وکی لیکس کے بانی جولین اسانج لندن میں ایکواڈور کے سفارتخانے سے گرفتار

لندن: وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کو 7 سال کی سیاسی پناہ کے بعد لندن میں ایکواڈور کے سفارتخانے سے گرفتار کرلیا گیا۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق جولین اسانج کو لندن میں ایکواڈور کے سفارتخانے سے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرنے پر گرفتار کیا گیا ہے۔

ایکواڈور کے صدر لینن مورینو کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی قوانین کی مسلسل خلاف ورزیوں کے بعد جولین اسانج کی سیاسی پناہ واپس لے لی گئی ہے۔

میٹرو پولیٹن پولیس سروس (ایم پی ایس) کے مطابق وکی لیکس کے بانی کو سینٹرل لندن پولیس اسٹیشن میں اس وقت تک رکھا جائے گا جب تک انہیں جلد از جلد ویسٹ منسٹر مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش نہیں کیا جاتا‘۔

Metropolitan Police

@metpoliceuk

Julian Assange has been arrested by officers from the Metropolitan Police Service http://news.met.police.uk/news/arrest-update-sw1-365526 

3,849 people are talking about this

میٹرو پولیٹن پولیس کا کہنا تھا کہ جولین اسانج عدالت کے سامنے اپنے آپ کو پیش  کرنے میں ناکام ہوگئے یہی وجہ ہے کہ انہیں گرفتار کیا گیا ہے۔

دوسری جانب وکی لیکس نے ٹوئٹر بیان میں کہا کہ ایکواڈور نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جولین اسانج کی سیاسی پناہ ختم کی ہے جو کہ غیر قانونی ہے۔

WikiLeaks

@wikileaks

URGENT: Ecuador has illigally terminated Assange political asylum in violation of international law. He was arrested by the British police inside the Ecuadorian embassy minutes ago.https://defend.wikileaks.org/2019/03/18/the-assange-precedent-the-threat-to-the-media-posed-by-trumps-prosecution-of-julian-assange/ 

The “Assange Precedent”: The threat to the media posed by Trump’s prosecution of Julian Assange -…

THE “ASSANGE PRECEDENT”: THE THREAT TO THE MEDIA POSED BY THE TRUMP ADMINISTRATION’S PROSECUTION OF JULIAN ASSANGE March 2019   Read the PDF version here.   A precedent with profound implications for…

defend.wikileaks.org

15.8K people are talking about this

برطانوی وزیر داخلہ ساجد جاوید نے بھی اپنی ٹوئٹ میں جولین اسانج کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے لکھا کہ وہ پولیس حراست میں ہیں اور برطانیہ میں قانون کا سامنا کر رہے ہیں۔

انہوں نے تعاون پر ایکواڈور کا شکریہ ادا کیا اور مزید کہا کہ کوئی بھی قانون سے بالا نہیں ہے۔

Sajid Javid

@sajidjavid

Nearly 7yrs after entering the Ecuadorean Embassy, I can confirm Julian Assange is now in police custody and rightly facing justice in the UK. I would like to thank Ecuador for its cooperation & @metpoliceuk for its professionalism. No one is above the law

5,448 people are talking about this

یاد رہے کہ آسٹریلوی کمپیوٹر پروگرامر جولین اسانچ نے 2006 میں وکی لیکس کی بنیاد رکھی اور 2010 میں انہوں نے اس وقت عالمی سطح پر توجہ حاصل کی جب وکی لیکس نے سابق امریکی فوجی چیلسا میننگ کی جانب سے فراہم کردہ خفیہ دستاویزات شائع کیں۔

وکی لیکس نے تقریبا 7 لاکھ 50 ہزار کے قریب خفیہ معلومات افشا کیں جن میں عراق، افغان جنگ اور دیگر عالمی امور نمایاں ہیں۔

خفیہ دستاویزات سامنے آنے کے بعد امریکا نے جولین اسانچ کے خلاف مجرمانہ فعل کی تحقیقات شروع کی اور ان پر سوئیڈن میں جنسی زیادتی کا کیس بھی سامنے آیا جس کے بعد انہوں نے سوئیڈن سے لندن میں موجود ایکواڈور کے سفارتخانے میں پناہ لی۔

ایکواڈور کے سفارتخانے نے جولین اسانچ کی پناہ ختم کرنے کا اعلان  کیا تو میٹرو پولیٹن پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔

(Visited 5 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *