پہلے امن ۔۔۔ مظہر برلاس

ایک حریت پسند کشمیری نے پلوامہ میں دھماکہ کیا کِیا، پورا ہندوستان پریشان ہو گیا۔ بہت بڑی جمہوریت اپنے 44فوجیوں کو رو رہی ہے۔ مودی جی تو چلا رہے ہیں مگر ہمارا حوصلہ دیکھئے ہم نے دنیا کو امن دینے کیلئے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی، ہمارے ستر ہزار سے زائد افراد شہید ہوئے، اتنی بڑی شہادتوں کے باوجود ہمارے حوصلے نہ ٹوٹے، ہم پرعزم رہے، ہماری ہمت جوان رہی، دنیا ہماری قربانیوں کو سراہتی ہے، ہم آج بھی امن کیلئے کام کر رہے ہیں۔ہندوستان نے ایک دھماکے کا رخ اُس ملک کی طرف موڑنا چاہا جو خود دہشت گردی کے خلاف لڑ رہا ہے۔ بھارت کو پوری دنیا میں سفارتی محاذ پر ناکامی ہوئی۔ اس ناکامی کا اعتراف وہ لوگ بھی کر رہے ہیں جو ہمیشہ بھارت کے گیت گاتے تھے۔ شیخ عبداللہ کے خاندان کے دو افراد فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ بھی بھارتی ناکامیوں کا اعتراف کر رہے ہیں۔ مقبوضہ

کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے میڈیا کے روبرو ہندوستان کی سفارتی ناکامی کا اعتراف کیا ہے، محبوبہ مفتی اعتراف کرتی ہیں کہ ’’آج چین، روس، امریکہ اور سعودی عرب سمیت دنیا کے اکثر ممالک پاکستان کے ساتھ ہیں‘‘مودی جی کو غور کرنا چاہئے کہ وہ اپنے دیش کے لوگوں کو زیادہ دیر بیوقوف نہیں بنا سکتے۔ انہی کے وطن سے بہت سے لوگ جنگ کی مخالفت میں سامنے آ گئے ہیں بلکہ ایک سماجی رہنما ویشرام نے تو پلوامہ دھماکے کا ذمہ دار مودی سرکار کو ٹھہرا دیا ہے۔ ویشرام کے بقول اس حملے کی اطلاع پولیس کے خفیہ شعبے نے آٹھ دن پہلے دے دی تھی۔ بھارتی ججز کیا کہہ رہے ہیں، سیکولر بھارت دیکھنے والا طبقہ کیا کہہ رہا ہے؟ یہ تمام لوگ مودی جی کی چالوں کے مخالف بن گئے ہیں۔ کیا لوگوں نے نہیں دیکھا کہ جب مودی جی نے جنگ کی دھمکی دی تو پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے انہیں دلائل کے ساتھ کرارا جواب دیا اور پھر مودی جی مکر گئے، پھر انہیں غربت یاد آ گئی۔ اب عمران خان کہتے ہیں کہ غربت کے خاتمے کیلئے امن بہت ضروری ہے۔مودی جی کیلئے الیکشن کے مراحل مشکل ہیں مگر انہیں اس مشکل سفر میں یاد رکھنا چاہئے کہ انہیں چالبازی کا یہ کھیل مہنگا بھی پڑ سکتا ہے۔ پاکستان پر الزامات کو ایک طرف رکھئے، خود ہندوستان کے اندر کیا ہو رہا ہے۔ پلوامہ میں دھماکے کے بعد کشمیر کے چار جنوبی اضلاع کے لوگوں کا سکون برباد کر کے رکھ دیا گیا ہے، جموں شہر میں مسلمانوں پر زمین تنگ کر دی گئی ہے۔ جموں و کشمیر سے باہر بھارت کی باقی ریاستوں میں بھی کشمیریوں کو بہت تنگ کیا گیا، کشمیری طلبا اور تاجروں نے سکھوں کے گوردواروں میں پناہ لی۔ آج بھارت سے باہر برطانیہ، امریکہ اور کینیڈا میں کشمیریوں کے ساتھ سکھ بھی مظاہرہ کر رہے ہیں۔ پہلے صرف

کشمیر میں پاکستانی جھنڈا لہرایا جاتا تھا، اب خالصتان کے حامی بھی پاکستانی جھنڈا لہرا رہے ہیں، ایسا کیوں ہوا؟ اس کا جواب صرف ہندوئوں کی متعصبانہ سوچ ہے۔بھارتی سپریم کورٹ کشمیر کے بارے میں آئین کے آرٹیکل 35اے کا فیصلہ کرنے جا رہی ہے، آئین کے اس آرٹیکل کے تحت کوئی غیر کشمیری، کشمیر میں جائیداد نہیں خرید سکتا اور نہ ہی کشمیر کا باشندہ بن سکتا ہے۔ مودی سرکار اس آرٹیکل کا خاتمہ چاہتی ہے، وہ اسے نہرو کی غلطی قرار دیتی ہے، مودی سرکار کشمیر میں آر ایس ایس کے غنڈے آباد کرانا چاہتی ہے۔ اس وقت ریاست جموں و کشمیر کی کیا صورتحال ہے، ذرا اس پر غور کیجئے۔اس وقت جموں و کشمیر کی آبادی کا تناسب یہ ہے کہ وہاں 68فیصد مسلمان آباد ہیں، 28فیصد ہندو ہیں، سکھ صرف دو فیصد ہیں، باقی عیسائی اور بدھ ہیں۔ ریاست جموں و کشمیر تین ڈویژنوں پر مشتمل ہے۔ جموں، کشمیر ویلی

اور لداخ، جموں و کشمیر کا دارالحکومت مئی سے اکتوبر تک سرینگر جبکہ نومبر سے اپریل تک جموں ہوتا ہے۔ جموں پوری ریاست کا سب سے بڑا شہر ہے۔ اس شہر میں 84فیصد ہندو آباد ہیں جبکہ مسلمان اور سکھ سات سات فیصد ہیں مگر جموں ڈویژن کے کچھ اضلاع میں مسلمان اکثریت میں ہیں مثلاً ڈوڈا میں مسلمان 54فیصد ہیں، اسی طرح کشتواڑ میں 58فیصد، پونچھ میں 90فیصد، راجوڑی میں 62فیصد، رام بن میں 70فیصد ہیں، ریاسی ضلع میں ہندو اور مسلمان تقریباً برابر ہیں یہاں 49فیصد مسلمان اور 48فیصد ہندو آباد ہیں جبکہ کٹھوعہ، سامبا اور اودھم پور کے اضلاع میں ہندو اکثریت ہے گویا جموں ڈویژن کے دس اضلاع میں چھ میں مسلمان زیادہ ہیں جبکہ چار اضلاع میں ہندو اکثریت ہے۔ ہندو آبادی والے اضلاع کے سامنے پاکستان میں نارووال اور سیالکوٹ کے اضلاع ہیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں کشمیر ڈویژن

کے دس اضلاع میں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ اننت ناگ، باندی پورہ، بارہ مولا، بڈگام، گاندربل، کلگام، پلوامہ، کپواڑا، شوپیاں اورسرینگر میں ہندو آبادی کم اور مسلمان آبادی اکثریت میں ہے۔ سرینگر ریاست جموں و کشمیر کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ پلوامہ، سرینگر سے چالیس کلو میٹر دور ہے، پلوامہ میں 94فیصد مسلمان ہیں جبکہ ہندو صرف چار فیصد ہیں۔ لداخ ڈویژن کے دو اضلاع ہیں، ضلع کارگل میں 77فیصد مسلمان، 14فیصد بدھ جبکہ آٹھ فیصد ہندو ہیں، ضلع لیہا میں 66فیصد بدھ، 17 فیصد ہندو اور چودہ فیصد مسلمان ہیں۔ تین ڈویژنوں پر مشتمل جموں و کشمیر میں چونکہ مسلمان 68فیصد ہیں اور ہندو 28فیصد، مودی سرکار اس تناسب کو تبدیل کرنا چاہتی ہے. اگر بھارتی سپریم کورٹ نے آئین کا آرٹیکل 35اے ختم کیا تو یہ بھارت کو ظلم کی راج دھانی بنا دے گا۔ مودی جی کو آرٹیکل 35اے ختم کروانے سے پہلے امن کی بات کرنا چاہئے، آزادی کی بات کرنا چاہئے۔ غربت، امن اور آزادی کے بغیر ختم نہیں ہوتی، بقول محسن نقوی ذکرِ شبِ فراق سے وحشت اسے بھی تھی۔۔میری طرح کسی سے محبت اسے بھی تھی۔

(Visited 28 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *