ’’نہیں۔‘‘ قائداعظم نے پوچھا، ’’کیا تم ادبی سرگرمیوں میں شریک رہے؟‘‘ نوجوان نے انکار میں سر ہلا دیا۔ قائداعظم نے پوچھا، ’’کیا تم کسی دوسری اچھی سرگرمی میں حصہ لیتے رہے؟‘‘ نوجوان نے اس بار بھی انکار میں سر ہلا دیا۔ قائداعظم برا مان گئے اور انہوں نے کہا کہ ’’تم اتنی نالائقی اورسستی کے باوجود مجھ سے توقع کرتے ہو میں تمہاری سفارش کروں؟‘‘ نوجوان نے عاجزی سے جواب دیا کہ ’’جناب آپ میری سفارش کریں یا نہ کریں لیکن میں اپنے بارے میں جھوٹ نہیں بول سکتا۔‘‘ نوجوان نے یہ کہا اور قائداعظم کے دفتر سے نکل گیا۔ قائداعظم نے نوجوان کو واپس بلایا اور اس سے کہا کہ ’’میں زندگی میں پہلی مرتبہ اپنا اصول توڑ کر تمہاری سفارش کروں گا لیکن تمہیں مجھ سے ایک وعدہ کرنا ہوگا۔‘‘ نوجوان نے عرض کیا کہ ’’جناب، آپ حکم کیجئے۔‘‘ قائداعظم نے فرمایا کہ ’’تم زندگی میں آج کی طرح ہمیشہ سچ بولو گے۔‘‘ پاکستان پر جھوٹ اور کرپشن راج کر رہے ہیں۔ حکومتی ناکام پالیسیوں کے بھی ڈسکہ سے کراچی تک نتائج آنے شروع ہو گئے ہیں۔

(Visited 2 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *