غزل نما

یہ وسعتِ نظر کا کمال تھا

ہر طرف تو اور تیرا خیال تھا

بد گمانو کو بھی خوش گمان تھا

یہ بھی کرشمہ حسن و جمال تھا

گزار تو لیا ہے تیرے بغیر بھی

وہ وقت بھی گویہ وبال تھا

وہ جو ہمنوا تھے کیوں تنہا کر گئے

سفر کی صعوبتوں کا یہ سوال تھا

دل میں گھر کر جائے شائد، خالد

ابھی لفظوں میں روح کا احتمال تھا

(خالد راہی)

(Visited 4 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *