تو اب کافر مروں؟ روف کلاسرا

سینیٹر انور بیگ کا میسج تھا: پاکستان کو بچایا جائے۔ اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ہمارے پاس تو کہیں اور جا کر رہنے کیلئے جگہ بھی نہیں ہے۔ اب اس عمر میں پاکستان چھوڑ کر کہاں جائیں؟ انور بیگ ان چند لوگوں میں سے ہیں جن کے بچے بیرونی یونیورسٹیز سے پڑھے لیکن وہ سب پاکستان واپس آئے اور یہیں نوکریاں یا کاروبار کیے۔ ان سب کو منع کیا گیا تھا کہ فارن پاسپورٹ یا شہریت نہیں لینی۔ آج وہی انور بیگ اداسی سے مجھ سے پوچھتے ہیں: یار کہیں غلطی تو نہیں کر دی تھی؟ بولے: ملک کے حالات دیکھو‘ ریاستیں ایسے چلتی ہیں؟ ملک میں قانون کی رٹ نظر نہیں آتی۔ جس کا جب دل چاہتا ہے وہ اس ملک کو ہائی جیک کر لیتا ہے۔ طاقتور لوگوں نے مل کر پورا نظام اپنے ہاتھوں میں جکڑ لیا ہے۔

جب بھی انور بیگ کا دل جلتا ہے تو وہ دو چار لوگوں کو فون کرکے ان پر فرسٹریشن اتارتے ہیں۔ اللہ کا دیا بہت کچھ ہے‘ لیکن ملک کے حالات نے سکون چھین لیا ہے۔ وہ اکثر مجھے ملک کے مسائل کا حل بتاتے رہتے ہیں۔ زرداری اور نواز شریف کو بھی اپنے پلان سمیت ملے تھے۔ بریف کیا: اگر وہ مین پاور پر توجہ دیں تو پاکستان کو بیرونی قرضوں سے چھوٹ مل سکتی ہے۔ ہر ماہ بیرونِ ملک سے ڈالروں کی سپلائی بڑھ سکتی ہے۔ وہ سمجھا سمجھا کر تھک گئے کہ کس طرح پاکستانی حکمران بیرونِ ملک سے مین پاور کے آرڈرز لے سکتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پہلے پیپلز پارٹی‘ پھر نواز لیگ سے نکالے گئے۔

میں نے انہیں کہا: جناب آپ انہیں غلط بریف کرتے ہیں۔ آپ زرداری اور شریف صاحبان کو بتاتے کہ میرے پاس مال بنانے کا بڑا منصوبہ ہے۔ آپ اپنے سرکاری تعلقات استعمال کرکے بیرونِ ملک سے مین پاور کے آرڈرز لے کر آئیں۔ ایک فرنٹ مین کے نام پر اوورسیز ایمپلائمنٹ کمپنی بناتے ہیں۔ اس کمپنی کے ذریعے یہ سب مین پاور باہر جائے گی۔ ہر بندہ جو باہر جائے گا‘ اس کا سارا کمیشن آپ کی جیب میں جائے گا۔ یوں ملک ترقی کرے گا اور آپ لوگوں کے بینک اکائونٹ میں بھی ہر ماہ خاطر خواہ پیسہ آئے گا۔ اس طرح وہ آپ کی بات غور سے سنیں گے اور آپ کو فوراً اوورسیز وزیر لگا دیں گے۔ آپ انہیں ذاتی کی بجائے ملکی فائدہ سمجھانے بیٹھ جاتے ہیں۔
جمہ کے روز وزیر خزانہ اسد عمر جب ٹی اینکرز کو اپنا نیا روڈ میپ سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے تو ان سے یہی سوال میں نے بھی کیا۔ اسد عمر کو پچھلے کابینہ اجلاس میںتنقید کا سامنا کرنا پڑا تو انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے پاس اکانومی کا پلان ہے۔

اس پر وزیر اعظم نے انہیں کہا تھا: اگر کوئی پلان ہے تو وہ قوم سے شیئر کریں۔ اب وہ قوم سے ساری باتیں شیئر کرنا چاہتے تھے۔ جو بات مجھے سمجھ آئی یہ ہے کہ ہر وزیر خزانہ کے پاس اکانومی کو چلانے کے دو تین طریقے ہوتے ہیں جو پچھلی کئی دہائیوں سے کامیابی کے ساتھ اپلائی کیے جا رہے ہیں۔ روپے کی قدر گرا دو تاکہ ایکسپورٹ بڑھے، بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھا کر کیش اکٹھا کر لو۔ پٹرول کی قیمتیں آگے پیچھے کرتے رہو۔ طاقتور لوگوں اور لابیوںکو فائدے دیتے رہو اور غریبوں کا لہو چوستے رہو۔ نئی حکومت آتی ہے تو بڑے بڑے کاروباری شکرے پہنچ جاتے ہیں کہ جناب ہم برباد ہو گئے، تباہ ہو گئے‘ مارے گئے۔ آپ ہمیں رعایتی پیکیجز دیں۔ وہ طویل فہرست ساتھ لے کر جاتے ہیں۔ وزیر اعظم سے وزیر خزانہ اور وزیر تجارت تک سب کو ڈراتے ہیں اور وہ ان سیٹھوں کے چکر میں آ کر انہیں سہولتیں دیتے ہیں جبکہ بوجھ ہمیشہ عام آدمی اٹھاتا ہے۔ ہر دفعہ روپیہ یہ کہہ کر گرایا جاتا ہے کہ اس سے ایکسپورٹ بڑھ جاتی ہیں۔ پاکستان پر ڈالروں کی بارش ہونا شروع ہو جائے گی‘ لیکن پاکستانی ایکسپورٹر محض اپنی جیبیں بھرنے پر یقین رکھتا ہے۔ انہیں یہ قانونی اجازت دی گئی ہے کہ بیرون ملک ایکسپورٹ سے کمائے گئے ڈالرز چھ ماہ تک بیرون ملک رکھ سکتے ہیں۔

اس کا مقصد یہ بتایا گیا کہ اس دوران بہت ساری ادائیگیاں کرنی ہوتی ہیں یا پھر اشیا کا بل وصول کرنا ہوتا ہے۔ ایف بی آر نے پانامہ سکینڈل کے دنوں میں یہ انکشاف کیا کہ پاکستانی ایکسپورٹرز (یقیناً سب نہیں) ڈالرز پاکستان واپس لانے کی بجائے وہیں بیرون ملک ان ڈالروں سے جائیدادیں خرید رہے ہیں۔ اب بتائیں جن کیلئے مہنگائی کی گئی۔ روپیہ گرایا گیا۔ اربوں روپے کے قرضے راتوں رات بڑھ گئے۔ وہ ڈالرز واپس لانے کی بجائے بیرون ملک جائیدادیں بنا رہے ہیں۔ پاکستان کو ڈالر کو تقریباً ڈیڑھ سو روپے تک لے جانے سے کیا مل رہا ہے؟
میں نے اسد عمر صاحب سے پوچھا کہ آپ سارا بوجھ عام آدمی پر ڈال رہے ہیں‘ بڑے کاروباریوں پر ہاتھ نہیں ڈال سکتے کیونکہ وہ سب مل کر آپ کی معیشت کو ہائی جیک کیے بیٹھے ہیں۔ مسابقتی کمیشن آف پاکستان نے عام پاکستانیوں کو لوٹنے پر تیس ارب روپے کے جرمانے کیے۔

سب نے عدالتوں سے سٹے آرڈرز لے لیے۔ آپ نے کبھی اٹارنی جنرل کو لکھا یا چیف جسٹس صاحب سے درخواست کی کہ ان مقدمات کے سٹے آرڈرز ختم کریں تاکہ ملک کی اکانومی میں کچھ پیسہ آئے؟ باقی چھوڑیں اینگرو کو ہی دیکھ لیں‘ جس پر کسانوں کو مہنگی کھاد بیچنے پر آٹھ برس قبل کمیشن نے پانچ ارب روپے جرمانہ کیا تھا۔ اینگرو نے آٹھ برس سے سٹے لے رکھا ہے جبکہ اسی کمپنی کو ایل این جی ٹرمینل کے نام پر روزانہ دو لاکھ بہتّر ہزار ڈالرز ادا کیے جاتے ہیں۔ میں نے کہا:عمر صاحب ‘ گیس پر ایک سو ارب روپے کے نئے ٹیکس لگائے گئے ہیں، پٹرول کی قیمتیں بڑھائی ہیں یا پھر بجلی کا ریٹ بڑھ گیا ہے تو مجھے سمجھائیں‘ عام آدمی‘ جس کی تنخواہ یا آمدن نہیں بڑھی‘ کہاں سے آپ کو اربوں روپے دے؟ پہلے آپ معاشی سرگرمیاں تیز کرتے، لوگوں کی آمدن بڑھانے کا بندوبست کرتے اور پھر ٹیکس وصول کرتے یا قیمتیں بڑھاتے تاکہ لوگ آرام سے پیسے ادا کر سکتے۔ ایک طرف روپیہ گرانے کے بعد مہنگائی کا طوفان آیا ہوا ہے اور دوسری طرف آپ نے گیس‘ بجلی‘ پٹرول کی قیمتیں بڑھا دی ہیں۔ مجھے سمجھا دیں کہ لوگ بینک لوٹیں‘ ڈاکے ماریں یا چوریاں کریں تاکہ وہ نئے ٹیکس ادا کر سکیں کیونکہ ان کی آمدن تو وہی ہے جو تحریک انصاف کی حکومت آنے سے پہلے تھی‘ لیکن اب انہیں کہا جا رہا ہے کہ وہ کچھ بھی کریں حکومت کو اربوں روپے کہیں نہ کہیں سے ادا کریں۔

انور بیگ نے پوچھا: پھر اسد عمر نے کیا جواب دیا؟
میں نے کہا: چھوڑیں باس‘ کیا جواب دینا تھا۔
اس پر بیگ صاحب نے ٹاپک تبدیل کیا اور پوچھا: کیا کر رہے ہو؟ میں نے کہا: درخت کی چھائوں میں بیٹھ کر انگریزی کتاب The Grand Turk پڑھ رہا ہوں‘ جو John Freely نے لکھی ہے۔ کیا شاندار کتاب ہے۔ کل سے اس میں کھویا ہوا ہوں۔ کتاب پڑھتے پڑھتے خود کو عثمانیہ سلطنت کا حصہ سمجھنے لگ گیا ہوں۔ مجھے لگتا ہے‘ جیسے پرانے زمانوں میں رہ رہا ہوں۔
بیگ صاحب نے پوچھا: کس کے بارے میں ہے؟ میں نے کہا: کتاب دراصل سینکڑوں سال پرانی سلطنتِ عثمانیہ کے بارے میں ہے کہ کیسے یہ سلطنت وجود میں آ رہی تھی۔ استنبول کے فاتح سلطان محمد دوم کے بارے میں ہے جو ایک سلطنت اور دو سمندروں کا مالک تھا۔
بیگ صاحب ہنس پڑے‘ جیسے کہہ رہے ہوں‘ ہم سے اپنا حال تو نہیں سنبھالا جا رہا اور تم پانچ چھ صدیاں پرانی سلطنت کی کہانیاں پڑھ رہے ہو۔

میں نے کہا: بیگ صاحب آپ نے خود ابھی کہا کہ حال ہمارا برا ہے‘ مستقبل ہمارے بس میں نہیں‘ بچ گیا ماضی جو ہمارا اب کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ اس لیے اچھا لگتا ہے۔ اب آپ چاہتے ہیں کہ جس ماضی پر ہمیں پورا کنٹرول ہے کیونکہ لوٹ نہیں سکتا‘ اس سے بھی دور رہیں۔
آپ کیا چاہتے ہیں‘ اب ہم کافر مریں؟
بیگ صاحب بولے: کیا مطلب؟ میں نے کہا: ایک سرائیکی لطیفہ سنیں‘ آپ کو میری بات سمجھ آ جائے گی۔ ایک بندے نے نہ روزے رکھے‘ نہ نمازیں اور تراویح پڑھیں۔ نمازِ عید تک نہ پڑھنے گیا‘ لیکن جونہی ماں نے عید کی سویّاں چولہے سے اتاریں فوراً بولا: اماں ذرا عید دیاں سویّاں تے ڈے چا۔ ماں نے کہا: شرم کرو‘ نہ روزے، نہ تراویح اور تو اور نمازِ عید تک نہیں پڑھی‘ اب سب سے پہلے سویّاں کھانا چاہتے ہو۔
وہ بولا: اماں نہ روزے، نہ نماز، نہ تراویح تو تم اب کیا چاہتی ہو‘ عید کی سویّاں بھی نہ کھائوں۔ کافر مروں…؟

(Visited 4 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *