جلیانوالہ باغ اور پہلوان کی ریوڑی۔۔۔وسعت اللہ خان

پہلی عالمی جنگ میں لگ بھگ تیرہ لاکھ ہندوستانی فوجی سلطنتِ برطانیہ عظمیٰ کی سربلندی کے لیے یورپ ، افریقہ اور مشرقِ وسطی کے محاذوں پر لڑے۔تقریباً ایک لاکھ زخمی اور پچھتر ہزار جاں بحق ہوئے۔محاذ سے لوٹنے والے بہت سے فوجی انفلوئنزا کا وائرس ساتھ لائے۔اس وائرس نے انیس سو اٹھارہ اور انیس کے دوران لگ بھگ مزید ساڑھے چار لاکھ ہندوستانی ہلاک کر دیے۔ ہندوستان نے نہ صرف انگریز بہادر کی عظمت اور ناک کے لیے جان اور عزت داؤ پر لگائی بلکہ اپنا جنگی خرچہ بھی خود اٹھایا اور پھر اشیاء کی قلت ،کساد بازاری اور گرانی کے کوڑے بھی اپنی ہی پیٹھ پر کھائے۔انگریز اس احسان کو بھولا نہیں اور برطانوی ہند کی بہادر حکومت نے ہندوستان کو ’’ دہشت گردوں اور ملک دشمن عناصر‘‘سے بچانے کے لیے دس مارچ انیس سو انیس کو دلی میں لیجسلیٹیو کونسل کے ذریعے رولٹ ایکٹ منظور فرمایا جس کے

تحت کسی بھی مشکوک ہندوستانی کو بنا وکیل، بنا دلیل، بنا اپیل غیرمعینہ مدت کے لیے جیل میں رکھا جا سکتا تھا۔کونسل کے ایک رکن محمد علی جناح نے احتجاجاً استعفیٰ دے دیا۔ ہندوستانیوں نے اس ’’ محسن شناسی‘‘ کا شکریہ احتجاجی مظاہروں اور انگریز سرکار کے مثالی انصاف کی دہائی کی شکل میں ادا کرنا شروع کیا۔پنجاب جو برطانوی ہند کا بازوِ شمشیر زن تھا اور جس نے اپنے سپوتوں کی شکل میں انگریز سلطنت کے دوام کے لیے اٹھارہ سو ستاون سے لے کر پہلی عالمی جنگ تک مسلسل خون دیا تھا اور یہاں کے رائے بہادروں اور خان بہادروں نے اس پورے عرصے میں خود پنجاب میں ہونے والی انگریز مخالف بغاوتوں کو کچلنے میں بھی بھرپور تعاون کیا تھا۔اسی پنجاب میں رولٹ ایکٹ کو ایک عام پنجابی ہندو ، سکھ اور مسلمان نے بھی اپنے چہرے پر زناٹے دار تھپڑ کے طور پر محسوس کیا اور اس ایکٹ کے خلاف سب سے شدید تحریک پنجاب میں ہی شروع ہوئی۔ذرا سوْچئے کہ کیسا ظالمانہ قانون ہوگا کہ جس کے خلاف پنجاب جیسا وفادار و پرامن صوبہ بھی اٹھ کھڑا ہوا۔دس اپریل انیس سو انیس کو امرتسر میں جلسوں جلوسوں پر پابندی توڑنے کے جرم میں انتظامیہ نے کانگریس کے دو رہنماؤں ڈاکٹر ستیہ پال اور ڈاکٹر سیف الدین کچلو کو گرفتار کر کے دور دراز دھرم شالہ جیل منتقل کر دیا۔ تیرہ اپریل انیس سو انیس کو بیساکھی کے دن کانگریس نے جلیانوالہ باغ میں احتجاجی جلسے کا اعلان کر دیا۔چار دیواری سے گھرے پانچ چھ ایکڑ کے اس باغ میں ویسے بھی ہر سال عام لوگ بیساکھی منانے اکھٹے ہوتے تھے۔مگر اس بار ایک مہینے قبل رولٹ ایکٹ کے نفاذ نے فضا بدل دی تھی۔جیسے ہی سہ پہر کو جلسہ شروع ہوا تو بریگیڈئیر ریجنالڈ ڈائر کی کمان میں ایک فوجی دستہ قانون کی ’’ رٹ‘‘ بحال کرنے کے لیے باغ کے صدر دروازے سے اندر

داخل ہوااور مظاہرین کو منتشر ہونے کے لیے دس منٹ کا الٹی میٹم دیا۔اور الٹی میٹم ختم ہوتے ہی سیدھی گولیاں چلنی شروع ہو گئیں۔لوگ پتنگوں کی طرح گرنے لگے۔دس منٹ میں سولہ سو پچاس راؤنڈ فائر ہوئے۔برطانوی اندازوں کے مطابق تین سو اناسی ہندوستانی ہلاک اور گیارہ سو زخمی ہوئے، ان میں سے ایک سو بانوے شدید زخمی تھے۔ہندوستانی ذرایع کے مطابق ہزار سے زائد شہری جاں بحق ہوئے۔جو لوگ اس وقت بازاروں میں تھے انھیں ریاستی رٹ کا مزہ چکھانے کے لیے ناک کے بل زمین پر رینگنے کا حکم دیا گیا۔گزشتہ روز جب یہ خبر لاہور،گوجرانوالہ اور اس سے آگے افواہوں کے جلو میں دگنی تگنی ہو کر پہنچی تو ہر مقامی کا خون کھول اٹھا۔لاہور بند ہوگیا اور گوجرانوالہ میں سرکاری عمارتوں اور پولیس بیرک کو آگ لگا دی گئی۔پہلی بار برطانوی ہند کی فضائیہ کے تین طیاروں نے اپنی رعایا پر گوجرانوالہ

شہر اور گردو نواح میں چار جگہ ڈیڑھ سو گولیاں چلائیں اور آٹھ بم گرائے۔ہنٹر انکوائری کمیٹی کے مطابق گیارہ شہری ہلاک اور ستائیس زخمی ہوئے ۔انیس سو انیس کے ان خونی واقعات نے ہندوستانیوں کے دلوں میں انگریزوں کا رہا سہا وقار بھی ختم کر دیا۔محمد علی جناح نے رولٹ ایکٹ کی مسلسل مخالفت کو وتیرہ بنا لیا (یہ ایکٹ انیس سو بائیس میں منسوخ ہوا)۔رابندر ناتھ ٹیگور نے سر کا خطاب سرنگوں کر دیا۔ان خونی واقعات کی کوکھ سے بھگت سنگھ اور اس کے ساتھیوں نے جنم لیا۔ سیاست و واقعات انگریز سے نہ سنبھل سکے اور اٹھائیس برس بعد ہی اسے ہندوستان سے بوریا بستر گول کرنا پڑ گیا۔برطانوی حکومت نے کئی بار معذرت ، دکھ اور تاسف کا اظہار تو کیا مگر مکمل معذرت آج تک نہیں کی۔پاکستانی اسکولی نصاب میں جلیانوالہ باغ قتلِ عام کا تذکرہ اگر کہیں ہے بھی تو ڈیڑھ ستر میں نپٹا دیا جاتا ہے۔جب کہ اس کے

ردِعمل میں چلنے والی خلافت تحریک کا تفصیل سے تذکرہ ہوتا ہے۔پاکستان میں دو ہزار چودہ میں پہلی عالمی جنگ کی ایک سو ویں سالگرہ تو فوج اور سرکار کی حد تک منائی گئی اور ہندوستانی بالخصوص مسلمان فوجیوں کی قربانیوں اور شجاعت کا تذکرہ بھی ہوا۔وکٹوریہ کراس لینے والے ہیروز کو بھی یاد کیا گیا۔لیکن اس سے پہلے دو ہزار سات میں اٹھارہ سو ستاون کی جنگِ آزادی کی ڈیڑھ سو ویں سالگرہ کس نے منائی، کیسے گذری ؟ اور اس سے بھی پہلے انیس سو ننانوے میں ٹیپو سلطان کی دو سو ویں برسی پر ریاستی سطح پر کس نے کیا خراجِ تحسین پیش کیا ، فقیر کے علم میں نہیں۔کوئی جانے تو ہمیں بھی آگاہ فرماوے۔مگر جلیانوالہ باغ قتلِ عام کی ایک سو ویں برسی کے موقعے پر آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ پاکستانی ریاست کے کانوں پر جوں نہیں رینگی۔یہ ٹھیک ہے کہ اس موقعے پر کوئی یادگاری ٹکٹ جاری نہیں ہوا یا

وزیرِ اعظم نے کوئی روایتی پیغام نہیں دیا۔البتہ وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے برسی سے ایک دن پہلے یعنی بارہ اپریل کو ایک ٹویٹ میں سرکارِ برطانیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ نہ صرف جلیانوالہ باغ کے سانحے پر معافی مانگے بلکہ انیس سو چالیس کی دہائی میں بنگال میں مصنوعی قحط میں لاکھوں شہریوں کی ہلاکت پر بھی معافی مانگے اور یہ کہ لاہور سے جو کوہِ نور ہیرا پونے دو سو برس پہلے چرایا گیا وہ بھی ہمیں واپس کرے۔آپ شائد پوچھیں کہ بھلا جلیانوالہ باغ ، قحطِ بنگال اور کوہ نور ہیرے کی واپسی کا آپسی تعلق کیا ہے ؟ اور ایک ہی ٹویٹ میں الگ الگ نوعیت کے مطالبات نپٹانے کی کیا منطق ہے؟اس پر ایک قصہ سن لیں۔ایک فواد چوہدری جیسی شخصیت نے اپنی اہلیہ کی بیماری پر اپنے سسر کو ٹیلی گرام بھیجا کہ دولت جہاں آئی سی یو میں ہیں۔آپ آئیں تو اپنے ساتھ پہلوان کی ریوڑیوں کے دو ڈبے بھی لے آئیے گا والسلام۔ان صاحب کے بیٹے نے پوچھا کہ ابا نانا جی سے ایسے موقعے پر ریوڑیوں کی فرمائش ضروری تھی کیا ؟ ابا نے کہا، بیٹے میں نے ایک ہی ٹیلی گرام میں دونوں باتیں اس لیے لکھ دیں تاکہ پیسے بچیں۔خود کماؤ گے تو پتہ چلے گا۔ویسے بھی ہمارے اپنے ہی اتنے جلیانوالہ باغ ہیں کہ ہمیں باہر دیکھنے کی کیا ضرورت ہے

(Visited 12 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *