عذاب بے دلئ جان مبتلا نہ گیا

عذاب بے دلئ جان مبتلا نہ گیا

جو سر پہ بار تھا اندیشۂ سزا نہ گیا

خموش ہم بھی نہیں تھے حضور یار مگر

جو کہنا چاہتے تھے بس وہی کہا نہ گیا

پلٹ کے دیکھنے کی اب تو آرزو بھی نہیں

تھی عاشقی ہمیں جب خوب، وہ زمانہ گیا

رہے مصر کہ اٹھا دیں وہ انجمن سے ہمیں

ہم اٹھنا چاہتے بھی تھے مگر اٹھا نہ گیا

ہمارے نام سے جب ذکر بے وفائی چلا

جنوں میں بول پڑے ہم سے بھی رہا نہ گیا

ہمارا قصۂ غم بیچ میں وہ چھوڑ اٹھے

انہی کی ضد تھی مگر ان ہی سے سنا نہ گیا

زمانے بھر نے کہا عرشؔ جو، خوشی سے سہا

پر ایک لفظ جو اس نے کہا سہا نہ گیا

عرش صدیقی

(Visited 9 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *