پانی آنکھ میں بھر کر لایا جا سکتا ہے ۔۔۔ بابر اعوان

کتاب وزیر اعظم کی میز پر رکھی تھی۔ سینٹر ٹیبل کی اس نکڑ پر جہاں عمران خان بیٹھے تھے۔ کتاب کا سر ورق دیکھ کر مجھے خوش گوار حیرت ہوئی۔ جدید عرب سلطنت کے بانی کی آٹو بائیو گرافی کا عنوان تھا: “MY STORY”۔کچھ سال پہلے دبئی کے حکمران شیخ محمد بِن راشد المکتوم کی زبانی نئے دبئی کی یہ کہانی میں نے ایک لانگ فلائٹ کے دوران تقریباً پونی پڑھ لی تھی۔ خوش گوار حیرت اس بات پر ہوئی کہ پاکستان کا وزیرِ اعظم مسلم بلاک کے ترقی یافتہ ملکوں کی ترقی کے راز جاننا چاہ رہا ہے۔ مگر یہ تو صرف کل کی بات ہے۔ ذرا 6 ماہ پیچھے چلے جاتے ہیں۔ پاکستان صرف نصف سال پہلے کہاں کھڑا تھا۔ دنیا کی طرف بعد میں جائیں گے۔ مسلم بلاک کے ملکوں میں ہماری سرکاری حیثیت کیا تھی۔ سعودی عرب سے عزیزیہ سٹیل ملز کی کرپشن کہانی امپورٹ ہو رہی تھی۔ گلف کی ایک اور بڑی معا شی طاقت قطر

سے قطری خطوط ابابیل کی صورت میں یکے بعد دیگرے نازل ہوا کرتے۔ آلِ شریف کی امارت کی دفاعی کہانی جو کمر باندھ کر تیار کی گئی تھی۔ اُس کا دھواں متحدہ عرب امارات کی شریف سٹیل مل کی چمنی سے اٹھ رہا تھا۔ یو کے میں پاکستان کی عالمی رسوائی کا سرکس برپا تھا۔ پانامہ سے آئی غضب کرپشن کی عجب کہانی، عالمی اُفق پر ہماری حکمرانی کے منہ پر طمانچے جڑ رہی تھی۔ ملائیشیا سے تعلق ہمارے حکمرانوں کے لیے شجرِ ممنوعہ تھا‘ جب کہ پرشین گلف کا اہم ترین پڑوسی دوست ایران اجنبیت کا شکار۔ بارک اوبامہ سے شروع کر کے ڈونلڈ ٹرمپ تک امریکی صدر ”DO MORE ‘‘ کا ڈوئیٹ گا رہے تھے۔اور آج…؟؟۔ یہ بات دیوار پر لکھی ہے کہ آج پاکستان بیک آن دی ٹریک آ گیا ہے۔ ملک کا چیف ایگزیکٹو دبئی کی کامیابی کے رازوں کے پیچھے پڑا ہے۔ اسے ایمریٹس ہلز پہ وِلاّ چاہیے نہ شیخ زید روڈ پر ٹاور۔ مے فیئر میں محل چاہیے نہ جدہ میں سرور پیلس۔ ظاہر ہے ایسی سوچ کوئی سلیکٹڈ وزیرِ اعظم ہی رکھ سکتا ہے۔ اس میں کوئی شک بھی نہیں۔ ایسا سلیکشن خدا کی دین ہے۔ اس میں زورِ بازو اور مال و منال کچھ نہیں کر سکتے۔ایں سعادت بزورِ بازو نیست۔۔تا نہ بخشد خدائے بخشندہ۔۔ابھی7 ماہ پہلے، آلِ شریف کے چاروں سپیکر جلسوں میں ایک ہی بات مُسلسل دُہراتے پائے گئے۔ تواتر سے گلے پھاڑ پھاڑ کر کہا ”عمران خان کو ووٹ مت دینا۔ جو مہر تم بَلیّ پر لگائو گے وہ ووٹ تیر کے بیلٹ بکس سے جا نکلے گا۔ یاد رکھنا پی ٹی آئی اور پی پی ایک ہی سِکّے کے دو رُخ ہیں۔ یہ اندر سے ملے ہوئے ہیں۔ اور پھر آلِ شریف کی اصولی سیاست کے چہار درویش لوگوں کے ہاتھ اوپر اُٹھوا کر یہ نعرہ لگواتے ”عمران زرداری بھائی بھائی‘‘۔ الیکشن 2018 کا پردہ اُٹھا تو سٹیج پر سے چوک میں لٹکانے والا کھمبا۔ سڑک پر گھسیٹنے والا

رسّہ اور پیٹ کی چیر پھاڑ کرنے والا گراری والا چاقو غائب سے ہو گئے۔ احتساب کا عمل بے لاگ کیا ہوا کہ ‘پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے‘۔ آج شہباز شریف کا دفاعی کھلاڑی نون لیگ کا گلیڈی ایٹر، اور کھمبا شریف سے رسہّ شریف تک سب کا ڈرون، لاہور کی گوال منڈی سے نہیں بلکہ سکھر کی پتلی گلی سے اُڑتا ہے۔طرزِ حکومت کو ایک طرف چھوڑ دیں۔ لیکن طرزِ حکمرانی کی وجہ سے دُبئی نامی چھوٹا سا صحرائی جزیرہ‘ شرق اور غرب کا کمرشل ہَب بن گیا ہے۔ جدید پولیٹیکل سائنس کی 2 اصطلاحیں قابلِ توجہ ہیں۔ پہلی؛ جمہوری نظام اور دوسری اصطلاح ہے؛ فلاحی ریاست۔ جمہوریت کی تعریف بڑی سُہانی ہے۔ بڑی intriguing اور سہ ٹنگی بھی۔ یہی کہ لوگوں کی حکومت، لوگوں کے ذریعے۔ مگر جمہوری حکومت لوگوں کے لیے قطعاً نہیں ہوتی۔ اسی لیے عملی طور اس کی آخری ٹانگ کہیں دکھائی

نہیں دیتی۔ ہاں البتہ فلاحی ریاست شہریوں اور نظام کے مابین میثاقِ معیشت پر چلتی ہے۔ اپنی کمائی پر ٹیکس دینے والے کو ریاستی ادارے عزت دیتے ہیں۔ سرکار اُسے ترجیحی سلوک کی سہولت دیتی ہے۔ خواہ ٹیکس Payer چھوٹا ہو یا بڑا، ٹائیکون ہو یا کلرک۔فلاحی ریاستوں کی تشکیل میں 3 عناصر کا کردار بنیادی ستون جیسا ہے۔ پہلے عنصر کو پرائیویسی کہا جاتا ہے۔ ریاست فرد، فیملی اور معاشرے کے ہر طبقے کے طرزِ زندگی کو تحفظ دیتی ہے۔ دوسرا عنصر شہری کو ریاست کی جانب سے بنیادی ضروریات مہیا کرنے کی گارنٹی دینا ہے۔ تیسرا عنصر تقسیمِ دولت اور افزائشِ دولت کے درمیان توازن کی ضمانتی پالیسی پر مبنی ہے۔ آئیے اپنے ہاں رائج پارلیمانی جمہوریت کو جمہوریت کے ٹَچ سٹون پر ہی پَرکھیں۔ پاکستان کا موجودہ طرزِ حکمرانی ایک ایلیٹ کلب کے پاس یرغمالی بن چکا ہے۔ اس ایلیٹ کلب کے کُل 8 عدد

بلاکس ہیں۔ پہلا؛ 342 ارکان پر مشتمل مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ)۔ دوسرا؛ سینیٹ آف پاکستان 104 ارکان، تیسرا؛ پنجاب اسمبلی 371 ارکان‘ چوتھا؛ سندھ اسمبلی168 ارکان، پانچواں؛ خیبر پختونخوا اسمبلی 124 ارکان، چھٹا؛ بلوچستان اسمبلی 65 ارکان، ساتواں؛ گلگت بلتستان اسمبلی 33 ارکان، آٹھواں؛ آزاد جموں و کشمیر اسمبلی 49 ارکان۔ رولنگ ایلیٹ کے اس کلب کی ٹوٹل ممبر شپ 1256 بنتی ہے۔اب آئیے اُس تلخ حقیقت کی طرف جس کے مطابق یہ فیصلہ ہو سکتا ہے کہ موجودہ نظام جمہوریت ہے‘ یا جمہوریت کے سر پر پاپوش رسیدگی۔ پارلیمنٹ کے 8 ایوانوںمیں بیٹھے ایک ہزار دو سو چھپن لوگ پارلیمنٹ آنے‘ اس میں بیٹھنے اور واپس جانے کا معاوضہ وصول کرتے ہیں۔ پارلیمنٹ کا ہر اجلاس۔ پارلیمنٹ کی ہر کمیٹی کا اجلاس سرکاری خرچ پر منعقد ہوتا ہے۔ جہاں کھابے سرکاری، بجلی سرکاری، ملازم سرکاری۔ چیئرمین

کمیٹی کے پاس گاڑی سرکاری۔ ڈرائیور سرکاری، سٹینو سرکاری۔ سال میں پی آئی اے کے ذریعے سفر کرنے کے لیے ٹکٹ سرکاری۔ علاج سرکاری بلکہ بالٹیاں، مگھے اور لوٹے تک سرکاری۔ جنابِ عالی! یاد رکھیے یہ سب کچھ 5 سال کے لیے ماہانہ تنخواہ کے علاوہ ہے۔ اس کے مقابلے میں اُن عوام کو کیا ملتا ہے، جن کی پارلیمنٹ‘ جن کے ذریعے اور جن کے لیے بنتی ہے۔ اس وقت صرف قومی اسمبلی اور سینیٹ میں کل کمیٹیوں کی تعداد 69 ہے، جس کا سادہ مطلب ہے چیئرمین صاحبان کے لیے 69 سرکاری گاڑیاں مفت۔ شوفر مفت اور پٹرول بھی فری فنڈ سے۔ ایلیٹ کلب کے یہ 1256 ممبر سارے کے سارے پبلک منی کے تنخواہ دار ملازم ہیں۔ ساتھ سرکاری وسائل کے مُفت بَر بھی۔میں ایک ایسے ملک کے ایلیٹ کلب کی بات کر رہا ہوں‘ جس کی کل آبادی میں سے آدھے سے زیادہ لوگ غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی

گزارنے پر مجبور ہیں۔ جس کی جیلوں میں عام قیدی مچھر، مکھی کی طرح مار دیے جاتے ہیں۔ دوسری جانب ایلیٹ کلب کے ارکان کے لیے وی آئی پی جیل، وی آئی پی گاڑی اور قانون ان کے ہاتھ میں موم کی ناک سے زیادہ کچھ نہیں۔کسبِ کمال یہ کہ قانون مجرموں کے سامنے غریب کی جورو کی طرح بے بس اور بے کس۔ ایسے میں ایلیٹ کلب کی بدمعاشیہ 70 سال سے قومی وسائل اور ملکی خزانہ لُوٹتی رہی۔ ملک چلتا رہا۔ پارلیمنٹ ایک ڈبیٹنگ کلب بنی رہی۔ ایسا ڈبیٹنگ کلب جہاں ڈھنگ سے مباحثہ اور ڈبیٹ بھی نہیں ہو سکتی۔ جُگت باز، نیم خواندہ سیاسی اداکار اس کے سُپر سٹار ہیں۔ جب جب پاکستان لُٹ رہا تھا تب پارلیمان مضبوط تھا اور نظام محفوظ۔اب ایک شخص لُوٹ مار، ڈکیتی،کِک بیک، کمیشن کا راستہ چھوڑ کرصاف ہاتھوں اور نیک نیتی سے یہ روٹین بدلنے کی کوشش میں ہے؛ چنانچہ پاکستان خطرے میں ہے اور پارلیمنٹ کی عزت بھی۔ کہتے ہیں وہ ناکام ہو جائے گا۔ مگر قرائین سے یوں لگتا ہے:پانی آنکھ میں بھر کر لایا جا سکتا ہے۔۔اب بھی جلتا شہر بچایا جا سکتا ہے۔۔۔دل پر پانی پینے آتی ہیں، امیدیں۔۔اس چشمے میں زہر ملایا جا سکتا ہے۔۔۔پھٹا پُرانا خواب ہے میرا پھر بھی تابشؔ۔۔اس میں اپنا آپ چھپایا جا سکتا ہے

(Visited 26 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *