چور کے ہاتھ اور وزیر کی زبان کاٹ دو

’’قائم مقام‘‘ بادشاہ کمہار نے تمام لوگوں کی باتیں سن کر ملزم کے ہاتھ کاٹنے کی سزا سنا دی سزا سنتے ہی کھسر پھسر شروع ہو گئی ایک وزیر اٹھا اس نے کمہار سے کہا کہ تم اس کیس کو رہنے دو یہ اپنا بندہ ہے تم اگلا کیس سنو اس نے کوئی رسپانس نہ دیا تو وزیر نے بادشاہ کے کان میں کہا کہ بادشاہ سلامت یہ اپنا بندہ ہے اگر اسے سزا ہو گئی تو بڑا مسئلہ خراب ہو جائے گا۔ ہمیں سیاسی طور پر بڑا نقصان ہو گا یہ بندہ تو اکثر اوقات ہماری پھٹیکیں بھی برداشت کرتا ہے۔ پلیز اس کی سزا رکوائیں ’’مصنف ‘‘نے جب یہ ماجرا دیکھا تو اس نے دوسرا حکم جاری کیا کہ چور کی سفارش کرنے والے اس وزیر کی زبان کاٹ دی جائے۔

یہ سن کر سناٹا چھا گیا بادشاہ نے کمہار کی طرف دیکھا کمہار نے کہا کہ بادشاہ سلامت یہ فیصلے کا وقت ہے۔ اگر آج آپ نے میرے حکم پر عملدرآمد کرواتے ہوئے چور کے ہاتھ کٹوا دیے اور سفارش کرنے والے وزیر کی زبان کٹوا دی تو کل سے معاملات ٹھیک ہونا شروع ہو جائیں گے اور اگر آج آپ نے انھیں چھوڑ دیا تو چوروں اور سفارشیوں کو کھلی چھٹی مل جائے گی۔

میرا کیا ہے میں کل سے واپس اپنے کام پر چلا جائوں گا۔ آپ کے پاس رٹ قائم کرنے کا وقت ہے فیصلہ آپ نے کرنا ہے بادشاہ نے چند لمحے سوچا اور پھر سزاوں پر فوری عمل کرنے کا حکم دیا وزیر کی زبان کاٹنے اور چور کے ہاتھ کاٹنے سے پوری ریاست میں خوف پھیل گیا اور معاملات خود بخود درست ہونا شروع ہو گئے۔

جن معاشروں میں انصاف نہیں ہوتا وہ معاشرے اکھڑ جاتے ہیں جس طرح کہ ہمارا معاشرہ شتر بے مہار ہو چکا طاقتور لوگوں کے مافیاز بن چکے ہیں۔ ہمارے انصاف فراہم کرنے والے اداروں پر طرح طرح کی انگلیاں اٹھ رہی ہیں‘ ملزمان سسٹم کا مذاق اڑا رہے ہیں بلکہ ملزم تفتیش کرنے والے اداروں کو آنکھیں دکھا رہے ہیں۔ چور چوری کرنے کے باوجود دندناتے پھرتے ہیں۔ قانون کا مذاق آڑیا جاتا ہے۔ طاقتور طبقات قانون کی خلاف ورزی کر کے کہتے ہیں جائو جو کرنا ہے کر لو قانون بے بس اور مافیاز آزاد حکومتی رٹ کو مذاق بنا دیا ہے۔ انصاف کا حصول جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔

جوڈیشری کہتی ہے ہمیں کوئی نہ پوچھے ہم احتساب سے بالاتر ہیں وکیل کہتے ہیں ہمیں ہاتھ نہ لگانا بیوروکریسی کہتی ہے ہمیں کون پوچھ سکتا ہے۔ سیاستدان کہتے ہیں ہمارا احتساب ووٹر کرتا ہے‘ ادارے ہمیں نہیں پوچھ سکتے۔ ایسے میں سسٹم پر سوالیہ نشان اٹھ رہے ہیں۔ جناب عمران خان صاحب آپ کو لوگوں نے بالادست طبقات کے احتساب کے لیے ووٹ دیا تھا۔ آپ کو قانون کی عملداری کو یقینی بنانے کے لیے ووٹ دیا گیا تھا۔ آپ کو لوگ فوری اور سستا انصاف فراہم کرنے کے لیے لے کر آئے تھے آج تک آپ صرف صرف بالادست طبقات کو زبانی کلامی ایکسپوز کرنے سے آگے نہیں بڑھ سکے نہ کسی کو سزا ہوئی نہ کسی سے لوٹا ہوا مال برآمد ہو سکا اوپر سے سختی کے نام پر رشوت کے ریٹ بڑھ گئے جب تک مافیاز کے بڑوں کو لٹکایا نہیں جاتا۔ با اثر ملزموں کو نشان عبرت نہیں بنایا جاتاقانون کی رٹ قائم نہیں ہو سکتی مجرموں کو قرار واقعی سزائیں اور ان پر عملدرآمد سے ہی بہتری ممکن ہے خدارا انصاف کی فراہمی کی رکاوٹوں کو دور کرنے میں اپنا کردار ادا کریں ورنہ معاشرے کا بگاڑ ملک تباہ کر دے گا۔

(Visited 9 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *