پھولوں سا بھرا شجر اچھا لگتا ہے ازقلم :تابندہ جبیں

پھولوں سا بھرا شجر اچھا لگتا ہے
گھر تو سب کو اپنا اچھا لگتا ہے
باغ میں بہت سے پھول یے کھلتے
مگر ان میں سے بھی کوئی ایک ہھول اچھا لگتا ہے
دنیا ساری ہی اچھی ہے تابی
مگر جہاں رہے ملکر سارے وہ گھر اپنا لگتاہے
دشمن بناببا کے جینا بھی کوئی جینا ہے
دشمنوں جو بھی دوست بنا کر جینا اپنا کگتا ہے
دریا کا کنارہ اچھا لگتا ہے
مگر خوشیاں کا ایک سمندر اپنا لگتا یے
لوگوں کی باتوں میں کیا جینا
لوگوں کا تو بس کام ہے کہتے جانا
جو سن کے چپ ہوجائے بکار کی باتوں کو
ایسا تو یارانہ اپنا لگتا ہے۔۔۔

(Visited 21 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *