درد دور کرنے کے چند آزمودہ ٹوٹکے

درد اگر کسی بڑے طبی مسئلے کی وجہ سے نہ ہو تو ہلکے پھلکے درد کے لیے بنیادی درد کُش دواؤں کے استعمال کی بجائے گھر پر موجود قدرتی اشیاء کا استمعال کر لینا چاہیے۔

درد کُش ادویات کی اہمیت اپنی جگہ لیکن اس سے پہلے ایک دفعہ قدرتی طریقہ استعمال کر کے دیکھ لینا چاہیے۔ درد کم کرنے کے کچھ قدرتی طریقے بہت مؤثر ثابت ہوتے ہیں اور ان کے صحت پر کسی قسم کے سائڈ ایفیکٹس بھی نہیں ہوتے۔

ہلدی

ہلدی کے استعمال کی تاریخ صدیوں پرانی ہے۔ فوٹو: دی نیوٹریشن ایکسپ ڈاٹ کام

ہلدی کا استعمال صدیوں سے کھانوں کو منفرد ذائقے اور خوبصورت سنہرا رنگ دینے کے لیے استعمال ہوتا آ رہا ہے۔ ہلدی کا استعمال زخموں کو مندمل کرنے کے لیے  حِکمت میں بھی نظر آتا ہے۔

ہلدی میں ‘کرکومن’ نامی جُز ہوتا ہے جو بہت طاقتور اینٹی اوکسی ڈینٹ اور اینٹی انفلیمینٹری ہے۔

ہلدی جسم میں خون کے خلیوں کو ٹوٹ پھوٹ کا شکار بننے سے بچاتی ہے اور زخمی ٹشوز کو سوجن سے دور رکھتی ہے۔

اپسم نمک 

اپسم سالٹ کا کیمیائی نام میگنیشیئم سلفیٹ ہے۔  فوٹو کریڈٹ : دی نیوٹریشن ایکسپ ڈاٹ کام

نگل لینے سے بعض دفع بیرونی طور پر کسی چیز کا استعمال زیادہ بہتر ہوتا ہے۔ اس کی بہترین مثال اپسم نمک ہے۔

نیم گرم پانی میں اپسم نمک ملا کر ہڈیوں اور جوڑوں کے درد کے ساتھ پٹھوں کی سوجن میں جسم کا متاثرہ حصہ ڈبونے سے آرام ملتا ہے۔

یہ اس طرح کام کرتا ہے کہ اپسم نمک پانی بھیگتے ہی میگنیشئم اور سلفیٹ میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ تقسیم ہو جانے کے بعد نمک جلد میں جذب ہو کر درد والے جسمانی حصے کو آرام پہنچاتا ہے۔

جسم سے درد کے سگنلز دماغ کو پہنچانے کے دوران میگنیشیم بخوبی کام کرتا ہے۔ یہ پٹھوں کے سکڑنے اور پھیلنے کے عمل کو بہتر بناتا ہے اور دباؤ کے اثرات کم کرتا ہے۔

یخنی

یخنی کا استعمال موسم سرما کے لیے مخصوص سمجھا جاتا ہے۔  فوٹو کریڈٹ : دی نیوٹریشن ایکسپ ڈاٹ کام

ہڈیوں کی یخنی کا استعمال موسم سرما کے لیے مخصوص سمجھا جاتا ہے لیکن یہ یخنی استعمال کر کے کولاجن، پرولائن، گلوٹامائن وغیرہ جسیے اہم غذائی جُز جسم میں پہنچائے جا سکتے ہیں۔ ان سے جسمانی درد میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔

جیلاٹن کی بدولت ہڈیوں کی یخنی جوڑوں کی رگڑ کو کم کرتی ہے۔ دیگر اجزاء جسم میں انفلیمیشن، پٹھوں کی مرمت کا کام سرانجام دیتے ہیں۔

لونگ 

دانت کے درد کے لیے لونگ کا استعمال زمانہ قدیم سے ہوتا آیا ہے۔  فوٹو کریڈٹ : دی نیوٹریشن ایکسپ ڈاٹ کام

لونگ گرم مصالحے کا لازمی حصہ ہیں۔ درد کم کرنے کے لیے اس کا استعمال اندرونی اور بیرونی طور پر دونوں طرح ہوتا ہے۔ لونگ ثابت، پاؤڈر اور تیل میں مکس کر کے بھی استعمال ہوتی ہیں۔

کئی لوگ لونگ کا استعمال سر درد، آرتھرائٹس اور سب سے بڑھ کر دانت کے درد سے آرام کے لیے کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ فنگل انفیکشن کے علاج کے لیے لونگ کا استعمال بہترین سمجھا جاتا ہے۔

لونگ میں موجود درد کش عنصر ‘یوجینول’ کہلاتا ہے، یہ عنصر درد دور کرنے والی کریموں میں بھی ہوتا ہے۔ دانت درد، جوڑوں اور پٹھوں کے درد کی صورت میں لونگ کا تیل براہ راست متاثرہ جگہ پر لگانا چا ہیے۔

ماہرین کے مطابق لونگ کے تیل کا استعمال بیرونی جلد پر بہت زیادہ ہونے کے صورت میں جلد خراب بھی ہو سکتی ہے۔

نوٹ: جو لوگ خون کو پتلا کرنے کی دوائیں لیتے ہیں انہیں لونگ کے استعمال سے سختی سے منع کیا جاتا ہے۔

گرمائش اور ٹھنڈک 

برف اور گرم پانی سے سکائی چوٹ لگنے کی صورت میں کرنا عام ہے۔  فوٹو کریڈٹ : دی نیوٹریشن ایکسپ ڈاٹ کام

سینے کی جکڑن یا کسی قسم کی سوجن کے لیے گرمائش اور ٹھنڈک کا استعمال کیا جاتا ہے۔ کسی چوٹ کی صورت میں گرمائش اور ٹھنڈک کے ایک ساتھ استعمال کا مؤثر ترین طریقہ زمانہ قدیم سے استعمال کیا جاتا ہے تاہم یہ طریقہ ایک خاص طرح سے کرنے سے ہی مؤثر ثابت ہوتا ہے۔

درد زیادہ ہونے  یا کسی بڑی بیماری کی صورت میں ٹوٹکوں کی بجائے فوراً اپنے معالج سے رابطہ کرنا ضروری ہے۔ ہلکی پھلکی چوٹ اور درد کی صورت میں گھریلو آزمودہ ٹوٹکے آزما لینے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔

(Visited 20 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *