فیس بکی شاعری، چائے، اس پر ہماری رائے

دو دوست تھے دونوں کو شاعری پڑھنے اور سننے کا بہت شوق تھا ، پھر دیکھتے ہی دیکھتے ایک دوست کو شعر کہنے کی بیماری لگ گئی، دوسرے نے کئی دن برداشت کیا اور آخر کار گہری دوستی ختم ہوگئی۔

ہوا یوں کہ ایک دن جب نئے نویلے شاعر صاحب اپنی تازہ نظم سنا کر فارغ ہی ہوئے تھے کہ دوست غصے سے بولا ‘ شعر کہنا تو دور کی بات ،تم تو درست شعر سنا بھی نہیں سکتے ‘ دوست جسے یہ زعم تھا کہ وہ ایک ابھرتا ہوا شاعر ہے ناراض ہوگیا اور چیلنج کردیا کہ غزل کوئی بھی ہو میں سنا سکتا ہوں ۔ شاعر صاحب کو دوست نے غالب کا ایک شعر دیا اور کہا ‘ غزل رہنے دو تم ایک شعر پڑھ کر سنادو تو میں تمہیں مان جاوں گا۔شعر تھا؛

آگے آتی تھی حال دل پہ ہنسی

اب کسی بات پر نہیں آتی

شاعر صاحب ایک ہفتے تک اس شعر کو سنانے کی مشق کرتے رہے اور ٹھیک 7 دن بعد صبح دوست کے گھر پہنچ گئے اور بہت فخر سے شعر سنانے لگے؛

آگے آتی تھی حالِ دل پہ ہنسی

اب کسی بات پرنہیں آتی۔۔۔ ہنسی

یہ لطیفہ میں یہاں اس لیے سنا رہا ہوں کہ اب مجھ سے برداشت نہیں ہورہا ، پہلے تو میں اس لیے خاموش تھا کہ چلو کوئی بات نہیں، اپنی سوچ اپنا انداز ہے کچھ دن میں کوئی بڑا سمجھا دے گا اور آزاد اور بے ہنگم شاعری کی اس سزا، اس عذاب سے جان چھوٹ جائے گی مگر اب کچھ کہنا پڑے گا ، کچھ کرنا پڑے گا۔

مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ اب اردو ادب سے پیار کرنے والے بے شمار لوگ بغیر وزن کی شاعری سن سن کر یا تو مرچکے ہیں یا کوما میں جا چکے ہیں، اس لیے کوئی کچھ نہیں کہتا۔اب یہی شعر پڑھیے اور سر پیٹیے اپنا؛

اگر قریب ہوں تو آداب ہم بجا لیں

وہ دور ہو تو اسے دور سے سلام کریں

در اصل میں اس بے شمار اور بے ہنگم شاعری کی بات کررہا ہوں جو کہ آج کل انسٹاگرام اور فیس بک پر خوب پسند کی جارہی ہے ۔ چند خواتین نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اردو شاعری پسند کرنے والوں کو ایسی سزا دیں گی کہ جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔

ان خواتین کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر 200 سے 400 نظمیں، ٹوئٹر، فیس بک اور انسٹا گرام پر نشر کی جاتی ہیں۔ چونکہ یہ ساری خواتین خوش شکل ہیں،اس لیے کسی کی پرواہ کیے بغیر اپنی ہی تازہ نظم سے کچھ الفاظ چرا کر ایک پوسٹ تیار کرتی ہیں۔ پوسٹ پر عموماً اپنی ہی تصویر چپکا کر شیئر کا بٹن دباتی ہیں اور خوب داد سمیٹتی ہیں۔

خواب چہرہ، نشیلی آنکھوں والی تصویر پر رومن میں لکھے ہوئے ان جملوں کو گفتگو کہا جاسکتا ہے ، لطیفہ کہا جاسکتا ہے ، خبر کہا جاسکتا ہے ، ہیڈلائن کہا جاسکتا ہے مگر شاعری ہر گز نہیں کہا جا سکتا؛

زینے تو کئی ہیں دھڑکنوں کے

اب اس میں کوئی اتر کر دکھائے

اب دیکھیے اوپر والے مصرعے کے زینے جلدی ختم ہوگئے اور نیچے والے مصرعے کے دیر سے۔ دھیان میں لائیں تو خیال کے نمبر پورے ہیں مگر اس شعر پر داد نہیں مل سکتی۔ شعر وزن میں نہیں ہے اس لیے یہ جملے ‘شعر’ کہلانے کے مستحق نہیں ہیں۔

یہ سمجھنا ضروری ہے کہ عموماً شاعر حضرات کو نیا خیال ڈھونڈنے میں پریشانی ہوتی ہے۔ خیال کو شاعری کے اصولوں پر پورا اتارنا ہی اصل فن ہے۔ سوشل میڈیا پر سب کچھ الٹا ہے ، بے شمار خیالات اچھے اور برے سب موجود ہیں مگر شاعری کے اصول و ضوابط دور دور تک نہیں۔

اب ایک اور شعر پڑھیے،اسے انسٹا گرام پر شاعری کے 3700 متوالوں نے پسند کیا ہے ؛

سب ہی اسی کے طرف دار ہیں

کوئی آنسووں کا ساتھی ہو

یہ خود بڑے سمجھ دار ہیں

اگر تکلیف ان کی اپنی ہو

کوئی گلوکار، موسیقار ان چار جملوں کو کسی طرح کی ‘کمپوزیشن ‘میں ڈھال دے تو جو چور کی سزا وہ میری سزا۔ یہ تحریر لکھتے ہوئے مجھے احساس ہوا کہ میں شوقین ضرور ہوں مگر شاعر نہیں ہوں اس لیے کسی شاعر سے بھی پوچھ لیا جائے تو ہمارے کہے کی توثیق ہو جائے گی۔ہم نے اپنی پسند کے تین چار شعرا کو کچھ انسٹاگرام پوسٹ بھیجیں۔ ایک دو نے تو اس انسٹاگرامی شاعری کی شان میں وہ الفاظ استعمال کیے جو یہاں دوہرائے نہیں جا سکتے۔

جرمنی میں مقیم ایک مشہور و معروف شاعر دوست عاطف توقیر نے جواب میں خوب فرمایا کہ ‘ مسئلہ یہ ہے کہ ان اشعار کی اصلاح بہت مشکل ہے، شاعری اور نثر کا بنیادی فرق موسیقیت ہے ،یہ نہیں تو تحریر صرف نثرہوسکتی ہے ، نثری نظم ہوسکتی ہے ، نثرپارا ہوسکتی ہے بلکہ نمک پارہ یا شکر پارہ ہوسکتی ہے مگر شاعری نہیں ہوسکتی۔’

میں نے اپنے شاعر دوست سے یہ بھی پوچھا کہ آپ کے خوبصورت ترین شعر کو بھی 10ہزار لوگوں تک پہنچنے میں 3 سال لگ جاتے ہیں، یہ کیا بات ہوئی کہ یہ شاعری ہے بھی نہیں اور چند ہی گھنٹوں میں 5ہزار لوگ دیوانے ہو کر داد دیے چلے جاتے ہیں۔ عاطف توقیر نے خوبصورت جواب دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ایسا ہی سوال جون ایلیا سے کئی سال پہلے کیا تھا کہ وصی شاہ کی کتاب فوراً بِک جاتی ہے آپ کی کتاب کوئی نہیں خرید رہا۔ جون نے جواب دیا ، بکنے دو ، اگر اس کی بک رہی ہیں تو یہی لوگ ایک دن میری کتاب بھی خرید لیں گے۔ کہنے کا مطلب ہے کہ وصی شاہ کو پڑھ کر جب آگے بڑھیں گے تو جون تک پہنچیں گے ۔ وصی شاہ کو اس سے بڑا ‘کومپلیمینٹ’ نہیں مل سکتا تھا۔

عاطف نے اپنے مخصوص انداز اور بھاری سی آواز میں مجھے ہر بار کی طرح سوچنے پر مجبور کردیا۔ میرے عزیز دوست عاطف توقیر یہاں واضح فرق ہے، وصی شاہ جون جتنے بڑے شاعر نہ سہی مگر کسی حد تک وزن میں تھے اور انشااللہ رہیں گے ، لیکن یہاں معاملہ کچھ اور ہے۔

اب میرا پسندیدہ شعر حاضر ہے جو میں نے ایک مشہور و معروف اداکارہ کی انسٹاگرام فیڈ سے چرایا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ خاتون ایک بہت اچھی ‘اداکارہ’ ہیں مگر اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ ہم بھی اچھی اداکاری کرتے ہوئے شعر ہضم کرنے کی اداکاری کر لیں۔

کہہ دو مجھ سے کہ چائے دے دو

لیکن واپس میری رائے دے دو

شاعرہ نے چائے اور رائے کو ایسا ملایا ہے کہ اردو کے سارے متوالے ششدر ہیں کہ یہ خیال کسی اور بدبخت کے ذہن میں کیوں نہ آیا۔ بڑے شعر کی یہی تو خوبی ہے کہ بات سامنے کی ہوتی ہے مگر شاعر اس کا وہ زاویہ پیش کرتا ہے کہ آپ سوچنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔

ان نام نہاد شعرا کو میرا مشورہ ہے کہ جسے وہ شاعری کہہ رہے ہیں اسے شاعری کہنا چھوڑ دیں اور ایسی شاعری سے پرہیز کریں۔یاد رکھیں کہ اس سے شاعری پڑھنے اور سمجھنے والوں کی دل آزاری ہوتی ہے ، اگر طبیعت بہت ناساز ہے اور شاعری کردینا ہی مجبوری ہے تو کسی اردو کے استاد سے رابطہ کرلیں ،جو آپ کو شاعری کے بالکل بنیادی رموز سمجھا سکے۔

بے وزن شاعری بالکل ایسے ہی کانوں پر گراں گزرتی ہے جیسے کوئی آوٹ آف ٹیون گٹار پر’My heart will go on’سنانے کی کوشش کررہا ہو۔ قوم اور ملک کے ادبی ذوق پر رحم کریں، اصلاح کروائیں یا شاعری کی جان چھوڑ دیں۔

(Visited 11 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *