پاسبانِ عقل بمقابلہ ’’پاسبانِ بے عقل!‘‘ عطا ء الحق قاسمی

ہمارے ہاں بہت سے ’’مریض‘‘ ایسے ہیں جو زندگی ڈاکٹر کے دئیے ہوئے شیڈول کے عین مطابق گزارتے ہوئے اور قدرت کے مرتب کئے ہوئے شیڈول کے مطابق انتقال کر جاتے ہیں، مگر کچھ اللہ کے بے نیاز بندے ایسے بھی ہیں جو بیماری میں بھی وہی کرتے ہیں جو عالمِ صحت میں کرتے تھے اور یوں ’’شیر کی ایک دن کی زندگی گیڈر کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے‘‘ والے مقولے کو عملی جامہ پہناتے نظر آتے ہیں۔ ایک اسی طرح کے ’’بدپرہیز‘‘ سگریٹ نوش سے کسی نے کہا کہ سگریٹ نوشی سے باز آ جائو، یہ دراصل ایک طرح کی ’’سلو پوائزننگ‘‘ ہے۔ سگریٹ نوش نے کہا ’’مجھے بھی مرنے کی کوئی جلدی نہیں‘‘۔

میں ایک ایسے شخص کو جانتا ہوں جو شوگر کا مریض ہے اور باقاعدگی سے حلوہ پوری کا ناشتہ کرتا ہے۔ ایک دوست کو ہائی بلڈ پریشر ہے اور وہ جب بھی ملتا ہے میرا ہاتھ پکڑ کر پائے کھانے اور کھلانے چل پڑتا ہے۔ میں ان دوستوں کو بہت سمجھاتا ہوں کہ بے شک خدا قادرِ مطلق ہے ، زندگی اور موت اسی کے اختیار میں ہے لیکن انسان کو اپنی طرف سے تو احتیاطی تدابیر کرنا چاہئیں مگر یہ جیالے ایک نہیں سنتے اور جواب میں عجیب و غریب قسم کی دلیلیں دیتے بلکہ لطیفے بھی سناتے ہیں۔ مثلاً ایک چوہدری کی گائے چوری ہو گئی، اس نے سارے گائوں کو جمع کیا۔ قرآن شریف ان کے ہاتھ میں تھما کر حلف اٹھوایا کہ ’’اگر گائے میں نے چوری کی ہو تو میرے بچے مریں‘‘ سب نے یہ حلف اٹھایا سمیت اس میراثی کے جس نے گائے چوری کی تھی۔ میراثی کے ایک جاننے والے نے بعد میں اسے پکڑ لیا اور کہا ’’تم عجیب آدمی ہو، میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ گائے تم نے چوری کی ہے مگر اس کے باوجود تم نے حلف اٹھا لیا کہ اگر میں نے گائے چوری کی ہو تو میرے بچے مریں!‘‘ میراثی نے کہا ’’مولا خوش رکھے، بھوکے مرنے سے بہتر تھا کہ بچے دودھ پی کر مریں‘‘۔ یہ بدپرہیز بھی اس قسم کی بات کرتے ہیں کہ بھوکا مرنے سے بہتر ہے کہ انسان کھاتا پیتا مرے، یہ تو ایک مذہبی حوالہ بھی دیتے ہیں کہ پیٹ کی بیماری سے مرنے والا بھی شہید ہوتا ہے۔ ظاہر ہے اس حوالے کا بدہضمی سے کوئی تعلق نہیں۔

تاہم اس ضمن میں کمال کا واقعہ میرے ایک دوست کا ہے، میرے اس دوست کو نہایت شدید قسم کا ہارٹ اٹیک ہوا، انہیں فوراً ’’انتہائی نگہداشت‘‘ کے کمرے میں داخل کیا گیا، آکسیجن لگا دی گئی اور وزیٹرز کو منع کر دیا گیا کہ وہ ان سے بات چیت نہ کریں۔ اگلے روز میرے اس دوست نے ادھر ادھر نظر دوڑائی تو پتا چلا کہ عزیزوں یا اسپتال کے عملے میں سے وہاں کوئی بھی موجود نہیں ہے۔ اس نے آکسیجن اتاری، بستر سے اترا اور ایک لمبا برآمدہ عبور کرکے لفٹ تک پہنچا، لفٹ خراب تھی، چنانچہ دو منزلیں سیڑھیوں کے ذریعے طے کیں، وہاں سے دو سگریٹ لئے اور یکے بعد دیگرے دونوں سگریٹ پینے کے بعد واپس لفٹ تک گئے، لفٹ حسبِ سابق خراب تھی، چنانچہ دو منزلیں سیڑھیوں کے ذریعے طے کرکے اوپر پہنچے اور پھر طویل برآمدے سے گزرتے ہوئے میرے یہ دوست واپس اپنے کمرے میں گئے اور چارپائی پر لیٹتے ہی خوف زدہ ہوگئے کہ یہ میں نے کیا کیا ہے؟ چنانچہ فوراً ڈاکٹر کو بلایا کہ ذرا مجھے چیک کریں، ڈاکٹر نے اچھی طرح معائنہ کرنے کے بعد کہا ’’جتنے تم آج ٹھیک ہو، اس سے پہلے کبھی نہ تھے، شاباش پرہیز جاری رکھو!‘‘۔

ان سطور سے میرا مقصود حاشا وکلا ’’بدپرہیزوں‘‘ کو ہلہ شیری دینا نہیں بلکہ ان دوستوں کو حوصلہ دینا ہے جو زندگی میں معمولی تکلیف بھی آئے تو حوصلہ ہار بیٹھتے ہیں۔ چنانچہ ایک سروے کے مطابق زیادہ اموات بیماری کی وجہ سے نہیں بلکہ بیماری سے پیدا ہونیوالے خوف اور مایوسی کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ انسان اگر بیماری کو زیادہ لفٹ نہ کرائے تو بیماری کچھ شرمسار ہو کر ادھر ادھر دیکھنے لگتی ہے اور کسی ’’مستحق‘‘ کو جا چمٹتی ہے۔ اگر انسان کا حوصلہ بلند ہو اور خدا پر بھی یقینِ کامل ہو تو وہ ہنستے ہنستے موت کا منہ پھیر دیتا ہے۔ انسان کو ڈاکٹروں کے مشوروں پر عمل ضرور کرنا چاہئے لیکن صرف اس قدر جس قدر یہ ڈاکٹر اپنے مشوروں پہ خود عمل کرتے ہیں، اگر آپ سیر نہیں کرتے تو سیر نہ کرنیوالوں کو موت کی جو ’’وعید‘‘ سنائی جاتی ہے اس پر زیادہ کان نہ دھریں ورنہ سچ مچ ’’دھر‘‘ لئے جائینگے کہ خوف، اندیشوں کو حقیقت میں بدل دیتا ہے۔ یہی حال قوموں کا بھی ہے، ہر قوم میں خامیاں اور کوتاہیاں ہوتی ہیں لیکن اگر اسکی خوبیوں کو بھی اجاگر کیا جائے تو اسکے حوصلے بلند ہو جاتے ہیں اور جس قوم کے حوصلے بلند ہوں وہ پہاڑوں سے بھی ٹکرا جاتی ہے۔ آپ ذاتی طور پر مایوس ہوں نہ قوم کے بارے میں مایوسی پھیلائیں کہ جنگ کے دنوں میں مایوسی پھیلانا دشمن کی اولین ترجیحات میں شامل ہوتا ہے۔ چھوٹی موٹی بدپرہیزیاں جاری رہتی ہیں اور انہیں ضرور جاری رہنا چاہئے ورنہ آپ انسان سے ’’کیلکولیٹر‘‘ بن جائیں گے اور انسان کو انسان ہی رہنا چاہئے، حساب کتاب والی مشین نہیں بننا چاہئے۔ ’’پاسبانِ عقل‘‘ ضرور ساتھ رکھنا چاہئے لیکن اسے کبھی کبھی تنہا بھی چھوڑ دینا چاہئے!

(Visited 2 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *