سالا ایک مچھر ۔۔۔ مراد علی شاہد

روائت ہے کہ ایک گائوں میں مچھروں کی بکثرت ِ پیداوار اور لوگوں کو اکثریت سے مچھروں کا’’ ٹیکہ‘‘ لگانے کی وجہ سے گائوں کے لوگ بہت پریشان تھے۔گائوں کے مکھیا نے پنجائت بلا کر پنجوں سے مشورہ کیا کہ اس مسئلہ کا کیا حل نکالا جائے۔فیصلہ یہ کیا گیا کہ شام ڈھلے جب ذرا اندھیرا چھانے لگتا ہے۔اسی وقت مچھروں کے انسانوں اور جانوروں پر حملہ آور ہونے کا بھی وقت ہوتا ہے تو عین اسی وقت

ڈنڈوں،سوٹوں،بھالوں سے ان کے ساتھ دو دو ہاتھ کئے جائیں۔چنانچہ شبِ جمعہ کے نام اس کارِ خیر کے لئے قرعہ نکالا گیا ۔کوئی گھنٹہ بھر کی گھمسان جنگ کے بعد جب گائوں کے لوگ تھک ہار کر گرنے لگے اور مچھر بھی کوئی تعداد میں کم نظر آنے لگے تو دوبدو اعلانِ جنگ کر کے مسئلہ پر مٹی ڈال دی گئی۔مکھیا کے سامنے’’ رزلٹ کارڈ‘‘ یوں پیش کیا گیا کہ سرکار جنگ تقریباً برابر ہی رہی بیس پچیس مچھروں کے پر اور ٹانگیں ہم نے توڑ دیں جبکہ اتنے ہی ہمارے ساتھی بھی زخمی ہوئے۔۔۔۔۔۔مچھر چھوٹا سا پرندہ ہے جو جانوروں اور سماجی جانوروں(انسانوں) کو بلا امتیاز کاٹ کر ان کے خون سے اپنے ہونٹ،منہ سرخ کرتا ہے اور انسانوں کے چہرے لال۔کس قسم کے جانوروں کو زیادہ کاٹتا ہے اس پر ابھی تحقیق ہو رہی ہے،تاہم انسانوں کی بات کی جائے تو ’’پوپلو‘‘(موٹے بچے)،گوری چٹیاں کلائیاں،دوشیزائوں اور خاص شکار نئی نویلی دلہن (اس لئے کہ خاوند کی طرح مچھر بھی میک اپ زدہ چہرے کے جھانسے میں آ جاتے ہیں) ہوتا ہے۔بلکہ ایسی دلہنوں کو کاٹنا تو مچھروں کا مشغلہ بنتا جا رہا ہے اور کیا حسین مشغلہ ہے۔ایسے دل پھینک مچھروں کو ان کی دیدہ دلیری اور جراٗت کی داد دینی چاہئے کہ جو دلہن کا اصل چہرہ پہلے دن ہی خاوند کے سامنے عیاں کر دیتا ہے۔حالانکہ مچھر از خود گندے نالوں،تالاب اور جوہڑوں پہ پایا جاتا ہے مگر شوق’’مکمل پاکستانی ٹھرکی بچوں‘‘ والے پال رکھے ہیں۔یعنی دلہن کو پہلی رات ایسی ایسی جگہ سے کاٹ دینا یہاں بیچارہ

لہا لاکھوں روپے خرچ کر کے سوچ بھی نہ سکتا ہو۔حجم کے لحاظ سے اگرچہ مچھر ایک چھوٹا سا پرندہ ہے مگر شرارتیں بڑی بڑی کرتا ہے۔ٰٓایک مثال ملاحظہ ہو کہ پچھلے سال مئی کے مہینے میں میرے ایک دوست کی شادی تھی۔سہاگ رات کی صبح ہی یار دوستوں میں ٹپکے کے آم کی طرح آن ٹپکا کہ میرے ساتھ دھوکہ ہو گیا ہے،خدا خیر کرے کل رات تک تو تمام معا ملات ٹھیک تھے یہ رات مین ایسی کیا پسوڑی ہو گئی ۔پوچھا کہ وہ کیسے؟ کہنے لگا رات تک تو بیگم میک اپ کے کمال

میں کمال حسین لگ رہی تھی۔صبح بغیر میک اپ دیکھ لیا اور اوپر سے لوڈشیڈنگ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مچھروں نے اس کے چہرے کی وہ ’’پپیاں‘‘ لیں کہ مجھے شرم آنے لگی کہ میرا کام تو ساری رات سالا مچھر کرتا رہا۔اس طبع آزمائی میں بیگم کا چہرہ کم اور جزائر انڈونیشیا کا نقشہ زیادہ دکھائی دے رہا ہے اور میں سمجھ رہا ہوں کہ یہ وہ والی نہیں جو رشتے کے وقت دکھائی گئی تھی،اس لئے مجھے لگ رہا ہے کہ میرے ساتھ دھوکہ ہو گیا ہے۔میں نے بات کو غیر سنجیدہ خیال کرتے ہوئے

موضوع بدلتے ہوئے کہا چھوڑو یار تم بیگم کی بات کرتے ہو اس سالے مچھر نے تو نمرود بادشاہ کی ماں بہن ایک کر دی تھی۔سالا ایک مچھر اس کے نتھنوں میں سے گھس کر دماغ کی ایسی دہی بنائی کہ جب اس کا دل چاہتا کہ اب نمرود کا ڈانس دیکھا جائے تو وہ دماغ میں آلتی پالتی مارے ایسے ایسے یوگا آسن کرتا کہ کہ نمرود کو تگنی کا ناچ نچوا دیتا اور اسے اس وقت تک چین نہ ملتا جب اپنے ہی کسی غلام سے سر پر جوتے نہ مروا لیتا،یہ ہے سالا ایک مچھر کی طاقت۔ویسے تو مچھر کسی بھی

ملک کا ہو گندے جوہڑ اور تالاب ہی اس کا مسکن و بسیرا ہوتے ہیں اور گندی جگہ ہی ان کی افزائش کے لئے مثالی خیال کی جاتی ہے،مگر آجکل ایک ایسا مچھر بھی پیدا ہو گیا ہے جو صاف پانی پر اپنا بسیرا کرتا ہے جسے ڈینگی مچھر کہا جاتا ہے یہ مچھر صرف ڈھینگیں ہی نہیں مارتا بلکہ جس کو بھی ڈنگ مارتا ہے اسے مار ہی ڈالتا ہے۔۔۔پاکستان دو وجوہات کہ بنا پر مچھروں کی پسندیدہ جگہ ہے۔گندگی اور لوڈشیڈنگ۔گندگی میں انکی طبیعت ایسے ہی بحال رہتی ہے جیسے ’’چوڑے‘‘ کی گند ی روڑی کو دیکھ کر۔اور لوڈشیڈنگ میں ’’ٹیکہ‘‘ لگانے کے مواقع زیادہ میسر آ تے ہیں۔کیونکہ اندھیرے میں مچھروں کو شب خون مارنے کا موقع بھی خوب مل جاتا ہے ۔بجلی کے جاتے ہی مچھر پاکستانیوں کے دل میں کہہ رہے ہوتے ہیں کہ
’اٹھ نالائق زندہ قومیں سویا نہیں کرتیں‘‘
چینی اور جاپانیوں کے کان میں کہہ رہے ہوتے ہیں ’’کام آرام سے بہتر ہے‘‘امریکن کو اس بات پہ لگا ئے رکھتے ہیں کہ ’’پھڈّا دوستی سے اچھا ہے‘‘انڈین کے کان کے پاس بھولے سے بھی نہیں جاتا کہ وہ دھوکے سے پکڑ کر مار دیتے ہیں،ایک مچھر اپنی چالاکی سے بچ گیا تھا آجکل وہ ان کا بھگوان ہے۔انڈین کے علاوہ افغانی بھائیوں سے بھی مچھر بہت ڈرتا ہے کہ جو بھی ان کے پاس جاتا ہے اسے قومی کھانے ’’نسوار ‘‘پہ لگا دیتا ہے یا پھر نسوار کی بو سے ہی مر جاتا ہے۔افغانستان سے

زندہ بچ جانے کے بعد مچھر ’’گھوں گھوں‘‘ کی بجائے گا نا گا رہا ہوتا ہے کہ’’مار ڈالا ۔۔ہائے مار ڈالا‘‘دشمن داری میں لوگ کہا کرتے تھے کہ ایسی جگہ ماروں گا کہ جہاں پانی بھی نہ ملے،پرانے زمانے کے اساتذہ بھی بچوں سے یہی کہا کرتے تھے کہ ایسی جگہ ماروں گا کہ’’سی سی‘‘ کرتے گھر جائوں گے اور بتا بھی نہ پائو گے کہ استاد نے کس ’’جگہ‘‘ مارا ہے۔آجکل کے مچھر بھی بہت استاد ہیں ایسی جگہ کاٹتے ہیں کہ بندہ چار بندوں میں بیٹھا یا کھڑا آزادانہ خارش بھی نہیں کر سکتا۔بس پہلو بدلنے پر

ہی اکتفا کرتا ہے اور اگر اسی محفل میں دیگر لوگ بھی پہلو بدل رہے ہوں تو سمجھ لو کہ وہ بھی مچھروں کے کٹے کم ڈسے ہوئے ہیں۔جیسے سانپ کے کاٹے کا پانی نہیں مانگتا ایسے ہی مچھر کے کاٹے کا خارش نہ مانگے بلکہ خارش ہی خارش،ایسا منظر دیکھ کر نانا یاد آ جاتا ہے،آپ سوچ رہے ہونگے کہ نانی کیوں نہیں تو صاحب یہ نانا اصلی نہیں بلکہ فلموں والا نانا پاٹیکر ہے جس کا مشہو ر ڈائیلاگ تھا کہ’’اونچی دکان،پھیکا پکوان،کھدر کی دھوتی،چاندی کا پاندان،سو میں سے اسّی بے ایمان،پھر بھی میرا دیس مہان۔۔۔۔سالا ایک مچھر آدمی کو ہیجڑا بنا دیتا ہے‘‘واقعی جب ایسی ویسی جگہوں پہ مچھر کاٹے گا تو سالا آدمی ہیجڑا نہیں بنے گا تو اور کیا بنے گا؟

(Visited 14 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *