ذہن کے تالے نہ کھلیں تو کچھ نہیں ہو سکتا! ایاز امیر

عورت مارچ کیا ہوا اِس قلعہ نُما ملک کی بنیادیں ہل گئیں۔ پلے کارڈوں پہ چند نعرے درج تھے اور محافظِ اخلاقیات وہ نہ سہہ سکے۔ اَب تک بحث چل رہی ہے کہ یہ کیا کہہ دیا، وہ کیا لکھ دیا۔ سچ تو یہ ہے کہ ہندوستان سے زیادہ محافظانِ ملت کو عورت کے وجود سے ڈر ہے۔ بس اُنہیں دبائے رکھو، ڈھانپے رکھو۔ عورت کے بال بھی نظر آ جائیں تو وجودِ ملت خطرے میں پڑ جائے۔ پاکستانی لڑکیاں اَب لڑاکا طیارے اُڑاتی ہیں۔ وہ تو ٹھیک ہے لیکن اُن کے گیسو نظر نہ آئیں۔
حیرانی اِس بات پہ ہوتی ہے کہ ملک کے اندر وعظ اور نصیحت سے فرصت نہیں ملتی۔ وہی مرد جو ملک میں پیکرِ پارسائی بنے ہوتے ہیں اُنہوں نے دوبئی یا بنکاک میں قدم نہیں رکھا اور تمام حجاب ہوا میں تحلیل ہو جاتے ہیں اور ایک نیا پاکستانی مرد نمودار ہوتا ہے۔ وہ وہاں کیا کچھ کرتا ہے، رہنے دیجیے۔ ہمارے دماغوں پہ تالے ایسے لگے ہوئے ہیں کہ ایسی چیزوں کا کھل کے ذکر نہیں ہو سکتا۔

بات البتہ کچھ اور ہے۔ پاکستانیوں کو اپنی آنکھیں اور دماغ کھولنے چاہئیں اور دنیا کے حالات کا جائزہ لینا چاہیے۔ اُنہیں یہ غور کرنا چاہیے کہ پوری دنیا میں ایک ملک بھی ایسا ہے جہاں ذہنوں پہ تالے لگے ہوں اور وہ ملک ترقی کی راہ پہ گامزن ہو۔ وہی اقوام اور وہی ملک آگے بڑھے ہیں جنہوں نے پہلے اپنے بند دماغوں کا علاج کیا ہو۔ ایک بھی تہذیب ترقی پذیر نہیں کہلائی جہاں آزادیٔ ذہن کا پہلے اہتمام نہ ہوا ہو۔ یورپ نے زمانۂ قدیم کی زنجیریں کب توڑیں؟ جب نئے اَفکار آئے اور پرانی سوچ دفن ہوئی۔ انگریزی میں ہم جسے رینیسانس (Renaissance) کہتے ہیں۔ کولمبس نے امریکہ کو دریافت کیا۔ پرنٹنگ پریس ایجاد ہوا۔ مصوری کے نئے انداز اپنائے گئے۔ سورج اور سیاروں کی نئی سمجھ ذہنوں میں اُتری۔

یورپ ترقی کی طرف تبھی چل سکا جب نئے اَفکار نے ایک نئی سوچ کی بنیاد رکھی۔ یہی فرق یورپ اور اسلامی دنیا میں ہے۔ جو نئی روشیں یورپ میں چلیں تب کی اسلامی دنیا اُن سے نا بلد رہی۔ بر صغیر کی سلطنتوں کو ہی دیکھ لیجیے۔ بہت دولت تھی۔ کیا کیا عمارات تعمیر کی گئیں لیکن سلطنتِ دہلی یا مغلوں کے حوالے سے کسی ایک کالج یا یونیورسٹی کا نشان نہیں ملتا۔ مختلف یورپی ہندوستان آئے اور جہاں اُن کا طریقۂ جنگ نئی بنیادوں پہ استوار تھا‘ ہندوستان کی فوجیں تب بھی ہاتھیوں پہ چڑھی ہوئی تھیں۔ اِسی وجہ سے کوئی عجیب بات نہیں کہ چند ہزار گوروں نے پورے ہندوستان کو فتح کر لیا اور ایسی حکمرانی قائم کی جس کے آثار اور نشانیاں اَب بھی موجود ہیں۔

ایشین ٹائیگر کو چھوڑئیے۔ ویت نام جیسا ملک ترقی کی راہ پہ چل رہا ہے۔ معیشت اُس کی کئی گنا بڑھ چکی ہے اور دنیا بھر کے انویسٹر وہاں پہ اپنا پیسہ لگانا چاہتے ہیں۔ افریقہ میں کل تک ایتھوپیا نچلی ترین سطح پہ نظر آتا تھا۔ خانہ جنگی کا شکار، اقوامِ عالم میں اُس کا کوئی مقام نہ تھا۔ آج ایتھوپیا چھلانگیں اور دوڑیں لگا کے آگے نکل رہا ہے۔ کینیا میں ہمارے جیسی کرپشن رہی‘ لیکن ملک نے ترقی کی اور آج اِسی ترقی کے حوالے سے کینیا ایک مثال بنا ہوا ہے۔ ایتھوپیا اور کینیا میں جو قدر مشترک ہے وہ آزادی کا ماحول ہے۔ معاشرے میں سوشل آزادیاں ہیں۔ اس لیے مختلف اطراف کے انویسٹر دونوں ممالک کو غور سے دیکھتے ہیں۔ ہمارا حال پتلا ہے۔ اس وجہ سے کہ یہاں ذہن بند ہیں۔ سوچ پہ تالے لگے ہوئے ہیں۔ کھلی بات کر نہیں سکتے۔ جہاں جائیں وعظ اور نصیحت کی باتیں۔ اعمال بالکل مختلف لیکن زبانوں پہ وردِ پارسائی۔ جب تک یہ صورت حال تبدیل نہ ہو کون کمبخت دیگر دنیا کو چھوڑ کے پاکستان کی طرف اپنا منہ موڑے گا۔ آئے گا بھی تو کیوں؟ کس وجہ سے؟ یہاں کیا کشش موجود ہے؟ محافظانِ ملت و اخلاقیات کو اِن سوالوں پہ غور کرنا چاہیے۔

پاکستان نے آگے کی طرف نکلنا ہے تو ایک بات لازم ہے۔ قوم کے ذہن پہ جو تالے 1977ء میں بھٹو مخالف تحریک میں لگے تھے، ان کو کھولنا ہو گا۔ بھٹو کے بعد جنرل ضیاء الحق نے جو منافقت کا علم بلند کیا اُسے نیچے کرنا ہو گا۔ پاکستان کو اُس حالت میں لانا ہو گا‘ جو 1977ء سے پہلے معرضِ وجود میں تھی۔ یہ ریورس گیئر کوئی کمزور حکمران نہیں لگا سکتا۔ اِس کیلئے قدرے جرأت کی ضرورت ہے۔ عمران خان کیا ایسی جرأت دکھا سکتے ہیں؟ پہلے تو اُنہیں اپنے فرسودہ نعروں کے چنگل سے نکلنا ہو گا۔ دنیا کہاں جا رہی ہے اور وہ کیا نعرے لگاتے ہیں۔
باہر کے ائیر پورٹوں پہ اُتریں تو ایک نئی دنیا نظر آتی ہے۔ ہمارے ائیر پورٹوں پہ کوئی بھولا بھٹکا آ بھی جائے تو منظر اور ماحول ایسا نظر آتا ہے کہ منچلا دل بھی ڈپریشن کا شکار ہو جائے۔ ہمارے بڑے ہوٹلوں کا ماحول ایسا ہے کہ کوئی اندر قدم رکھے تو باہر بھاگنے کو دل کرتا ہے۔ ہم یہ توقع لگائے بیٹھے ہیں کہ باہر کے لوگ تجوریاں بھر کے پاکستان آئیں گے۔ پہلے ماحول کھولو پھر ایسے خواب دیکھو۔ اگر دوبئی بننا چاہتے ہیں تو دوبئی والی ہمت تو دکھاؤ۔ وہ بھی مسلمان ملک ہے۔ ترکی بھی مسلمان ملک ہے۔ لیکن ہمارا حال انوکھا اور نرالا ہے۔ یہ کسی اور نے نہیں کیا‘ ہم نے خود ایسی وارداتیں ڈالی ہیں کہ ہمارا یہ حال ہو گیا ہے۔

ایک اور بات، جو نیشنل سکیورٹی کا ہمارا تصور ہے وہ اور ترقی کی راہ دو متضاد چیزیں ہیں۔ ہمسایہ ملک سے مخاصمت اپنی جگہ لیکن بات چیت کا ماحول بنانا ضروری ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ ہر بارڈر، مشرق و مغرب، پُر خطر ہو اور ساتھ ساتھ ہم نیا ایشین ٹائیگر بھی بن جائیں۔ ممکنات کی دنیا میں ایسے معجزے سرزد نہیں ہوتے۔ اسی لیے کالعدم تنظیموں کے خلاف سنجیدہ عمل اچھی چیز ہے۔ صرف اچھی نہیں ناگزیر ہے۔ اِس کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ یہ کالعدم تنظیموں کو بھی سمجھنا چاہیے۔ پرانی روشوں کا وقت اَب گیا۔ پاکستان نے کوئی نیا طلوع دیکھنا ہے تو پچھلے تیس سال کا چلن بدلنا ہو گا۔ اچھی بات ہے کہ افغانستان میں امن کی طرف جانے کی کوششیں ہو رہی ہیں ۔ اَمن پتہ نہیں کب قائم ہو اور امریکی وہاں سے کب جاتے ہیں‘ لیکن جو حکومت آئندہ وہاں قائم ہو وہ جس ملک سے مرضی تعلقات قائم کرے‘ ہمیں بخار نہیں چڑھنا چاہیے۔ یہ کہ صرف ہمارا اَثر کابل میں ہو بیوقوفانہ سوچ ہے۔ ایسا ہو نہیں سکتا۔ اور ایسے ارادے ہمیں ترک کرنا چاہئیں۔

یہ خیال بھی ذہن نشین ہو کہ نریندر مودی ہندوستان کا وزیر اعظم ہے، ہندوستان نہیں۔ ہندوستان نریندر مودی سے بڑا ہے۔ آج بی جے پی اقتدار میں ہے، شاید کل نہ رہے۔ ہندوستان کے ساتھ نارمل تعلقات ضروری ہیں اور اگر کشمیر کے مسئلے کا کوئی حل نکلنا ہے تو وہ بھی پاک بھارت تعلقات میں بہتری کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ اُس کے بغیر نہیں۔ شمالی آئرلینڈ کا مسئلہ کیسے حل ہوا؟ بندوقیں وہاں بہت چلیں لیکن مسئلے کا حل نہ ہوا۔ برطانیہ اور آئرلینڈ کے مشترکہ سمجھوتے کی وجہ سے مسئلہ ٹھیک ہوا۔ کشمیر میں بھی ہم جنگیں آزما چکے لیکن اُن سے فائدے کی بجائے نقصان ہی پہنچا۔ یہ دیرپا عمل ہے۔ ایک دن میں کوئی حل نہیں نکلے گا۔ لیکن پہلا قدم یہ ہے کہ ہم اپنے داخلی حالات بہتر کریں۔ پاکستان کا آدھا وجود زمانۂ قدیم میں ہے۔ ہمارے ذہن وہاں پھنسے ہوئے ہیں۔ اُن اندھیروں سے نکلیں گے تب ہی نئے اُفقوں کی طرف جا سکتے ہیں۔

کیا ہمیں کبھی یہ خیال نہیں آیا کہ 1947ء میں پورے ایشیا میں دو ہی جمہوریتیں تھیں، پاکستان اور ہندوستان۔ سری لنکا اور برما ایک سال بعد آزاد ہوئے۔ چین میں اُس وقت خانہ جنگی چل رہی تھی، قتل و غارت کا سامان ہر جگہ تھا۔ کوریا کی جنگ 1950ء میں چھڑی اور ہولناک تباہی کے بعد تین سال بعد ختم ہوئی۔ ملائیشیا کہیں 1957-58ء میں آزاد ہوا۔ تائیوان کسی کھاتے میں نہ تھا۔ کراچی کی روشنیوں کا مقابلہ ممبئی اور ہانگ کانگ سے کیا جا سکتا تھا۔ دنیا کی تمام ائیر لائنیں کراچی آتی تھیں۔ ہماری پی آئی اے صفِ اول کی ائیر لائنوں میں تھی۔ ایرانی ائیر فورس کے کیڈٹ رسالپور میں ٹریننگ کے لئے آتے تھے۔ ہم نے اپنا حال کیا کر دیا؟ کن بلندیوں سے پستی کی طرف آئے۔ اپنا کچھ کرنا ہے تو سفر کو بدلنا پڑے گا۔ لیکن شرط وہی ہے کہ کچھ سوچ ہو اور کچھ ہمت۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *