سیاست میں بدکلامی کیوں؟ ڈاکٹر عبدالقدیر خان

پچھلے چند ماہ میں سب سے بڑی تبدیلی یہ آئی ہے کہ ہمارے سیاست دان اب بلاخوف و خطر اپنے بیانات میں انتہائی نامناسب زبان استعمال کرنے لگے ہیں۔ ایک دوسرے کو برے ناموں سے پکارنا، طنز کرنا ایک معمول کا مشغلہ بن گیا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ لیڈران دن بھر مشق کرتے رہتے ہیں کہ آج شام ٹی وی پروگرام میں کون کون سے موثر الفاظ استعمال کریں گے۔ خدا جانے یہ نئی نسل کو کیا سکھا رہے ہیں، دو چار سال بڑے ہوکر وہ پھر ان سے زیادہ برےالفاظ کا استعمال ان ہی استادوں کے خلاف استعمال کرینگے اور پھریہ بغلیں بجائیں گے۔ گالیاں ہم نے بھی بچپن میں نچلے لوگوں کی لڑائی میںسُن رکھی تھیں مگر آج تک ان کو دہرانے کی جرأت نہیں ہوئی۔ دیکھئے اللہ رب العزّت نے ہمیں اشرف المخلوقات بنایا ہے اور پھر مزید رحم ، کرم، شفقت کا اظہار کرکے نا صرف مسلمان بنایا اور دین اسلام عطا کیا بلکہ ہمارے

پیارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل میں ایک نہایت رحمدل، ذی فہم، مثالی رہنما اور ان کے ذریعہ کلام مجید اپنا پیغام و ہدایت ہم تک پہنچائے اسی طرح ہمیں یعنی مسلمانوں کو ایک مکمل مثالی ضابطۂ حیات بھی دیا گیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ لوگوں نے اس کو نظرانداز کرنا شروع کردیا۔خواجہ عبدالوحید صاحب نے ادارہ تحقیقات اسلامی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے شائع کردہ کتاب ’’موضوعاتِ قرآن اور انسانی زندگی‘‘ میں لکھا ہے کہ قرآن حکیم بنی نوع انسان کی رہنمائی کے لئے خالق کائنات کا ودیعت کردہ ابدی و دائمی دستور حیات ہے جس کے قوانین و ضوابط اتنے ہی متنوع اور ہمہ جہت ہیں جس قدر انسان کی اپنی زندگی۔ قرآن ہر دور کے انسان کے لئے پیغام رشد و ہدایت ہے۔ہماری زندگی کے مختلف پہلو ہیں، انفرادی، عائلی، عمرانی، قومی، بین الاقوامی، ثقافتی، معاشی وغیرہ۔ انفرادی پہلو کے ضمن میں تخلیق انسان سے لے کر اکرام انسان، احترام آدمیت، عزّت نفس، تقویٰ وغیرہ قرآن کی تعلیمات کے موضوع ہیں۔ اسی ضمن میں قرآن کریم میں طرزِ زندگی، اخلاقیات، کردار، آپس کے تعلقات اور ان کے احترام کا تفصیلی ذکر ہے۔ قرآن میں اخلاقیات و کردار پر بہت زور دیا گیا ہے کہ پورے معاشرے کی عزّت، آپس کی محبت، امن امان، ترقی کا انحصار، اَخلاق اورکردار پر منحصر ہے۔ کلام مجید میں اس پر بار بار زور دیا گیاہے اور ہدایت کی گئی ہے کہ ہم کس طرح قرآن کی روشنی میں ضابطہ یا دستور حیات پر عمل کریں تاکہ ایک پُرامن، ترقی یافتہ، اسلامی فلاحی ریاست بنا سکیں۔یہ نئی تبدیلی بالکل مختلف نتائج سامنے لارہی ہے۔ ایک نہایت گندہ کلچر پرورش پا رہا ہے جس میں انسان کی عزّت و نفس محفوظ نہیں ہے جہاں ایک دوسرے پر بیہودہ الزامات لگائے جارہے ہیں جہاں ایک دوسرے کو برے ناموں سے مخاطب کیا جارہا ہے۔

نتائج جو نکل رہے ہیں یا نکلیں گے وہ آپ خود سمجھ سکتے ہیں۔ پاکستانی ہونے پر اب شرم آتی ہے۔لوگ، لیڈر، حکمراں جو وقتی قوّت اور اقتدار کے دوران اکڑفوں دکھاتے ہیں ان کو جان لینا چاہئے کہ ’’دنیا کی زندگی تو بجز ایک دھوکے کے سودے کے کچھ نہیں‘‘ (آل عمران۔185 )۔ مزید فرمایا کہ، ’’اور تم جہاں کہیں بھی ہوگے موت تمھیں پالے گی خواہ تم مضبوط قلعوں میں ہی کیوں نا ہو‘‘ (النساء ۔ 78 )۔ اور ہر ایک کے ان کے اعمال کے مطابق الگ الگ درجے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کی جزا ان کو پوری پوری دے اور ان پر کسی طرح کا ظلم نہیںکیاجائے گا‘‘ (الاحقاف۔19 )۔اللہ رب العزّت نے ہر ایک کو انتباہ کیا ہے کہ ہر صاحب علم سے بڑھ کر ایک بڑا عالم ہے (سورہ یوسف۔76 )۔ جہاں تک اخلاقیات اور اچھے کردارکی بات ہے سورہ النور میں شرم و حیا پر زور دیا گیا ہے۔ سورہ آل عمران۔148 میں احسان کرنے

پر زور دیاگیا ہے۔ سورۃ النحل۔90 ہمیں اللہ تعالیٰ نے خوش گفتاری کا حکم دیا ہے۔ البقرہ۔183 ، یہی نہیں بلکہ ماں باپ کے ساتھ نرمی، خوش اخلاقی کا حکم دیا ہے، غرباء، مساکین، ضرورت مندوں کے ساتھ نرمی، محبت کا حکم دیا ہے۔ ایسی باتوں، وعدوں سے منع کیا ہے جو لوگ پورا نہ کرسکیں، وعدوں اور عہدوں کوپورا کرنے کا حکم دیا ہے۔ لوگوں کی امانتوں اور اپنے وعدوں کا پاس رکھنے کا حکم دیا ہے۔ انصاف پر سخت زور دیا ہے اور اس میں قطعی رعایت کی گنجائش نہیں ہے۔گواہی سچ دینا ضروری ہے خواہ وہ اپنے عزیز و اقارب کے خلاف ہی کیوں نہ دی جائے۔ حکم اِلٰہی ہے کہ ایمان والوں سے محبت اور تواضع سے پیش آئو، غرور و تکبّر کو سختی سے منع کیا ہے۔ فرمایا ہے کہ نہ اکڑ کرمنہ پھلائو اور نہ اکڑ کر چلو کہ تم نہ تو پہاڑ کے برابر بلند ہوسکتے ہو اور نہ ہی زمین کا سینہ پھاڑ سکتے ہو۔ آواز کو نرم رکھنے کا

حکم ہے کہ بُری آواز کو گدھے کی آواز سے تشبیہ دی گئی ہے۔ دوسروں کی ضرورت کو اپنی ضرورت پر ترجیح دینے کا حکم دیا ہے۔غیبت کی سخت ممانعت ہے اور ایسا کرنے کو مرے ہوئے بھائی کے گوشت کھانے کے برابر کہاگیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی خائن اور گنہگار کو دوست نہیں رکھتا۔ جو کوئی کسی گناہ کا ارتکاب کرتا ہے تو وہ اپنی ہی جان کے خلاف کرتا ہے۔ اور ہر شخص کو وہی ملے گا جو اس نے گناہ سے کمایا ہے۔ فرمان اِلٰہی ہے کہ آپؐ لوگوں کو بتادیں کہ بے حیائی کے کاموں کو حرام قراردیا گیاہے اور بہت بڑی خرابی اور سخت عتاب و عذاب ہے اس شخص پر جو جھوٹ لگانے والاگنہگار ہو، جھوٹوں اور منافقوں پر شیطان نازل کئے جاتے ہیں۔ جب لوگ حدود سے بڑھ جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آجاتے ہیں۔دیکھئے میں نے اخلاقیات کے بارے میں چند احکامات اِلٰہی کی جانب اشارہ کیا ہے لیکن ایسا محسوس ہوتا

ہے کہ ہمارے ہاںبعض لوگوں کے دلوں میں خوف خدا نہیں رہا کہ اللہ پاک ان کو ان کے کرتوتوں پر برائے حجت کچھ مہلت دے رہاہے اور وقت آنے پر ایسا سخت عذاب دیتا ہے کہ ناقابل برداشت ہوجاتا ہے۔ہمارے حکمرانوں، لیڈروں کے سامنے لاتعداد طاقتور، متکبر حکمرانوں کی مثالیں موجود ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کے تکبّر، دروغ گوئی، بے حیائی، بے ایمانی، رشوت خوری کے بدلے سخت ذلت و عتاب میں جکڑ لیا، شہنشاہ ایران، مارکوس کی مثالیں سامنے ہیں۔ مصیبت یہ ہے کہ انسان پچھلی تاریخ سے کبھی کچھ نہیں سیکھتا ۔ خود کو عقل کل سمجھتا ہے مغرور و متکبر ہوجاتا ہے۔یہی کیفیت بعض لوگوں کی ہے۔ ان کو شاید کلام مجید پڑھنے کا موقع ہی نہ ملا ہو۔ ان کو خوف خدا کیاہوگا جب گرفت ہوتی ہے تو پھر اللہ کو یاد کرنے لگتے ہیں۔ حکمرانی، اقتدار بہت بڑی امانت اور ذمہ داری ہے اگر ٹھیک سے اداکیا جائے تو سکون قلب اور رحمت اِلٰہی ملے گی۔ جھوٹ بولنے، غیبت کرنے اور افواہیں پھیلانے والوں پر اللہ کا عذاب نازل ہوتاہے۔(

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *