نواز شریف ابھی زندہ ہیں! خورشید ندیم

نواز شریف ابھی زندہ ہیں!
مظلومیت اور عزیمت… کسی موڑ پر اگر ہم قدم ہو جائیں تو تاریخ کی گواہی یہ ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت ان کا سامنا نہیں کر سکتی۔
امامِ عزیمت احمد ابن حنبل جیل سے لوٹے تو ان کی دعاؤں میں ایک نئی دعا کا اضافہ ہو گیا: یااللہ ابن الہیثم پر رحم کر۔ کسی نے پوچھا: یہ اب الہیثم کون ہے جس کو آپ اپنی مناجات میں بھی یاد رکھتے ہیں۔ کہا: جیل کا ایک ساتھی۔ تفصیل بیان کی کہ جیل میں گیا تو پہلے سے موجود ایک قیدی نے مجھ سے پوچھا: کس جرم میں لائے گئے ہو۔ کہا: قرآن مجید کو مخلوق نہیں مانتا اور صاحبانِ اقتدار بزور منوانا چاہتے ہیں۔

قیدی نے کہا: دیکھو! میں ایک چور ہوں۔ کئی بار اس جرم میں پکڑا گیا مگر اس کام سے باز نہیں آیا۔ تم تو ایک اچھے مقصد کے لیے یہاں آئے۔ جیل کی سختیوں سے گھبرانا نہیں۔ اپنی بات پر قائم رہنا۔ امام نے کہا کہ ابن الہیثم یہی قیدی ہے۔ میں اس کے لیے دعا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے عزیمت کا راستہ دکھایا۔ عزیمت نے ایک چور کو تاریخ کا حصہ بنا دیا۔ اگر مقصد نیک ہو اور آدمی مظلوم بھی ہو تو پھر احمد ابن حنبل بن جاتا ہے۔ تاریخ عباسیوں کو بھول سکتی ہے، ابن حنبل کو نہیں۔
کیا آج نواز شریف کی ذات میں عزیمت اور مظلومیت جمع ہو گئے ہیں؟ کیا وہ بھی کسی نیک مقصد کے لیے حوالۂ زنداں ہیں؟ اپنے عہد کی شخصیات پر کوئی حتمی حکم لگانا ممکن نہیں۔ وقت کی صراحی سے مے حوادث قطرہ قطرہ ٹپک رہی ہے۔ واقعات کا سلسلہ دراز ہو رہا ہے اور ایک واقعہ دوسرے واقعے سے جڑا ہوا ہے۔ میں نہیں جانتا کہ دورنِ خانہ کیا کیا ہنگامے ہیں۔ شواہد یہی ہیں کہ تا دمِ تحریر نواز شریف صاحب نے عزیمت کے راستے کا انتخاب کیا ہے۔

مجھے ان کی مظلومیت میں بھی کوئی شبہ نہیں۔ ایک زمانہ جانتا ہے کہ یہ سیاسی حرکیات ہیں جو طے کرتی ہیں کہ کون اقتدار کی مسند پر بیٹھے گا اور کون جیل کا مکین بنے گا۔ دنیا جزا و سزا کا گھر نہیں ہے اور نہ ہی کوئی یہاں محتسب ہے۔ یہ اقتدار کا کھیل ہے۔ سیاست کے فیصلے حق و انصاف کے نہیں، سیاسی ضروریات کے تابع ہوتے ہیں۔ ڈھیل اور ڈیل کی باتیں خود اس کا نا قابلِ تردید ثبوت ہیں کہ یہاں معاملہ کچھ لے اور دے کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ ڈیل میں ہمیشہ ایک نہیں، ایک سے زیادہ فریق ہوتے ہیں۔ نواز شریف بدستور جیل میں ہیں۔ اقتدار کے بے رحم کھیل نے نواز شریف کو مظلوم بنا دیا ہے۔
اُن کا مقصد اعلیٰ ہے یا نہیں، اس سے قطع نظر، یہ تو طے ہے کہ ان کی ‘اصل غلطی‘ کچھ اور ہے۔ سیاسی تجزیہ کرنے والے اس غلطی کی نشان دہی کرتے رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس باب میں بھی متضاد باتیں کہی جاتی ہیں۔ کوئی کہتا کہ ان کی ‘ اصل غلطی‘ طاقت کے اصل مرکز سے بگاڑ ہے۔ وہ فوج کے ہر سربراہ سے متصادم ہو جاتے ہیں۔ انہیں اس کی سزا مل رہی ہے۔ اگر بنا کر رکھتے تو اس انجام سے دوچار نہ ہوتے۔

ایک آواز آتی ہے کہ نوازشریف کا اصل جرم یہ ہے کہ وہ اقتدار میں ہوتے ہیں تو طاقت کے اصل مراکز سے مصالحت کر لیتے ہیں۔ جب بولنے کا وقت ہوتا ہے، خاموش ہو جاتے ہیں۔ کبھی ‘ڈان لیکس‘ پر مصالحت کرتے اور پرویز رشید کو ہٹا دیتے ہیں۔کبھی مشاہد اللہ خان کو کابینہ سے نکال دیتے ہیں۔ اگر اُس وقت مصالحت نہ کرتے اور ڈٹ جاتے تو اس انجام سے دوچار نہ ہوتے۔گویا ان کا اصل جرم مصالحت ہے۔ اب عام آدمی کس کی بات مانے؟ دونوں گروہ البتہ اس پر متفق ہیں کہ ‘اصل غلطی‘ نواز شریف کی ہے، فریقِ ثانی کی نہیں۔ ان کی خدمت میں بس یہی عرض کیا جا سکتا ہے کہ:
سبھی مجھ سے یہ کہتے ہیں کہ رکھ نیچی نظر اپنی
کوئی ان سے نہیں کہتا نہ نکلو یوں عیاں ہو کر
سوال یہ بھی ہے کہ اگر غلطی کا دائرہ کچھ اور ہے تو یہ کرپشن کے مقدمات کیا ہیں؟
تاریخ کا ایک جبر یہ بھی ہے کہ وہ کسی مرحلے پر آپ پر امکانات کے ایک کے سوا، سب دروازے بند کر دیتی ہے۔ میرا احساس یہ ہے کہ نوازشریف صاحب پر یہ دروازے اب بند ہو چکے۔ عزیمت ان کا انتخاب ہی نہیں مجبوری بھی ہے۔ مصالحت کا وقت ان کے لیے گزر چکا۔

اگر اب وہ یہ راستہ اختیار کرتے ہیں تو اس کا کچھ فائدہ شاید ان کے بھائی بھتیجوں کو مل جائے لیکن ان کے لیے وقت کی صراحی خالی ہے۔ عزیمت ہی ان کے پاس واحد راستہ ہے۔
تاریخ کا یہ جبر صرف نواز شریف کے لیے نہیں ہے۔ فریقِ ثانی بھی اسی آزمائش سے دوچار ہے۔ نواز شریف اگر عزیمت کا راستہ اختیار کرتے ہیں تو دوسرے فریق کے لیے بھی امکانات کی دنیا بہت سمٹ جائے گی۔ عزیمت اور مظلومیت کا یہ ملن اس کے لیے ہی نہیں، ریاست کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ پاکستان کوسنتِ الٰہی سے کوئی استثنا حاصل نہیں۔ یہاں بھی یہ سنت اسی طرح کارفرما ہے جیسے زمین کے کسی دوسرے حصے پر۔ اگر مدینہ منورہ کی پاک سرزمین اقتدار کے کھیل میں مستثنیٰ نہیں ہوئی تو کوئی دوسرا شہر یا ملک کس شمار میں ہیں؟ واقعہ حرہ، کیا تاریخ کا حصہ نہیں؟
نواز شریف کی صحت کے لیے اگر خطرات بڑھتے ہیں تو یہ فریقِ ثانی، فریقِ ثالث، رابع، سب اس کی زد میں ہوں گے۔ صحت کی خرابی ان کی مظلومیت میں اضافہ کرے گی۔ عزیمت کا راستہ اگر انہوں نے اختیار کیے رکھا تو فریقِ ثانی کے لیے راستے بند ہوتے جائیں گے۔ نواز شریف کی زندگی میں امکانات موجود ہیں کہ ہم مزید حادثوں سے بچ جائیں۔

یزید کی مخالفت صرف رسول اللہﷺ کے نواسے سیدنا حسینؓ ابن علی نے نہیںکی تھی۔ ابوبکر صدیقؓ کے نواسے عبداللہ ابن زبیرؓ بھی اس کے خلاف میدان میں اترے تھے۔ کیا وجہ ہے کہ تاریخ نے جس طرح ابن علی ؓ کو یاد رکھا، ابن زبیر ؓ کو نہیں رکھا؟ اس کی وجہ نواسۂ رسولؐ کی مظلومیت ہے۔ ابن زبیرؓ میدانِ جنگ میں اترے۔ ایک حصہ زمین پر قبضہ کیا اور چند سال اس پر حکمرانی بھی کی۔ اقتدار کی کشمکش میں، عزیمت کے ساتھ موت کوگلے لگایا۔ سیدنا حسینؓ سراپا مظلومیت و عزیمت تھے۔ تاریخ نے فرق کرکے بتا دیا کہ جہاں دونوں جمع ہو جائیں، فریقِ ثانی کے لیے امکانات ختم ہو جاتے ہیں۔
ہم سب تاریخ کے جبر کا شکار ہیں۔ قادرِ مطلق صرف اللہ کی ذات ہے۔ مکرر عرض ہے کہ اللہ کی سنت ہمارے لیے تبدیل نہیں ہو گی۔ بھٹو کے معاملے میں ہم نے تاریخ کے انذار کو نظر انداز کیا۔ ہم اب تک اس کے نتائج کی گرفت میں ہیں۔ نواز شریف کے معاملے میں بھی اگر ہم نے اس غلطی کو دھرایا تو پھر ہمارے پاس کوئی عذر نہیں ہو گا کہ ‘سخت ہیں فطرت کی تعزیریں‘۔

(پسِ تحریر: مور کے بارے میں مشہور ہے کہ اس کا چمن اس کے دامن میں ہوتا ہے۔ جہاں پَر پھیلا دے، گلشن آراستہ ہو جاتا ہے۔ مجیب الرحمان شامی صاحب کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ وہ جہاں بیٹھ جائیں مجلس آباد ہو جاتی ہے۔ چند دن پہلے ان کے ہاں گیا تو ایسی ہی ایک محفل برپا تھی۔ بہت دنوں بعد جناب سعید اظہر کی زیارت ہوئی۔ انہیں صحت مند دیکھ کر طبیعت خوش ہوئی۔ وہ میرے لیے ذاتی طور پر شامی صاحب، خلیل ملک اور ہارون الرشید صاحب کی طرح روایت کا تحفہ ہیں‘ جس کے لیے میں اپنی روایت کا شکر گزار رہتا ہوں۔ ‘قومی ڈائجسٹ‘ کے حالیہ شمارے میں ان کا انٹرویو اس روایت کی کہانی بیان کر رہا ہے۔ شامی صاحب نے بتایا کہ سعید اظہر صاحب کے علاج کے لیے بلاول بھٹو صاحب نے بطور خاص ایثار کیا ہے۔ مجھے اچھا لگا کہ ایک سیاسی راہنما نے ایک بزرگ صحافی کی عظمت اور محنت کا اعتراف کیا۔ سعید اظہر تو اس سے بے نیاز بلکہ اس التفات سے گھبرائے ہوئے تھے۔ انہیں سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اس پیسے کا کیا کریں۔ شامی صاحب نے ہی انہیں حوصلہ دیا۔ انہیں تو بے نیاز ہی ہونا چاہیے لیکن قومی راہنماؤں کو ایسی شخصیات سے بے نیاز نہیں ہونا چاہیے کہ ان کی حیثیت قومی ورثے کی ہے جس کی حفاظت سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اس خبر سے میرے دل میں بلاول بھٹو صاحب کے ا حترام میں اضافہ ہوا۔)

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *