صفائی سے ’’ہاتھ کی صفائی‘‘ تک۔۔۔حسن نثار

المناک بھی ہے، طربناک بھی، مضحکہ خیز بھی، دلچسپ اور دردناک بھی کہ اک دنیا پاکستانیوں کو صاف ستھرا رہنے، صفائی اختیار کرنے کی تلقین کر رہی ہے اور اس میں بہت سے غیرملکی خواتین و حضرات بھی شامل ہیں۔ان کا خیال ہے کہ اگر ہائی جین کے حوالے سے پاکستانی طرز زندگی کو بہتر بنا لیں تو کرونا وائرس سے بچنا آسان ہو جائے گا جبکہ میں بالکل کچھ اور ہی سوچ رہا ہوں مثلاً:پاکستانی ہیں کون؟ بھاری ترین اکثریت میں تو کلمہ گو ہوئے۔پاکستان کیا ہے؟پاک لوگوں کی دھرتی جہاں پاک لوگوں نے پوری پاکیزگی کے ساتھ اپنے قواعد و ضوابط، قدیم اصولوں، رسموں، رواجوں، اللہ اور اس کے رسولؐؐ کی ہدایات و تعلیمات کی روشنی میں ایک ایسا ماڈل پیش کرنا تھا کہ دنیا ایک بار پھر ایسے ہی دنگ، انگشت بدنداں رہ جاتی

جیسے صدیوں پہلے رہ گئی تھی جب مٹھی بھر مفلوک الحال گمنام صحرا سے نکلے اور دنیا کو گلزار میں تبدیل کرتے ہوئے ہر شعبہ میں ایسے ایسے معیار متعارف کرائے کہ انسانوں کو پہلی بار علم ہوا کہ ’’اشراف المخلوقات‘‘ کا مطلب کیا ہے۔سوچ کی رتھ پر سوار میں صدیوں ادھر ادھر بھٹکتا رہا کہ تھک ہار کر دھیان گزشتہ حکومت کے اس اعلان کی طرف جا نکلا کہ اک غیرملکی کمپنی ہماری غلاظتیں سمیٹا کرے گی اور ہمارا کوڑا کرکٹ اٹھایا کرے گی۔ تب میں نے زچ ہو کر لکھا تھا کہ افسوس ہم اس قابل بھی نہیں رہ گئے کہ خود اپنا ڈالا ہوا گند ہی صاف کر سکیں۔ تب مجھے اپنا ہی اک کالا قول یاد آیا کہ …..کبھی ہمیں بتایا سمجھایا گیا تھا کہ ’’صفائی نصف ایمان ہے‘‘ لیکن ہم بدنصیبوں نے ایک دوسرے کو ’’ہاتھ کی صفائی‘‘ دکھانا ہی ایمان سمجھ لیا اور آج نوبت یہاں تک آپہنچی کہ دنیا ہمیں بتا رہی ہے کہ جان پیاری ہے، کرونا جیسی بیماری سے بچنا ہے تو طرز ِزندگی تبدیل کرتے ہوئے ’’صفائی اختیار کرو‘‘۔یہ اتنی بار وضو کیا ہے؟ناک، منہ، کانوں، گردن، گٹوں، گوڈوں کی صفائی اور بس…اعضا تو علامتیں ہیں ورنہ تو مطلب ہے دل، دماغ، آنکھوں، نیتوں اور اعمال کی صفائی، لیکن ہوا کیا؟سودا بےشک وہ کم ہی تولتا ہےروزہ لیکن وہ گھر پہ کھولتا ہےلیکن صرف صفائی ہی کیا، یہاں تو سب کچھ ہی الٹ پلٹ اور درہم برہم ہو گیا۔ فرمایا ’’مومن ایک جسم کی مانند ہیں کہ ایک عضو کو تکلیف پہنچے تو پورا بدن درد محسوس کرے‘‘ (مفہوم) ادھر ہر عضو دوسرے کے خلاف صف آرا، اور یہ بھی چھوڑو کشمیر سے دلی تک دیکھ لو کہ صرف عضو نہیں… پورے کا پورا بدن نہیں۔خاندان در خاندان صفحہ ہستی سے مٹائے جا رہے ہیں اور کرۂ ارض پر آباد

’’دوسرا بڑا خاندان‘‘ بالکل چپ ہے۔درد کا احساس تو کیا، تکلفاً بھی ’’اُف‘‘ تک کرنے کو تیار نہیں کہ تجارتی مفادات بہت عزیز ہیں۔اور کمال دیکھو، المیہ اور طربیہ کا یہ کومبی نیشن ملاحظہ ہو کہ جو اقرا (پڑھ) سے شروع ہوئے اور جنہیں کم سنی میں ہی یہ سمجھا دیا گیا کہ ’’علم تمہاری کھوئی ہوئی میراث ہے‘‘۔آج دنیا انہیں بتا رہی ہے، کروڑوں ڈالر خیرات دے رہی ہے کہ کم بختو! علم حاصل کرو لیکن ہم نے علم کو دینی دنیاوی علوم میں تقسیم کرنے کے بعد چند مرلوں پر مشتمل ’’دارالعلوم‘‘ بنائے اور پھر سکولوں میں مویشی باندھنے کے بعد امتحانی مراکز نیلام کرنے کے ساتھ ساتھ یونیورسٹیوں میں ’’سیاسی اساتذہ‘‘ بھرتی کرنے شروع کر دیے۔قرض اور مقروض کے بارے میں جو کچھ فرمایا گیا، ریکارڈ پر موجود ہر کسی
\
کو میسر بھی ہے لیکن ہم نے ’’پاک…ستان‘‘ نامی اس اسلامی اور جمہوریے کو دھکے مار مار کر وہاں پہنچا دیا جہاں قرضوں کی قسط چکانے کے لئے بھی قرض لینا پڑتا ہے، سود ہماری رگوں، ریشوں میں سمایا ہوا اور اختلاف یا بحث کس پر؟ صرف شرح سود کی کمی بیشی پر۔مومن کی فراست اس کی اک اور پہچان ہے لیکن ’’پاک…ستان‘‘ کو موجودہ حالات تک پہنچا دینے کے بعد بھی یہ ’’مخمصہ‘‘ موجود کہ کون کرپٹ تھا اور کون کرپٹ نہیں تھا۔فرمایا ’’جو ملاوٹ کرے وہ ہم میں سے نہیں‘‘ ہم نے روحوں، سوچوں اور رویوں میں ملاوٹ کو کمال بخشا تو دنیا بالکل سچی ہے جو آج ہمیں ’’ہاتھ منہ‘‘ دھونے کا سبق دے رہی ہے لیکن ہم نے ہاتھ صاف نہیں کرنے… ’’ہاتھ کی صفائی‘‘ میں مہارت حاصل کرنی ہے کہ ماتم
اور گھنگھرئوں کی صدائیں گڈ مڈ ہو چکیں۔

(Visited 7 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *