مرسوں مرسوں صاف پانی اور بجلی نہ ڈیسوں راشد علی

پانی انسانی زندگی کی بنیادی اہم ضرورت ہے پانی اور ہوا کے بغیر انسان زندہ نہیں رہ سکتا ہے ماحول کو انسان دوست بنانا اورصاف پانی کی فراہمی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے اگر ریاست کا حاکم اس بنیادی ذمہ داری سے عہدہ برا نہ ہوسکے تو اسے اخلاقی اعتبار سے سبکدوش ہوجانا چاہیے اور ایسے فرد کو موقع دینا چاہیے جو مذکورہ مسائل کا صحیح معنوں میں تدارک کرسکے اقوام متحدہ ودیگر عالمی تنظیمیں پانی کی قلت سے متعلق وارننگ جاری کرچکے ہیں بین الاقوامی ماہرین نے مستقبل میں اس مسئلہ میں جنگیں ہونے کا بھی امکان ظاہر کیا ہے عظیم سائنسدان اسٹیفن ہاکنگ نے کہا تھا میں جو دنیا چھوڑ کے جا رہا ہوں اس کے تین مسائل ہیں پہلا پانی دوسرا دنیاکو خوراک کی فراہمی اور تیسرا گلوبل وارمنگ اس کے علاوہ جو مسائل ہیں وہ ثانوی ہیں ان کا کہنا تھا کہ جو انسان ان مسائل کو نہیں دیکھے گا دنیا کو محفوظ رکھنے میں اس کا کوئی کردار نہیں ہوگا سٹیفین کے تجزیہ کے مطابق بالخصوص حکومت سندھ اوربالعموم وفاقی حکومت ناکام نظر آتی ہیں پی پی پی حکومت سندھ ایک عشرہ میں اہلیان سندھ بالخصوص اہلیان کراچی کو صاف پانی فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے متعدد علاقوں میں صاف پانی کی ایک بوند تک موجود نہیں ہے ٹینکر مافیا کا راج ہے غریب آدمی ایک ماہ میں 10سے 15ہزار صاف پانی پینے پر صرف کرتا ہے لوڈ شیڈنگ کے عتاب سے ستائے بزرگ سروں کے بال اتراوانے پر مجبور ہیں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصویرجس میں ایک عورت گندہ پانی پی رہی ہے نے طالب علم کے دل ودماغ پر مختلف نقوش چھوڑے ہیں یک بستہ اُف افسوس کی صدا بلند ہوئی ووٹ کو عزت دو کی صورتیں باری باری آنکھوں کے سامنے آتی گئیں کبھی وہ کردار نظروں کے سامنے آئے جن کا نعرہ ہے مرسوں مرسوں سندھ نہ ڈیسوں اور کبھی وہ کردار جو خود کو کراچی کا کنگ سمجھتے تھے آج ماضی کا قصہ بننے جارہے ہیں اور کبھی وہ کردار جنہوں نے ارض پاک کو روشنیوں میں بدلنے کا عزم کیا تھا اور کبھی اذہان وقلوب میں 2007اور 2013کے جمہوری نمائندوں کے وہ وعدے یاد آئے جوانہوں نے الیکشن مہم میں کیے تھے کبھی خیال آیا کہ ان کی تقاریر کو آڈیو ویڈیو محفوظ کرنا چاہیے ایک کمیشن ہونا چاہیے جو حکومت کی پانچ سالہ کارکردگی کا جائزہ لے اگر عوامی حکومت نے اپنے وعدوں کو پچاس فیصد تک پورا نہیں کیا تو ایسی حکومت کو جرمانہ ہونا چاہیے ایسا جرمانہ جس سے احساس ذمہ داری پیدا ہو اور آنے والی حکومت بھرپور ذمہ داری سے اپنا فرض ادا کرسکے چونکہ ہماری تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ ہمارے حکمران عوام کے ساتھ مخلص نہیں ہیں یہ غریبوں کے ووٹ کے ذریعے لوٹ مار اورمنی لانڈرنگ کرنے کے لیے اقتدا ر حاصل کرتے ہیں پیسہ یہاں کماتے ہیں اورفلیٹ لندن اوردبئی میں خریدتے ہیں یہ ہماری قومی قیادت کا المیہ ہے یہ المیہ تمام برائیوں کی جڑ ہے یہ المیہ کشکول توڑنے کی راہ میں رکاوٹ ہے یہ المیہ صاف پانی کی فراہمی کی راہ میں رکاوٹ ہے یہ المیہ احساس فرض شناسی پیدا نہیں ہونے دیتا کیونکہ اقتدار کا حصول صر ف اشرافیہ کے لیے ہی ممکن ہے الیکشن سے پہلے جس طرح اہل زر ٹکٹوں کے حصول کے لیے پیسہ کی برسات کرتے ہیں اس سے ساری قوم واقف ہے لاکھوں اورکروڑوں روپیہ جلسوں جلوسوں میں صر ف کیا جاتا ہے کیوں ؟ اقتدار کے حصول کے لیے یہ پیسہ کہاں سے آتاہے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے اگر یہ پیسہ غریب کی فلاح وبہبود پر خرچ ہوتو کوئی پاکستانی پینے کے صاف پانی سے محروم نہ ہو مگر ہماری جمہوری اشرافیہ کا مقصد اقتدار کا حصول اورلوٹ کھسوٹ ہے یہی وجہ ہے کہ آج بھی اہلیان پاکستان کے متعدد شہر اور علاقے صاف پانی کے لیے ترستے ہیں صاف پانی ہماری ریاست کا بنیادی مسئلہ ہے سندھ ہو یا پنجاب بلوچستان ہو یا فاٹا صاف پانی ہماری قومی ضرورت ہے جس پر ہنگامی بنیادوں پر توجہ کی ضرورت ہے اسلامی تاریخ کا روشن کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے ہجرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مدینہ منورہ میں مسلمانوں کے لیے صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے مدینہ کا واحد کنواں بئر رومہ تھا اہلیان مدینہ اور صحابہ کرام کو میٹھے پانی کیلئے بڑی دقّت تھی میٹھے پانی کا واحد کنواں ایک یہودی کی ملکیت میں تھا وہ یہودی جس قیمت پر چاہتا مہنگے داموں پانی فروخت کرتا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس کنویں کو خرید کر اللہ کے راستے میں وقف کر دے اس کیلئے جنت کی بشارت و خوشخبری ہے حضرت عثمانؓ نے اس کنویں کو خرید کر وقف کر دیا اور رسالت مآ ب صلی اللہ علیہ وسلم سے جنت کی بشارت پائی اسلام نے صحت انسانی کو مد نظر رکھتے ہوئے پانی کی اہمیت کو کس کس طرح لوگوں کے ذہنوں میں اجاگر کیا اس کا اندازہ اس طرح لگایا جاسکتا ہے کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹھہر ے ہوئے پانی او ربہتے ہوئے پانی دونوں میں پیشاب وغیرہ کرنے سے منع فرمایا حالانکہ بہتے ہوئے پانی میں تھوڑی بہت نجاست سے اس کی طہارت متاثر نہیں ہوتی لیکن وہ آلودہ ہوجاتا ہے اور یہ آلودگی اس وقت اور بڑھ سکتی ہے جب لوگ بہتے ہوئے پانی میں پیشاب وغیرہ کرنے کو اپنی عادت میں شامل کرلیں پیشاب پر دوسری نجاستوں اور فضلا ت کو بھی قیاس کیا جاسکتا ہے جس سے اندازہ لگا جا تا ہے کہ اسلام نے آج سے ساڑھے چودہ سوسال پہلے پانی کی اہمیت وافادیت کو بیان کیا چنانچہ ایک حدیث پاک میں ارشاد نبویؐہے حضرت جابرابن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے بہتے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے
مگر افسوس ہمارے ہاں انسانی فضلا تالابوں نہروں اور دریاؤں میں بہایا جاتا ہے جس کی وجہ سے نہروں اوردریاؤں کا پانی تیزی سے خراب ہورہا ہے دوسری وجہ ناقص منصوبہ بندی کچے نالے خستہ حال سیوریج سسٹم بھی زیرزمین پانی کو خراب کرنے کا سبب بن رہا ہے موجودہ حکومتیں پانی کو ذخیرہ کرنے میں بھی ناکام دکھائی دیتی ہیں اور صاف پانی کی فراہمی سے بھی قاصر ہیں یہی وجہ ہے کہ پانی کا بحران دن بدن شدت اختیا ر کرتا جارہا ہے حکومت سندھ دعوؤں کی جھوٹ سیل لگائے ہوئے ہے اور وفاقی حکومت اٹھارہویں ترمیم کا راگ آلاپ کراپنی فرائض سے لاتعلقی کا اظہار کررہی ہے عوام پوچھتے ہیں کہ اگر صوبائی حکومت شہر قائد کو کوڑکرکٹ اور غلاظت سے لت پت کرنے پر تلی ہوئی ہے اورروشنیوں کے شہر کو اندھیروں میں ڈبونے کے در پر ہے اور پانی کی بوند بوند کوترستے بچے بوڑھے بزرگوں کی آہ و بکا ان کا کانوں تک نہیں پہنچتی ہے تو غریب عوام کہاں اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کریں اگر عوام سپریم کورٹ کو اپنے مسائل بیان کرتی ہے اوراعلیٰ عدلیہ سوموٹو لیتی ہے تو یہی حکمران اعلیٰ عدلیہ کو آئین اور قانون اور پارلیمنٹ کی اہمیت کا درس دیتے ہیں ارباب سیاست بھول جاتے ہیں کہ جب آپ نے کام نہیں کرنا تو آپ کا کام کسی نے توکرنا ہے آپ کو اعتراض کیا ہے آپ اپنے حصے کا م خود کیجئے پھر دیکھئے گا لوگ رجب طیب اردگان کی طرح کس طرح آپ کی حمایت میں نکلتے ہیں مگر بدقسمتی سے ہماری قیادت میں رجب اردگان والا جذبہ ہی کہیں دور تک نظر نہیں آتا اگر کچھ صلاحیت ہے تو وہ یہ کہنے کی ہے کہ ہمارے خلاف سازش ہورہی ہے ہمیں سائڈ لائن لگایا جارہا ہے تیسری قوت جمہوریت کی بساط لپیٹنا چاہتی ہے وغیرہ غیرہ
بلاول بھٹو صاحب کو چاہیے کہ اگر پاکستان کی خدمت کا اتنا ہی شوق ہے تو برائے کرم شہرقائد کو کوڑکرکٹ کی غلاظت اور اندھیروں سے نجات دلایئے اہلیان سندھ کو صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائیے رہی بات کراچی سے کھٹارہ بسوں کے خاتمہ کی تو وہ خواب تو اہلیان کراچی دس سال سے دیکھ رہیں جبکہ تعبیر میں قاتل ڈمپر اپنی گل فشانیاں کھلارہے ہیں مختصر یہ کہ تمام جماعتوں کو متفقہ طورپر کالاباغ ڈیم بنانے کی حمایت کرنی چاہیے اگر مسلسل اس ضرورت سے روگردانی کی گئی تو یہ ارض پاک کے لیے نقصان دہ ہوگی جس کا خمیازہ ہماری آنے والی نسلوں کو بھگتنا ہوگابروقت درست فیصلے خوشحال پاکستان کی راہ ہموار کرسکتے ہیں ۔

(Visited 21 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *