مرزا صاحباں

تحریر: مونا شہزاد ،کینیڈا
ڈھولک پر تھاپ پڑ رہی تھی، حلوائی مٹھائیاں تیار کر رہے تھے ، دلہن مایوں کے زرد جوڑے میں ملبوس اپنے گجرے کے پھول بے پروائی سے نوچ رہی تھی، باہر حویلی کے دالان میں خوب رونق تھی، مگر دلہن اپنے کمرے میں بیٹھی ہر شئے سے لاتعلق لگ رہی تھی ، ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے کسی اور کی شادی ہو اور وہ محض ایک مہمان ہو ۔ میرا نے ہنس کر دلہن کے کان میں معنی خیز سرگوشی کی مگر صاحباں کے چہرے پر کوئی رنگ نہیں آیا، اس نے بیزاری سے اپنی چٹیا پیچھے کی اور اٹھ کر دریچے میں کھڑی ہوکر باہر دیکھنے لگی،اس کی پائل کی جھنکار بھی آج کچھ باغی سی تھی۔ چوڑیوں کی کھنک بھی کچھ اور ہی داستان سنا رہی تھی ۔ باہر آسمان پر چودہویں کا چاند چمک رہا تھا، مینڈکوں کے ٹرانے سے عجب سا سماں بندھا ہوا تھا ،جھینگر علیحدہ شور مچا رہے تھے۔میرا اور لاجو نے ایک دوسرے کو متوحش نظروں سے دیکھا اور آہستگی سے صاحباں کے پاس جاکر کھڑی ہوگئیں۔میرا بولی:صاحباں! پرنتو تو وہ تو نہیں سوچ رہی جو میں سوچ رہی ہوں۔” لاجو نے گھبرا کر میرا کی طرف دیکھا اور صاحباں کا ہاتھ پکڑ کر بولی: انرتھ ہوجائے گا، صاحباں ایسا مت کرنا۔” صاحباں کے ہونٹوں پر کٹیلی سی مسکراہٹ آگئی ۔ لاجو نے خوفزدہ سی ہوکر اس ماہ پری کی طرف دیکھا،اس کا جوبن لشکارے مار رہا تھا۔ اس کی دودھیا رنگت،مدھ بھرے نین، گلاب جیسے عارض، گلابی ہونٹ جن سے نکلے الفاظ ہی کسی کو بھی مستانہ بنا دیتے تھے،بھرابھرا سراپا ،اس کا روپ زرد لباس میں بھی خیرہ کن تھا۔صاحباں کے ہونٹوں پر ایک پراسرار سی مسکراہٹ تھی۔لاجو نے دہل کر اپنے سینے پر ہاتھ رکھا اور کہا:دیا رے دیا تو نے اسے پیغام بھجوا دیا ہے؟” صاحبہ نے گردن موڑی اور کہا: ہاں میں نے اسے کہا ہے کہ آکر مجھے ڈولی میں بٹھائے۔” اس نے اپنی ہتھیلیاں کھولیں اور مسکرائی ،پھر بھید بھرے لہجے میں بولی۔ “میں نے کہا اس سے کہو مجھے آکر حنا لگائے۔”شادی کا گھر تھا،کھانا کھل چکا تھا اونچا لمبا مرزا جٹ مہمانوں کی خدمت میں مصروف تھا ۔ مرزا جٹ شیروانی پہنے دلہا ہی لگ رہا تھا۔ اس کا مضبوط سراپا اوپر سے دولت مندی اسے اس کے ہمعصروں میں ممتاز بناتی تھی،آخر کار آج اس کی دلاری بہنا کی شادی تھی۔ اچانک نائیوں کے لڑکے نے اسے باہر بلایا۔ باہر ایک گھڑ سوار پسینے میں تر بتر کھڑا تھا۔ مرزا جٹ نے آنے والے کو نہیں پہچانا۔ آنے والے نے اس گبھرو کے کان میں ایک سرگوشی کی ،مرزا جٹ ایک دم پیلا پھٹک پڑ گیا،گھڑ سوار جس سمت سے آیا تھا اسی سمت گھوڑا دوڑاتا واپس چلا گیا۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ صرف پیغام دینے آیا تھا۔مرزا زنان خانے کی طرف دوڑا،اس نے بہن کے سر پر ہاتھ رکھا، ماں کے پیر چھوئے،اس کی ماں اور بہن اس کو روکنے کو لپکیں مگر اس نے ایک نہ سنی اور عربی تازی گھوڑے پر سوار ہوکر منزلیں مارتا رات کے اندھیرے میں گم ہوگیا۔بہن نے اشک بھری نظروں سے ماں کو دیکھا اور بولی:ہائے اماں میرے نصیب کیسے۔ویر کے ہاتھ سے بابل سے رخصت ہونا بھی نہیں ملا۔” ماں نے آنسو صاف کئے اور سختی سے بولی:دعا کر تیرا ویر زندہ سلامت واپس آجائے۔” منظور بیگم کی آنکھوں کے آگے بچپن کا واقعہ گھوم گیا۔بید مرزا جٹ کے ہاتھوں پر اتالیق نے مارے اور ہاتھ صاحباں کے کٹ گئے تھے۔اس نے سوچا:کاش میں کبھی اس گاوءں میں بسی نہ ہوتی تو میرا بیٹا اس صاحباں جادوگرنی کے پیار میں ہی نہ مبتلا ہوتا۔” کاتب تقدیر نے یہ سن کر سنہرا قلم نیچے رکھا اور تاسف سے سر ہلایا۔حیف ہے تجھ پر خاکی تو آنے والے وقت سے بے خبر ،گزرے وقت کو کوستا رہتا ہے۔”رات کے اندھیرے میں صاحباں کے دریچے سے کنکری ٹکرائی۔ اس نے نیچے جھانکا ،اس کا عاشق صادق نیچے موجود تھا۔اس نے اسے اشارہ کیا اور دھیرے دھیرے سامان سمیٹا،رات آدھی سے زیادہ بھیگ چکی تھی جب وہ دریچے سے رسی باندھ کر نیچے اتری ،مرزا کے توانا بازووءں میں آکر اسے سکون ملا ۔ کچھ منٹوں بعد انھیں اپنی وارفتگیوں سے ہوش آیا تو مرزا نے اسے گھوڑے پر کھینچا ،صاحباں اپنے عاشق صادق کے ساتھ اس کے گھوڑے پر سوار ہوئی۔اب گھوڑا چل پڑا،صاحباں کا دل ڈوبنے لگا۔مرزا نے گھوڑا دوڑایا تو صاحبہ کبھی روتی کبھی اسے آہستہ ہونے کو کہتی۔ مرزا تو اس کے حکم کا غلام تھا ،وہ اس کی آنکھ میں آنسو نہیں دیکھ سکتا تھا، اسی کشمکش میں پو پھٹ گئی۔ مرزا تھکن سے چور ہوچکا تھا ، وہ دو راتوں کی مسافت طے کر کے اپنے پیار کو لینے آیا تھا،اس نے سستانے کے لیے ایک درخت کے سائے میں لیٹنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے صاحباں سے کہا: صاحباں کچھ گھڑیوں بعد مجھے جگا دینا۔”اس کی بدقسمتی سے آنکھ لگ گئی۔ ادھر سورج چڑھتا جارہا تھا مگر صاحباں اطمینان سے بیٹھی مرزا جٹ کو تک رہی تھی وہ مرزا کو بیدار کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی تھی۔ادھر صاحباں کے بھائی منزلیں مارتے سر پر پہنچ گئے۔ صاحباں نے گردن موڑی اس کے ویر گھوڑے دوڑاتے آر ہے تھے ،صاحباں کو پتا تھا کہ مرزا کو جگانے کا مطلب کیا تھا لہذا مرزا کو جگانے کے بجائے صاحباں نے اس کے سارے تیر توڑ دئیے کیونکہ مرزا غضب کا تیر انداز تھا اور صاحبہ اپنے بھائیوں کو اس کے ہاتھ مرتا نہیں دیکھ سکتی تھی۔ اس نے سوئے ہوئے مرزا کا ماتھا چوما اور کہا:میرے عاشق صادق مجھے معاف کردے اپنا خون ،میں اپنے ویروں کو خون میں لتھڑا نہیں دیکھ سکتی۔”مرزا پر اس کے بھائی ناگہانی آفت کی طرح ٹوٹ پڑے اور اس کو انہوں نے موت کے گھاٹ اْتار دیا۔ مرتے وقت بھی اس عاشق صادق کے لبوں پر صاحبہ کا ہی نام تھا ۔ اس نے مرتے مرتے کہا:صاحباں یہ کیا کیا تو نے؟ میری وفا کا بدلہ بے وفائی۔۔۔ہائے بییارو مددگار جٹ کو اپنے بھائیوں سے مروا دیا؟‘‘مرزا کی آنکھیں خون رنگ تھیں ،اس کا دم نکلا تو صاحباں نے مرزا کی تلوار اپنے پیٹ میں گھونپ لی اور مرزا کے پہلو میں دم توڑ دیا۔ دور کہیں کوئی اداس بانسری کی دھن بجا رہا تھا۔محبت کا سورج طلوع ہونے سے پہلے ہی غروب ہوگیا تھا۔بقول پیلو :مندا کیتوئی صاحبا، میرا ترکش ٹنگی او جنڈ سر توں منڈاسا اڈ گیا، گل وچ پیندی چنڈ باجھ بھراواں جٹ ماریا، کوئی نہ مرزے دے سنگ جٹا ای او۔۔ ۔ا و۔۔۔ او۔۔۔ ا و۔۔۔ او۔۔۔ ترجمہ : “(اے) صاحباں! یہ تو نے اچھا نہیں کیا کہ میرا ترکش درخت پہ لٹکا دیا (مرزا کے) سر سے پگڑی اتر گئی اور چہرے پہ دھول پڑ گئی جاٹ کو بغیر بھائیوں کے مارا اور مرزا بالکل اکیلا تھا۔” شاید ہر محبت کی کہانی کا اختتام ہجر ہی ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *