شہزادی – ڈاکٹرمیمونہ حمزہ

وہ بچوں کو سکول بھیج کر سانس بھی نہ لینے پائی تھی کہ دروازے پر ہونے والی بیل نے اسے ایک مرتبہ پھر گیٹ کی جانب بھاگنے پر مجبور کر دیا، آنے والا نہایت ہی بے صبرا تھا، یا پھر انتہائی ضرورت مند!! اس نے گیٹ کھولنے سے پہلے احتیاطاً اس کے شگاف سے جھانکا، ارے یہ تو شہزادی ہے، مگر اتنی صبح؟!دروازہ کھول کرسلام کیا اور مزید بنا کچھ پوچھے وہ اندر آگئی، اور اپنے کام میں مصروف ہو گئی، لیکن کچھ دیر بعد ہی اس نے حیرت سے اس کی جانب دیکھا، شہزادی برتن سمیٹ کر دھونے کے بجائے، لاؤنج میں بیٹھی تھی،سر جھکائے نہ جانے کن سوچوں میں گم تھی، چہرہ تنا ہوا اور آنکھیں متورم!

’’باجی، آخری بار ملنے آئی ہوں آپ سے، کوئی غلطی ہوئی ہو تو معاف کر دینا‘‘۔ وہ رندھی ہوئی آواز سے بولی۔

’’کیوں شہزادی؟ کام چھوڑ رہی ہو؟ گاؤں واپس جا رہی ہو؟؟‘‘۔ اس نے ایک ساتھ کئی سوال داغے۔

’’بس باجی ، دنیا سے جی اٹھ گیا ہے، ریل کی پٹری پر جا رہی تھی، خود کشی کرنے، لیکن سوچا آپ سے معافی مانگ لوں، مجھے بخش دینا باجی‘‘۔ اسکے ساتھ ہی اس کی سسکیاں بلند ہو گئیں، وہ کبھی آنکھیں پونچھتی، کبھی دوپٹے کے پلو سے ناک رگڑتی اور کبھی منہ پر ہاتھ رکھ کر آواز کو باہر نکلنے سے روکتی۔

ثمرہ بیگم اندر گئیں اور پانی کا گلاس لے آئیں، اس کا کندھا تھپتھپایا، اور اسے پانی کا گلاس تھما دیا۔ پانی پی کر شہزادی کو قدرے سکون کا احساس ہوا، اور ثمرہ بیگم کے استفسار پر وہ پھٹ پڑی: ’’بس باجی، یہ روز روز کی بے عزتی برداشت نہیں ہوتی، سارا دن چھوٹے چھوٹے بچے اللہ کے سہارے چھوڑ کر محنت مزدوری کرتی ہوں، لوگوں کے بچے کھچے کھانے کھا کر اپنا اور بچوں کا پیٹ پالتی ہوں، مگر میرا میاں ہٹا کٹا ہو کر بھی کوئی کام نہیں کرتا، ہاں ، ان کھانوں میں اپنا حصّہ ضرور لیتا ہے، یہ سب میں کس دل سے برداشت کرتی ہوں، میں ہی جانتی ہوں‘‘۔

’’اب کیا ہوا ہے‘‘۔ ثمرہ بیگم اس ساری کہانی سے واقف تھیں۔

’’باجی کل میں نے آپ سے کہا تھا نا کہ میں بھی شب برات کا روزہ رکھوں گی، مجھے موبائل پر مس بیل دے دیں‘‘۔ شہزادی نے تصدیق چاہی۔

’’ہاں، بیل تو دی تھی میں نے‘‘۔ ثمرہ بیگم کے جواب پر وہ پھٹ پڑی۔

’’جی باجی، اسی بیل نے تو آگ لگائی ہے، آپ کے موبائل سے دو مرتبہ بیل آئی، فون میرے بیٹے کے پاس رکھا تھا، میں تو اٹھ کر منہ ہاتھ دھونے چلی گئی، مگر مجھے اندازہ نہ ہوا کہ ندیم کے ابّے نے چھلانگ لگا کر موبائل پکڑ لیا۔ اس نے اس نمبر پر فون کی کوشش کی کہ پتا چلائے کہ آدھی رات کو کس کا فون آیا ہے؟ مگر موبائل میں بیلینس ہی نہ تھا، بس پھر کیا تھا ، وہ چیخنے اور چلانے لگا۔ میں کمرے میں آئی تو اس نے میری چوٹی پکڑ کر مجھے مارنا شروع کر دیا، وہ بری بری گالیاں دے رہا تھا، اور مجھ پر الزام لگا رہا تھا، انتہائی گندے الزامات، میں نے کہا بھی کہ دیکھ لو، اگر گاڑی کے نشان سے فون آیا ہے تو میری باجی کا فون ہے، روزے کے لئے اٹھانے کے لئے‘‘۔

ثمرہ بیگم کو یاد آ گیا، چند دن پہلے ہی تو اس نے ان کا نمبر فیڈ کروایا تھا، کہ اگر کوئی ضروری بات کہنی ہو تو اسے فون کر لیا کریں، اور جب انہوں نے پوچھا کہ کس نام سے ’’سیو‘‘ کروں تو اسی نے کہا تھا کہ باجی لکھ دیں، اور ساتھ گاڑی کی ’’اموجی‘‘ لگوائی تھی، تاکہ پڑھائی لکھائی سے نابلد شہزادی کو پتا چل جائے کہ فون باجی کی طرف سے ہے۔تب تو انہوں نے یہی سوچا تھا کہ اموجی بنانے والوں کو اندازہ بھی نہ ہو گا کہ ان کی یہ ٹیکنالوجی محض اظہار کا طاقت ور ذریعہ ہی نہیں ابلاغ کی ضرورت بھی ہے، لیکن آج اس اموجی نے آدھی رات کو شروع ہونے والی لڑائی کو کئی گنا بڑھا دیا تھا، فیاض نے اس پر تھپڑوں اور مکوں کی بارش کر دی تھی کہ بتاؤ، یہ گاڑی والا کون ہے جس کا آدھی رات کو فون آیا ہے؟ اور اسوقت کونسی دکان کھلی تھی جہاں سے بیلنس ڈالوا کر وہ اس کے شک کو دھوتی، وہ اپنی بات کی سچائی کے لئے قسمیں کھاتی رہی، جو اس درندہ صفت شخص کے لئے کوئی حیثیت نہیں رکھتی تھیں، ایسی قسمیں تو وہ دن میں کتنی ہی اٹھا لیتا تھا، جھوٹ سچ کی پرواہ کئے بغیر!!

اس نے مار مار کر اس کا بھر کس نکال دیا، پھر بھی تسلی نہ ہوئی تو صحن سے ٹوٹی ہوئی چارپائی کی ’’باہی‘‘ اٹھا لایا، اس کا تیرہ سالہ بیٹا جو معذور تھا، چلاتا ہوا اہل ِ محلہ کو مدد کی آوازیں دینے لگا، اس سے اور تو کچھ نہ ہوا، گھسٹ کر باپ کی ٹانگوں سے لپٹ گیا اور دانت اس کی پنڈلی میں گھسا دیے، اسی سے وہ تڑپ کر پیچھے ہٹا، اور مار پیٹ میں عارضی وقفہ پیدا ہو گیا، اتنی دیر میں ساتھ والے گھر سے مالک ِ مکان نے آواز لگائی، اور گلی میں کچھ اور قدموں کی چاپ بھی سنائی دی، شہزادی کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب اس کے شوہر نے دروازہ کھولا اور بغیر کسی سوال جواب کے انہیں اپنی بیوی کی ’’بےغیرتی کا قصّہ‘‘ سنانے لگا، جو دن کے وقت کام کاج کے بہانے ’’لور لورج‘‘ پھرتی ہے، اور اب رات کو اس کے لئے گاڑی والوں کی کالیں آتی ہیں۔ اس کی اس بے سروپا کہانی پر مالک مکان نے اسے خوب لتاڑا، اس کی بیوی ہی اس مشکل وقت میں شہزادی کا سہارا بنی، جس نے اہل ِ محلہ کو فیاض کے لچھن بتائے، جو کئی ماہ سے مکان کا کرایہ تک ادا نہیں کر سکا، اور نشے میں دھت سارا دن گھر میں پڑا رہتا ہے، اور جو تھوڑی بہت مزدوری کرتا ہے اس سے بھی گھر میں کوئی سودا نہیں ڈالتا، الٹا شہزادی گھروں میں کام کاج کر کے زندگی کی گاڑی گھسیٹ رہی ہے۔

اہل ِ محلہ فیاض کو لعنت ملامت کرکے چلے گئے، مالک مکان نے بھی تین دن میں سارے واجبات ادا نہ کرنے کی صورت میں مکان سے بے دخلی کا نوٹس دے دیا۔ اسکے بعد شہزادی کی سسکیاں تھیں اور کراہیں، نجانے جسم کی تکلیف زیادہ تھی یا روح کا گھاؤ؟! اس نے کسی سے کوئی بات نہیں کی، لیکن جب وہ چادر اوڑھ کر گھر سے نکلنے لگی، تو اس کا بیٹا چیخ اٹھا: ’’ امی کچھ نہ کرنا، ہمارا کیا ہو گا؟ ابا تو مار دے گا ہمیں بھی‘‘۔

اور وہ جو ریل کی پٹری پر جان دینے کے لئے گھر سے نکلی تھی، اس کے قدم ثمرہ بیگم کے گھر کی جانب مڑ گئے، چند مہینوں میں ہی وہ ان سے کافی مانوس ہوگئی تھی۔ ثمرہ بیگم نے اسے ناشتا کرنے کو کہا، اور کچھ دیر آرام کرنے کا کہہ کر وہ کسی کام چلی گئیں۔ انکی واپسی تک وہ کام ختم کر چکی تھی، اوران کا کہا ایک جملہ بھی اس کے دل میں گھر کر چکا تھا، کہ خود کشی کا مطلب ہے کہ رب کو بھی ناراض کر لو، اور جنہم کے لئے خود کو پیش کر دو، رب پر بھروسہ کرو، دنیا میں آج مشکل ہے تو کل آسانی بھی ملے گی ، لیکن اپنا فیصلہ اپنے ہاتھ میں لیا تو رب معاف نہیں کرے گا، اس سے آسانی مانگو، وہ رحم کرے گا، ان شاء اللہ۔

شہزادی گھر واپس لوٹی تو اس کے آنسو خشک ہو چکے تھے، بچوں کو کھانا کھلا کر لیٹی ،تو خوب گہری نیند آئی، اور جب اٹھی تو شام کے سائے رخصت ہو رہے تھے، اس نے روٹی بنائی، سالن گرم کیا اورحسب ِ معمول پہلے شوہر کے آگے رکھا اور پھر بچوں کے ساتھ بیٹھ کر کھایا، آج اسے کام کرتے ہوئے خوشی کا احساس ہو رہا تھا، وہ رب سے اجر لینے کی خاطر کام کر رہی تھی، عشاء پڑھ کر وہ جلد ہی سو گئی، آدھی رات کو آنکھ کھلی تو ایک ہی احساس غالب تھا، دنیا کی مصیبتیں تو ختم ہو جائیں گی، لیکن آخرت کی کامیابی کیسے ملے؟ اسے جب بھی کل کے اقدام کا خیال آتا اسے اپنے وجود پر آگ کی لپٹیں محسوس ہوتیں، اور وہ بے اختیار اﷲ سے معافی مانگنے لگتی، اللہ تعالی نے اسے کتنی بڑی مشکل میں پڑنے سے بچا لیا تھا، یہ اس کی رحمت ہی تو تھی۔ صبح کاذب اسکی آنکھ بغیر کسی الارم کے کھل گئی تھی، آج تو اسے رب کے حضور شکرانہ پیش کرنا تھا، جس نے اسے زندگی ہی نہیں دی تھی، اس کی قدر و قیمت کا احساس بھی دیا تھا، ہاں وہ زندہ تھی، آخرت کی تیاری کے لئے!

اس مرتبہ رمضان کا مہینہ بھی عجب شان سے آیا تھا، وہ سحری کے بعد کچھ دیر آرام کرتی، اور دن کے ابتدائی حصّے میں ثمرہ بیگم کے ہاں آ جاتی، گھر کی صفائی اور برتن دھونے سے فارغ ہوتی تو محلے کی خواتین قرآن کلاس کے لئے آ چکی ہوتیں، وہ جلدی جلدی کام نبٹا کر قرآن سننے بیٹھ جاتی، اس نے بچپن میں قرآن پڑھا تھا، مگر وہ پہلی مرتبہ اس کو سمجھ رہی تھی، وہ کئی ماہ سے ثمرہ بیگم کے ہاں کام کر رہی تھی، ہر جمعرات درس والی خواتین کے لئے پانی اور شربت وغیرہ کا اہتمام بھی کرتی تھی، آتے جاتے اسے کبھی درس سننے میں دلچسپی پیدا نہیں ہوئی تھی، یہی سوچتی تھی، یہ پڑھے لکھوں کی باتیں ہیں، مگر اب اسے لگ رہا تھا کہ یہ قرآن تو اس کی سب سے بڑی ڈھارس ہے، وہ جو مسلسل غمگین اور پریشان رہتی تھی، اسکے غم دھلنے لگے، اس نے ثمرہ بیگم کو بتایا کہ : ’’میں نے جب سے قرآن سننا شروع کیا ہے، میں بہت خوش رہتی ہوں‘‘۔

ثمرہ بیگم کے ہاں رات کو صلاۃ التراویح کا اہتمام ہوتا، انہیں افطاری کے بعد کسی مدد گار کی ضرورت تھی، شہزادی نے شوہر سے اجازت لی، جو اس نے کسی قدر پس و پیش کے بعد دے دی، وہ دس سالہ بیٹے کے ہمراہ آتی اور نہ صرف وہ دونوں جلدی جلدی کام سمیٹ لیتے بلکہ وہ آٹھ رکعت تراویح بھی پڑھ لیتی، واپسی پر اسکے ساتھ کھانے کے لوازمات بھی ہوتے، کبھی پکوڑے، کبھی دہی بھلے، فروٹ چاٹ اور کچھ کھانا، نجانے ثمرہ بیگم سے روزانہ ہی کھانا بچ جاتا، یا وہ خود ہی زیادہ بناتی تھیں، اب بچے تو بچے، فیاض کو بھی اس کی واپسی کا انتظار ہوتا۔

ہر سال ہی اسے الخدمت ادارے کی جانب سے راشن ملتا تھا، مگر اس مرتبہ اس میں کافی برکت محسوس ہو رہی تھی، عید کے قریب ثمرہ بیگم کے کچھ رشتہ داروں نے بیرون ِ ملک سے غریبوں کے لئے عیدی بھجوا دی، اس مرتبہ اس کے ہر بچے کے کپڑے اور جوتے تیار تھے، اور سب عید کا بے چینی سے انتظار کر رہے تھے، البتہ فیاض نے عید سے دو دن پہلے گاؤں جانے کی تیاری کر لی، سب بچے اس سے لپٹ گئے، ’’ابّا عیدی لئے بغیر جانے نہیں دیں گے‘‘، وہ نجانے کس موڈ میں تھا، دو سو روپے نکال کر بڑے بیٹے کے ہاتھ پر رکھ دیے، عید پر سب میں بانٹ دینا، بچے خوش ہو کر دائیں بائیں بھاگ گئے ، اور شہزادی سوچ رہی تھی: ’’یہ بھی تو اللہ کی رحمت ہی ہے نا، ورنہ فیاض تو رمضان کے آخر میں گاؤں پہنچ کر کسی سے فون کروایا کرتا تھا کہ وہ عید کے ہفتے بعد واپس آ جائے گا‘‘۔ آخر کار بنجر زمین سے کونپل نکل آئی تھی۔

(Visited 8 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *