خسارے کے سوداگر – جاوید چوہدری

اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے کسی شخص کوکسی ایسے بزرگ سے ملا دیا جو جس پتھر پر انگلی رکھ دیتا تھا وہ سونے کا بن جاتا تھا‘ وہ شخص اس بزرگ کے پیچھے پیچھے چل پڑا‘بزرگ نے اس کی طرف دیکھ کر پوچھا ’’ہاں بتائو تمہیں کیا چاہیے‘‘ وہ بولا ’’غریب ہوں اللہ تعالیٰ نے آپکے پاس بھجوا دیا‘ آپ ذرا مہربانی فرما دیں‘‘ بزرگ نے سامنے موجود چٹان پر انگلی رکھی‘ بسم اللہ پڑھی اور وہ چٹان چند لمحوں میں سونے کی ہو گئی۔
بزرگ نے چٹان کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا ’’یہ لے جائو اور عیش کرو‘‘ بزرگ اس کے بعد آگے چل پڑے‘ تھوڑی دیر بعد انھیں محسوس ہوا وہ حاجت مند دوبارہ ان کے پیچھے پیچھے چل رہا ہے‘ بزرگ مڑے‘ حیرت سے اس کی طرف دیکھا اور پھر پوچھا ’’تمہیں اب کیا چاہیے‘‘ حاجت مند آہستہ آواز میں بولا ’’اگر تھوڑی سی مزید مہربانی ہو جاتی تو!‘‘ اللہ کے اس برگزیدہ شخص نے تین چار چٹانوں کو انگلی سے چھو دیا‘ وہ ساری سونے کی بن گئیں‘ بزرگ نے وہ چٹانیں بھی اس کے حوالے کر دیں اور آگے چل پڑے‘ وہ ابھی زیادہ دورنہیں گئے تھے کہ انھیں وہ حاجت مند ایک بار پھر اپنی طرف آتا ہوا محسوس ہوا‘ وہ رکے‘ حیرت سے اس کی طرف دیکھا اور پھر پوچھا ’’تمہیں اب کیاچاہیے؟‘‘ وہ شخص تھوڑا سا جھجکا اور بولا’’حضور کیا مجھے آپکی یہ انگلی مل سکتی ہے؟‘‘۔

یہ چھوٹا سا واقعہ ہم انسانوں کی لامتناہی خواہشوں اور تاحد نظر پھیلے لالچ کے ناتمام سلسلے کو ظاہر کرتا ہے‘ ہم انسان جب لالچ کا شکار ہوتے ہیں تو ہم سونے چاندی کی چٹانیں پا کر بھی انگلی کی طرف حسرت سے دیکھتے رہتے ہیں‘ ہم مطمئن نہیں ہوتے‘ آپ اپنے دائیں بائیں دیکھیں‘ آپ کسی روز آئینے میں خود کو بھی دیکھ لیں‘ آپ کو اپنے اندر بھی ایک ایسا ہی شخص چھپا ہوا ملے گا اور آپ کو دائیں بائیں بھی یہی لوگ دکھائی دیں گے‘ ہم انسان اللہ کی دل چسپ مخلوق ہیں‘ ہم جب لالچ کے بل میں داخل ہوتے ہیں تو ہم میں اور چیونٹیوں میں کوئی فرق نہیں رہتا‘ ہم پوری زندگی اپنے سائز سے بڑی چٹانیں کھینچتے رہتے ہیں اور کسی روز لالچ کی کسی چٹان کے نیچے دب کر مر جاتے ہیں۔
میں لاہور کے ایک خاندان کو جانتا ہوں‘ والد نے بے انتہا محنت کی‘ کروڑوں روپے کمائے‘ انتقال ہو گیا‘ لواحقین میں ورثہ تقسیم ہو گیا‘ ایک بیٹے نے پہلے بہنوں اور والدہ کے حصے پر قبضہ کیا‘ وہ پھر بھائیوں کے مال پر ہاتھ مارنے لگا‘ لڑائی ہوئی اور اس نے بھائی کوقتل کر دیا‘ پولیس کیس بنا‘ قتل ثابت ہو گیا اور وہ پھانسی لگ گیا‘ جائیداد کا بڑا حصہ مقدمے بازیوں میں ضایع ہوگیا‘ سارا خاندان رل گیا‘ وہ جائیداد آج بھی اللہ کی زمین پر عبرت کی نشانی بن کر پڑی ہے‘ میرے پاس اسلام آباد کے ایک ارب پتی تاجر آئے‘ پوری زندگی مال جمع کرنے میں صرف کر دی‘ دن دیکھا اور نہ رات‘ صبح فیکٹری جاتے تھے اور آدھی رات کو واپس آتے تھے‘ بچے کب پیدا ہوئے‘ کب بڑے ہوئے اور کب کالجوں اور یونیورسٹیوں سے نکلے؟

وہ نہیں جانتے تھے‘بچوں کی شادیاں بھی بزنس پارٹنر شپ کی طرح کیں‘آخر میں جب سونے کی چٹانیں گنتے گنتے تھک گئے تو سر اٹھا کر دیکھا ‘ پتا چلا یہ پوری دنیا میں اکیلے ہیں‘ اولاد ہے لیکن یہ سر سے پائوں تک اجنبی ہے‘ ساڑھے سات ارب کی اس دنیا میں کوئی ایک بھی شخص ایسا نہیں جسے یہ دوست کہہ سکیں‘ بیوی کو بھی دور ہوئے برسوں ہو چکے ہیں اور ان کی صحت بھی ان سے مکمل طور پر بچھڑ چکی تھی‘ وہ گھبرا کر میرے پاس آ گئے مگر وہ دولت کی چٹان کو دھکیلتے دھکیلتے اتنے دور آ چکے تھے کہ اب قافلے سے ملاقات ناممکن تھی‘ میں نے ان سے عرض کیا۔
آپ کے پاس اب خیرات‘ فلاح انسانیت اور خدمت کے سوا کوئی آپشن نہیں بچا‘ آپ اپنی آدھی دولت اللہ کی راہ میں خرچ کر دیں‘ آپ کو سکون مل جائے گا ورنہ دوسری صورت میں یہ سفر رائیگاں‘ خاک چھاننے کے سوا کچھ ثابت نہیں ہو گا‘ وہ واپس گئے‘ فلاح وبہبود کے کام شروع کرنے کی کوشش کی لیکن بری طرح ناکام ہو گئے‘ کیوں؟ کیوں کہ انھوں نے چالیس برس کی پروفیشنل لائف میں پیسہ کمانے کے سوا کچھ نہیں سیکھا تھا چناں چہ جب پیسہ ہاتھ سے نکلتا تھا تو ان کے دل پر ضرب پڑتی تھی‘ نتیجہ یہ نکلا‘ ہارٹ اٹیک ہوا اور وہ دفتر میں اپنی کرسی پر بیٹھے بیٹھے انتقال کر گئے‘ اولاد نے لاش سرد خانے میں رکھ دی اور جائیداد کے لیے لڑنا شروع کر دیا۔

یہ لاش بعد ازاں عزیز رشتے داروں نے دفن کی‘ اولاد جنازے میں بھی شریک نہیں ہوئی‘ وراثت کی لڑائی تین برسوں سے جاری ہے‘ وہ ساری زندگی جو تنکے‘ جو پتے جمع کرتے رہے تھے وہ آج کل گلیوں میں اڑتے اور بکھرتے نظر آ رہے ہیں‘ میرے پاس چند دن قبل ایک دوست تشریف لائے‘ وہ بہت دکھی تھے‘ میں نے وجہ پوچھی‘ وہ بولے میں نے ایک کمرشل پلاٹ کا سودا کیا تھا‘ پلاٹ کی پاور آف اٹارنی مالک کے داماد کے پاس تھی‘ وہ صاحب اور ان کی بیگم جلد سے جلد ٹرانسفر پر زور دے رہے تھے‘ میں نے جیسے تیسے رقم جمع کی اور پلاٹ ٹرانسفر کرانے کے لیے ایل ڈی اے کے دفتر چلا گیا لیکن ٹرانسفر کے وقت عدالت کا آرڈر آگیا‘ پتا چلا پلاٹ کے اصل مالک پچھلی رات انتقال کر گئے ہیں‘ انتقال کے بعد پاور آف اٹارنی غیر موثر ہو گئی اور جائیداد وراثت میں چلی گئی‘ پلاٹ کی ٹرانسفر رک گئی۔
میرے دوست کے بقول ’’ میں ایل ڈی اے میں کھڑا تھا‘ پلاٹ بیچنے والے میاں بیوی ایک دوسرے سے لڑ رہے تھے‘ بیوی خاوند پر چڑھ دوڑی تھی‘اس کا کہنا تھا میں تمہیں کتنے دنوں سے کہہ رہی ہوں پلاٹ ٹرانسفر کر دو‘ ابا کی طبیعت ٹھیک نہیں‘ یہ زیادہ دن نہیں نکال سکیں گے مگر تمہارے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی‘ اب تم مزے کرلو‘‘ خاوند میری طرف دیکھ دیکھ کر پریشان ہو رہا تھا اور میں سوچ رہا تھا ’’یہ کیسی بیٹی ہے‘ اس کاوالد انتقال کر گیا لیکن یہ پلاٹ کو رو رہی ہے‘ میں نے کانوں کو ہاتھ لگایا اور میں واپس آ گیا‘ میں نے آج فیصلہ کیا میں اب مزید کوئی پراپرٹی نہیں خریدوں گاتاکہ کل میرے بچے بھی میری لاش رکھ کر جائیداد کے لیے ایک دوسرے سے دست وگریبان نہ ہوں‘‘ وہ خاموش ہو گئے‘ میں بھی سن کر دکھی ہو گیا۔

یہ چند واقعات ہیں‘ آپ بھی اگر دائیں بائیں دیکھیں گے تو آپ کو بھی ایسے سیکڑوں ہزاروں واقعات یاد آ جائیں گے‘ آپ کی زندگی میں بھی ایسے بے شمار لوگ ہوں گے جو پوری زندگی چٹانوں کو سونا بنانے والی انگلیاں تلاش کرتے رہے‘ جو سونا اور چاندی اکٹھا کرتے رہے اور آخر میں اولاد کے ہاتھوں ذلیل ہو کر مر گئے‘ ان کی ساری زندگی خاک چھاننے میں ضایع ہو گئی‘ آپ یاد رکھیں دولت زندگی کے لیے ہوتی ہے زندگی دولت کے لیے نہیں ‘ ہم اگر اپنی کمائی کو انجوائے نہیں کر سکتے۔
ہم اگر دولت جمع کرتے کرتے شام کے وقت بھی گھر نہیں آ پاتے‘ اپنے بچوں کے ساتھ دوڑ بھاگ نہیں سکتے‘قہقہے نہیں لگا پاتے‘ ہمارے پاس اگر کتابیں پڑھنے‘ فلمیں دیکھنے‘ میوزک سننے‘ بچوں کو شاپنگ کرانے‘ بیوی کے ساتھ کھانا کھانے‘ دوستوں کے دکھ درد سننے‘ واک کرنے‘ پہاڑوں پر گھنے جنگلوں میں کوئل کی کوک سننے‘ اجنبی سرزمینوں پر اللہ کے معجزے دیکھنے‘ اپنے بچوں اور اپنے بچوں کے بچوں کو اپنی کمر پر سوار کر کے گھوڑا گھوڑا کھیلنے‘ باربی کیو بنانے اور سردیوں کی دوپہروں میں دھوپ میں بیٹھنے اور گرمیوں کی راتوں میں کھلے آسمان تلے لیٹ کر تارے گننے کا وقت نہیں ہوتا تو پھر یہ زندگی ہمارے لیے نعمت‘ ہمارے لیے انعام نہیں ہے۔

ہم پھر زندگی کے نام پر قید بامشقت بھگت رہے ہیں اور وقت کے جیلر نے ہمیں نوٹ گننے اور سونا تولنے کی ذمے داری سونپ رکھی ہے‘ ہم پھر مشین کے علاوہ کچھ نہیں ہیں‘ ہم پھر کیڑے ہیں‘وہ کیڑے جو آٹا‘ دانے جمع کرتے ہیں اور پرندوں کے لیے چھوڑ کر واپس چلے جاتے ہیں‘ آپ یہ بھی یاد رکھیں دولت وہ ہوتی ہے جو آپ کو خوشی دے‘ جو آپ کے دکھ اور آپ کی تکلیفیں کم کرے‘ وہ دولت ‘دولت نہیں ہوتی جو آپ کے لیے تکلیف بن جائے‘ جو آپ کے دکھ بڑھا دے اور آپ کی ساری زندگی جسے بچانے‘ جسے چھپانے میں کھپ جائے‘ پھر آپ اور اس فاختہ میں کوئی فرق نہیں ہوتا جو کوئوں کے انڈوں پر بیٹھ کر ان سے فاختائیں نکلنے کا انتظار کرتی رہتی ہے‘پھر آپ میں اور اس شخص میں بھی کوئی فرق نہیں ہوتا جو کیکر پرانگور کی بیل چڑھا کر صاف ستھرے انگور توڑنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔
یہ یاد رکھیں زندگی ایک انعام‘ ایک نعمت ہے‘ دنیا کا ایک اوسط مرد ساڑھے سات ارب بچے پیدا کر سکتا ہے لیکن قدرت ان ساڑھے سات ارب بچوں میں سے صرف تین چار کو اپنے سورج کے نیچے آنکھ کھولنے کی اجازت دیتی ہے باقی بھی پیدا ہو سکتے ہیں‘ یہ بھی بڑے بڑے جینئس ہوسکتے ہیں مگر اللہ انھیں ٹھہرنے اور پیدا ہونے کی اجازت نہیں دیتا لہٰذا وہ زندگی کی نعمت سے محروم رہتے ہیں‘ اللہ ہمیں پیدا کرنے کے بعد ہم پر مزید مہربانی فرما کر ہمیں رزق اور خوش حالی سے بھی نوازتا ہے لیکن ہم کتنے احمق ‘کتنے نالائق نکلتے ہیں‘ ہم اللہ کی اس نعمت کو دولت جمع کرنے میں ضایع کر دیتے ہیں‘ ہم پوری زندگی وہ انگلیاں تلاش کرتے رہتے ہیں جو چٹانوں کو چھو کر انھیں سونا بنا سکتی ہیں۔

ہم سے بڑا بے وقوف‘ ہم سے بڑا نالائق کون ہے؟ ہم سے بڑا خسارے کا سوداگر کون ہے؟

(Visited 2 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *