سوری رانگ نمبر۔۔۔ تحریر: جاوید چوہدری

سکھ نے دوسرے شہر سے اپنے گھر فون کیا‘ نوکر نے فون اٹھایا‘ سکھ کو ملازم کی آواز اجنبی سی محسوس ہوئی‘ اس نے پوچھا تم کون ہو؟ نوکر نے اپنا نام بتا دیا‘ سکھ نے کہا ’’میں نے تو تمہیں ملازم نہیں رکھا تھا‘‘ وہ بولا ’’سر مجھے آج بیگم صاحبہ نے نوکری دی‘‘ سکھ نے پوچھا ’’بیگم صاحبہ کہاں ہیں‘‘ نوکر نے جواب دیا ’’وہ صاحب کے ساتھ بیڈ روم میں ہیں‘‘ سکھ کا خون کھول اٹھا‘ اس نے کہا ’’صاحب تو میں ہوں۔وہ کس کے ساتھ گل چھرے اڑا رہی ہے‘‘ نوکر نے جواب دیا ’’سر میرا پہلا دن ہے‘ میں نہیں جانتا‘‘ سکھ نے کہا ’’تم میرا ایک کام کرو گے‘ میں تمہیں دس لاکھ روپے بھی دوں گا اور پولیس سے بھی بچا لوں گا‘‘ نوکر نے خوش ہو کر کہا ’’جی جناب کروں گا‘‘ سکھ نے کہا ’’تم

باہر گارڈ کے پاس جاؤ‘ اس سے بندوق لو اور دونوں کو گولی مار دو‘‘ نوکر نے اوکے کہا‘ فون ہولڈ پر کیا۔باہر گیا‘ بندوق لی‘ تھوڑی دیر بعد دھماکے کی آواز آئی اور پھر نوکر نے فون اٹھا لیا‘ سکھ نے پوچھا ’’کیا تم نے گولی مار دی‘‘ ملازم نے جواب دیا ’’جی سر! آپ کے حکم کی تعمیل ہو چکی ہے‘‘ سکھ نے کہا ’’تم اب دونوں کی لاشیں اٹھاؤ اور سوئمنگ پول میں پھینک دو‘‘ نوکر نے تھوڑی دیر سوچا اور پھر بولا ’’لیکن سر گھر میں تو کوئی سوئمنگ پول نہیں ‘‘ سکھ نے غصے سے کہا ’’تم کیا بکواس کر رہے ہو‘ پیچھے دیکھو‘ فون کاؤنٹر کے ساتھ ہی سوئمنگ پول ہے‘‘ نوکر نے چند سیکنڈ توقف کیا اور پھر بولا ’’سر میرے دائیں بائیں تینوں سائیڈوں پر دیواریں ہیں‘ یہاں کوئی سوئمنگ پول نہیں‘‘ سکھ کو حیرت ہوئی۔اس نے سر کھجایا اور بولا ’’تم سردار دلدار سنگھ کے گھر سے بول رہے ہو‘‘ نوکر نے جواب دیا ’’نہیں سر یہ سربجیت سنگھ کا گھر ہے‘‘ سردار نے ٹیلی فون نمبر دہرایا اور بولا ’’کیا تم اس فون نمبر سے بول رہے ہو‘‘ نوکر نے فون پر نمبر دیکھا اور بولا ’’نہیں سر یہاں یہ نمبر لکھا ہے‘‘ سکھ نے کان کھجائے اور آہستہ آواز میں بولا ’’بھائی معاف کرنا میں نے غلط نمبر ڈائل کر دیا تھا‘ سوری رانگ نمبر‘‘۔یہ بظاہر لطیفہ ہے لیکن بدقسمتی سے یہ لطیفہ پاکستان میں ہر دو تین برس بعد حقیقت ثابت ہو جاتا ہے‘ لطیفے کو تازہ ترین حقیقت بنانے کا فریضہ علامہ طاہر القادری نے انجام دیا‘ قوم کو 14 جنوری 2013اور اس کے بعد 15 اگست2014 کے دن یاد ہوں گے‘ علامہ طاہر القادری دونوں مرتبہ انقلاب کے گھوڑے پر بیٹھ کر اسلام آباد تشریف لائے تھے۔علامہ صاحب نے پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں بلیو ایریا

میںچار دن دھرنا دیا‘ یہ ملک میں کنٹینر دھرنوں کا آغاز تھا‘ علامہ صاحب کے لیے چندے سے پانچ کروڑ روپے کا بم پروف کنٹینر بنایا گیا‘ عوام انقلاب کے خواب لے کر شدید سردی میں کھلے آسمان تلے بیٹھے رہے جب کہ قائد انقلاب بم پروف کنٹینر میں کوٹ اتار کر پوری قوم سے خطاب کرتے رہے‘ راجہ پرویز اشرف اس وقت وزیراعظم تھے‘ مجھے آج بھی یاد ہے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے 15 جنوری 2013 کورینٹل پاورکیس میں راجہ پرویز اشرف کے خلاف فیصلہ دے دیا اور علامہ نے کنٹینر سے ’’مبارک ہو‘ مبارک ہو‘‘ کے نعرے لگا کر قوم کو انقلاب کی نوید سنائی تھی لیکن پھر اس دھرنے کا کیا نتیجہ نکلا‘ 10رکنی کمیٹی بنی‘ انقلابی اصلاحات کا فیصلہ ہوا اور علامہ انقلاب سمیٹ کر لاہور اور پھر کینیڈا

واپس تشریف لے گئے‘ وہ انقلاب کیسے سمیٹا گیا تھا اور کس نے کس کو کتنے پیسے ادا کیے یہ کہانیاں آج بھی سنائی اور سنی جاتی ہیں۔علامہ طاہر القادری کا دوسرا ظہور 23 جون 2014کو ہوا‘ لندن پلان کا غلغلہ اٹھا‘ مئی 2014 میں لندن میں چوہدری شجاعت حسین‘ پرویز الٰہی‘ عمران خان اور علامہ طاہر القادری کی ملاقات ہوئی‘ علامہ طاہر القادری نے23 جون کو پاکستان آنے کا اعلان فرمایا‘ علامہ صاحب کے استقبال کو شاندار بنانے کے لیے 17جون کو سانحہ ماڈل ٹاؤن ہوا‘14 لوگ شہید ہو گئے اور علامہ صاحب ان 14 لاشوں کے کندھوں پر سوار ہو کر لاہور تشریف لے آئے‘ یہ14 لوگ کون تھے‘ یہ انقلاب کو ترستے ہوئے غریب اور نادار لوگ تھے۔یہ پاکستان کو ریاست مدینہ دیکھنا چاہتے تھے اور اس کوشش میں سینے اور حلق

میں گولیاں کھا کر دنیا سے رخصت ہو گئے‘ قائد انقلاب نے ان معصوموں کے خون کو جھنڈا بنایا اور عمران خان کے ساتھ اسلام آباد پر یلغار کر دی‘ یہ یلغار 126 دن جاری رہی اور ان 126 دنوں میں کیا کیا انقلاب نہیں آیا‘ پارلیمنٹ کے جنگلے توڑے گئے‘ ایوان صدر اور وزیراعظم ہاؤس کے گیٹ اکھاڑ دیے گئے‘ پی ٹی وی پر قبضہ ہوا اور سپریم کورٹ کی دیواروں پر گندی شلواریں لٹکائی گئیں‘ یہ تماشا 126 دن چلا‘ انقلاب کے ان 126 دنوں میں ملک 126 سال پیچھے چلا گیا‘ عوام رل گئے۔اداروں کی ساکھ تباہ ہو گئی اور ملک تماشا بن گیا لیکن پھر ایک رات علامہ طاہر القادری نے خیمے سمیٹے اور طبل رخصت بجا دیا‘ اسلام آباد میں آج بھی وہ لوگ موجود ہیں جو دعویٰ کرتے ہیں سودا کتنے میں ہوا تھا اور گارنٹی کس بزرگ

خاتون نے دی تھی‘ مولانا نے پاناما اسکینڈل کے دوران ایک بار پھر یلغار کا اعلان کیا‘ یہ لندن آئے لیکن چوہدری منیر نے ملک ریاض سے درخواست کر دی اور ملک ریاض نے مطالبات مان کر علامہ طاہر القادری کو لندن ہی سے کینیڈا واپس بھجوا دیا‘ بہرحال قصہ مختصر 2018 میں علامہ طاہر القادری کے کزن کی حکومت آ گئی‘ علامہ پانچ سال ماڈل ٹاؤن کے شہداء کا لاشہ اٹھا کر پھرتے رہے تھے۔قوم کو امید تھی وہ سنہرے دن آ چکے ہیں جن کے لیے قائد انقلاب اور ان کے مریدوں نے رات جاگ کر گزاری تھی لیکن پھر ایک ایک کر کے خواب ٹوٹتے چلے گئے یہاں تک کہ علامہ طاہر القادری نے 14 ستمبرکو ’’سوری رانگ نمبر‘‘ کہہ کر سیاست سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا‘ علامہ صاحب کا فرمانا ہے یہ باقی زندگی تصنیف

اور تالیف میں گزاریں گے‘ یہ اب پوری مسلم امہ کی فکری اور روحانی تربیت کریں گے۔علامہ صاحب تاریخ اسلام کی بہت بڑی شخصیت ہیں‘ یہ وہ دیدہ ور ہیں جن کے لیے لاکھوں نرگسیں بے نوری کے باوجود ہزاروں سال تک روتی رہتی ہیں لیکن میں اس کے باوجود اس عظیم ریٹائر بطل جلیل سے چند سوال پوچھنا چاہتا ہوں‘ مجھے یقین ہے علامہ صاحب کے جواب میری روح کو طراوت بخش دیں گے اور میں ان تمام فکری مغالطوں سے باہر آ جاؤں گا جن میں میرے جیسے کم عقل لوگ برسوں سے ٹھوکریں کھا رہے ہیں‘ علامہ صاحب کی انقلابی یلغاروں نے پورے ملک کی جمہوری انتظامی چولیں ہلا دیں‘ آج حبس کے شکار لوگ لُو کی دعائیں مانگ رہے ہیں اور یہ 1976کی طرح ایک بار پھر فوج کی طرف دیکھ رہے ہیں۔اس کا

ذمے دار کون ہے؟ جنوری 2013 میں پیپلز پارٹی کی حکومت چل رہی تھی‘ الیکشن کو صرف پانچ ماہ باقی تھے‘ حکومت جمہوری طریقے سے ایک پارٹی سے دوسری پارٹی کو منتقل ہو جاتی‘ آپ کو اس میں رکاوٹ بننے کی کیا ضرورت تھی؟ لوگ نواز شریف کے دور میں سکھ کا سانس لے رہے تھے‘ ملک میں استحکام آ رہا تھا لیکن آپ نے یہ استحکام پارہ پارہ کر دیا‘ آپ کو کتنے نفلوں کا فائدہ ہوا؟ عمران خان کو اگست 2014 میں لاہور سے نکلنے کے لیے لاشیں چاہیے تھیں‘ آپ نے ماڈل ٹاؤن میں 14 لوگ مروا کر انقلاب کو لاشیں فراہم کر دیں اور لوگ پارلیمنٹ‘ ایوان صدر‘ وزیراعظم ہاؤس اور سپریم کورٹ کا احترام کرتے تھے‘ آپ نے یہ احترام بھی پارہ پارہ کر دیا۔آپ کے انقلاب سے پہلے لوگوں کے پاس آپشن ہوتا تھا‘ یہ

پیپلز پارٹی سے تنگ آ کر ن لیگ اور ن لیگ سے پریشان ہو کر پیپلز پارٹی کی طرف دیکھ لیتے تھے‘ یہ آپ اور عمران خان میں بھی امام خمینی دیکھتے تھے لیکن آپ نے لوگوں سے یہ امید بھی چھین لی‘ آپ نے پوری قوم کو ناامیدی کے اندھے غار میں دھکیل دیا اور آپ ایک ایسی سیڑھی ثابت ہوئے۔جس پر پاؤں رکھ کر وہ لوگ اوپر آ گئے جن کے پاس تجربہ تھا‘ وژن تھا اور نہ کوئی پلان اوریہ لوگ ملک کو ایک سال میں وہاں لے آئے جہاں سے اب اسے اللہ کے سوا کوئی نہیں نکال سکتا لیکن آپ نے آخر میں سکھ کی طرح ’’سوری رانگ نمبر‘‘ کہا اور ریٹائرمنٹ لے لی‘ آپ نے کینیڈا میں مستقل سکونت اختیار کر لی اور سانحہ ماڈل ٹاؤن کے غریب اور بے بس لوگ اپنے زخموں پر ٹکور کرتے رہ گئے‘ علامہ صاحب یہ آج

بھی اپنے پیاروں کی قبروں پر دیے جلاتے ہیں تو یہ انھیں ’’شہید انقلاب‘‘ کہتے ہیں‘ یہ قتل کس کی گردن پر ہیں۔یہ خون کس کے کف افسوس کا داغ ہے؟ علامہ صاحب یہ ملک اچھا خاصا چل رہا تھا‘ یہ ترقی بھی کر رہا تھا اور دنیا کی اس سے امیدیں بھی وابستہ ہوتی چلی جا رہی تھیں لیکن آپ نے اس کا رخ آگے کے بجائے پیچھے کی طرف موڑ دیا‘ آپ نے اسے کھائی کی طرف لڑھکا دیا‘ اس ظلم کا ذمے دار کون ہے؟ اور علامہ صاحب آپ کے لاکھوں مرید آپ پر یقین کرتے تھے۔یہ آپ کو اسلام کا بطل جلیل اور مہدی دوراں سمجھتے تھے‘ یہ آپ کے حکم پر جان اور مال دونوں نثار کر دیتے تھے‘ ان مریدوں کی آرزوؤں اور تمناؤں کا خون کس کے سر جائے گا‘ کیا سوری رانگ نمبر کہہ دینا کافی ہو گا‘ کیا ریٹائرمنٹ

لینے سے آپ کی غلطیاں‘ آپ کے گناہ دھل جائیں گے اور کیا آپ جیسے لوگوں کا کبھی یوم حساب نہیں آئے گا‘آپ یوں آسانی سے پتلی گلی سے نکل جائیں گے اور کوئی آپ کا راستہ نہیں روکے گا؟ مجھے یقین ہے انقلاب کے عظیم سپہ سالار رات کے کسی پہر ان سوالوں پر ضرور غور کریں گے۔قوم کو علامہ طاہر القادری کی ریٹائرمنٹ میں مستقبل کی بے شمار ریٹائرمنٹس بھی نظر آرہی ہیں‘ وہ وقت اب دور نہیں رہا جب پتلی گلی بھر جائے گی اور اس پتلی گلی کا ہر فرد ’’سوری رانگ نمبر‘‘ کہہ کر ریٹائرمنٹ کا اعلان کر رہا ہو گا تاہم میں یہ بات یقین سے کہہ سکتا ہوں قدرت علامہ طاہر القادری کا سوری رانگ نمبر قبول نہیں کرے گی‘ علامہ صاحب بہرحال حساب دے کر ہی دنیا سے رخصت ہوں گے۔

(Visited 6 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *