مہنگی بجلی کے معاہدوں کا ظلم!!!!!

میاں نواز شریف اور ان کی جماعت کے اراکین بڑھ چڑھ کر سی پیک، چائنہ کی سرمایہ کاری، آئی پی پیز، اور اس حوالے سے دیگر کاروباری معاہدوں پر بڑھ چڑھ کر باتیں کرتے ہیں۔ وہ سوشل میڈیا پر یہ مہم بھی چلاتے ہیں کہ سی پیک پر کام سست ہو چکا ہے، سادہ لوح اور معصوم عوام کو گمراہ کرنے کے لیے ہر وقت جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں، غلط بیانی کرتے ہیں، اس شدت اور تسلسل کے ساتھ جھوٹ بولتے ہیں کہ جھوٹ سچ لگنے لگتا ہے۔ موجودہ حکومت کی خامی یہ ہے کہ سی پیک کے حوالے سے اعدادوشمار کو عوام کے سامنے رکھنے کے بجائے سیاسی بیانات پر زور دیا جاتا ہے۔ یہ جو عوام کے ہمدرد اور ملک کے خیر خواہ بنتے ہیں درحقیقت انہوں نے جان بوجھ کر یا انجانے میں یا کسی بھی طرح ملک و قوم کو مختلف معاہدوں میں ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ ستم ظریفی ہے کہ اس نقصان پر شرمندہ ہونے کے بجائے عوام کو گمراہ کرنے کا سلسلہ زور و شور سے جاری ہے۔ بجلی کے معاہدوں کے ذریعے عوام پر نون لیگ کی حکومت نے اتنا بڑا ظلم کیا ہے کہ اگر وہ معاہدے اپنی اصل شکل میں جاری رہیں تو شاید عام آدمی کے لیے بجلی کا حصول ہی ناممکن ہو جائے۔ کسی بھی ملک سے کوئی بھی معاہدہ ملک و قوم کے مستقبل سے زیادہ اہم نہیں ہے۔ دعویٰ تو یہی کیا جاتا ہے کہ بجلی کے معاہدوں سے ملک و قوم کی خدمت کی گئی لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے یہ اتنے چالاک و بدنیت ہیں کہ انہوں نے اپنے دور میں مہنگے معاہدے کرنے سے پہلے میڈیا میں باقاعدہ مہم چلائی کہ مہنگی بجلی ملنی چاہیے یا بجلی نہیں ملنی چاہیے جسے شک ہے وہ میاں صاحب کے دور اقتدار کے ابتدائی عرصے میں مختلف ٹیلی ویژن چینلز کی کوریج دیکھ لے حقیقت سامنے آ جائے گی۔

اب میڈیا رپورٹ کر رہا ہے کہ کیسے بجلی معاہدوں میں عوام کو اندھیرے میں رکھ کر غیر حقیقی معاہدے کیے گئے اور ان معاہدوں کے ذریعے پاور سیکٹر کو گروی رکھ دیا گیا۔ سی پیک کے تحت لگنے والے بجلی کے منصوبے جنہیں نون لیگ کی حکومت چینی سرمایہ کاری کہتے نہیں تھکتی وہ درحقیقت مہنگا ترین قرضہ ہے۔ مقامی انگریزی روزنامے میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق پاور پلانٹس لگانے والی چینی کمپنیز نے پاور پلانٹ لگانے کیلئے چینی بنکوں سے قرضہ لیا اس پر 4.5 % کا انٹرسٹ ریٹ ہے یہ سارا بوجھ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں عوام سے وصول کیا جاتا ہے۔ یہ قرضہ ڈالرز میں ہونے کی وجہ سے شرح سود شرح دگنی ہو جاتی ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ باقی رقم چینی کمپنیوں نے ذاتی سرمایہ کاری سے لگائی اس پر حکومت نے گارنٹی دی کہ شرح منافع 27 سے 30 فیصد ہو گی ، گویا سی پیک منصوبوں سے فی یونٹ بجلی کی آپریشنل لاگت 12 روپے یونٹ ہو تو سود اور منافع شامل کر کے یہ 20 روپے یونٹ ہو جاتی ہے ، بنگلہ دیش اور انڈیا میں اوسط قیمت 10 سے 12 روپے یونٹ ہے ، ایکسپورٹ میں مقابلے کیلئے سبسڈی دینے سے اور عام آدمی کو اوسطا 12 روپے یونٹ دینے سے بجلی سیکٹر کا خسارہ ( سرکولر ڈیٹ ) 2500 ارب تک پہنچ چکا ہے جو 2023 تک 4500ارب ہو جائے گا، یہی پاکستانی معیشت کی تباہی کا سب سے بڑا سبب ہے۔ پاکستان مسلم لیگ نون فلاسفر اس تباہی پر کیا دلیل پیش کر سکتے ہیں۔ وہ جو ہر وقت ٹیلی ویژن پر چیختے نہیں تھکتے وہ قومی خزانے اور عوام پر پڑنے والے اس بوجھ کا دفاع کر سکتے ہیں۔ فارن انویسٹر کو شرح منافع گارنٹی کرنے کا معیار یہ ہے لانگ ٹرم ڈالر ڈیپاذٹ پر عالمی شرح منافع دیا جائے اس اعتبار سے دو تین فیصد زائد منافع دیا جاتا ہے۔ مثلاً سابق آئی پی پیز جو مقامی یا عالمی سرمایہ کاروں نے لگائے ان میں شرح منافع کی گارنٹی پندرہ فیصد ہے ، مگر سی پیک کے پاور پراجیکٹس کی شرح دو گنا تیس فیصد ہے ، درحقیقت سی پیک میں انرجی سیکٹر میں ’’ سرمایہ کاری ‘‘ ایک قرضہ ہے جس کا انٹرسٹ ریٹ تیس فیصد ہے ، جو اگلے بیس سال پاکستان نے ادا کرنا ہے۔ پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت کو کریڈٹ دینا چاہیے کہ انہوں نے دیگر آئی پی پییز کے ساتھ معاہدے تبدیل کر کے ریٹس کم کروائے ہیں جس سے اگلے پندرہ سالوں میں 800 ارب روپے کی رعایت ملی ہے ، اسی طرز پر جب چین سے بات کی گئی کہ شرح منافع تیس فیصد سے کم کریں تو چین نے انکار کر دیا ہے اب بات کی جا رہی ہے کہ ادائیگیاں موخر کر کے قرضے کی رقم کو لانگ ٹرم کر دیا جائے اس حوالے سے بات چیت جاری ہے۔

اس بات چیت اور اس کے نتیجے میں کام میں پیدا ہونے والی رکاوٹ کو میڈیا میں غلط انداز میں پیش کیا گیا ہے اور یہ پراپیگنڈہ شروع ہوا کہ سی پیک سست ہو گیا ہے۔ کیا قرض اور سرمایہ کاری کی غیر حقیقی شرائط کو تبدیل کرانا ضروری ہے یا پھر ناقابل عمل معاہدوں کو جاری رکھ کر پاکستانی معیشت کی دائمی تباہی کو تباہ کرنا قبول کر لیا جائے۔ بجلی اگر بیس روپے یونٹ بنتی رہی تو اگلے بیس سال معیشت کی ترقی ناممکن ہے یا پھر ہزاروں ارب کا سرکلر ڈیٹ /خسارہ جمع ہو جائے گا۔ یہ تباہی ہے عوام کے نام نہاد خدمت گاروں نے کی ہے۔ وقت کی ضرورت ہے کہ ملک و قوم کو بھاری نقصان پہنچانے والوں کا اصل چہرہ عوام کے سامنے رکھا جائے۔

(Visited 2 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *