تبصرہ کتاب تیری یاد کے جگنو ۔ تبصرہ ۔ وسیم سہیل

جب کوئی یادوں کی بال سے بھی باریک پینسل کو چاند کی چاندنی میں ڈبو کر رات کی کالی چادر پر کسی کا چہرا بناتا ہے تو تخیل میں بیٹھے الفاظ اس چہرے کا طواف کرنے لگ جاتے ہیں۔ جب اس چہرے کا عکس ان لفظوں کے ذرے ذرے پر کنندہ ہو جاتا ہے تو ایک عجیب سی خوشبو ان لفظوں کو بڑی نفاست سے اپنے آغوش میں لے لیتی ہے ۔ اور وہ لفظ جب نظم یا غزل کا پیراہن پہنے آنکھوں کے عدسے پر نمودار ہوتے ہیں تو ایسا لگتا ہے جیسے کسی نے سانولی سی چادر پر جگنوئوں جیسے موتیوں اور بحر کے دھنک جیسے رنگین دھاگوں سے کسی کا نام لکھ دیا ہو۔ اور جب یہ سحر انگیز منظر دھڑکنوں کو اپنا طابع کرتا ہے تو دھڑکنیں مترنم لہجے میں انہی مصرعوں کو اس خوبصورتی سے گنگناتی ہیں کہ ایسا لگتا ہے جیسے وہ گنگنا رہا ہو جسے یادوں کی کالی چادر پر چاندنی سے پینٹ کیا تھا۔
” زندگی کے چہرے” پر
“تیرا عکس”
کسی سچی”کہانی ” سا
” تمھارے نام” کے جیسا
بالکل نام ہے اسکا
وہ ” بے چینی ” سے کہتا ہے
” کون ہو تم ۔۔۔۔؟”
“تمھاری یاد کے جگنو” ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھنے والی منفرد لب و لہجے کی شاعرہ نبیلہ خان کا پہلا شعری مجموعہ ہے ۔۔۔۔ اس میں موجود نظمیں پڑھنے والے پر ایک سحر کی کفیت طاری کر دیتی ہیں ۔۔۔ نبیلہ خان کو یہ کمال حاصل ہے کہ وہ سادہ اور عام فہم الفاظ کو لے کر ایک ایسا جہاں تخلیق کر لیتی ہیں کے جس میں ہر انسان اپنے کرب ۔۔ سے با آسانی مل سکتا ہے
تمھاری یاد کے جگنو
میری ویران
آنکھوں میں
عجب سا رنگ بھرتے ہیں
آنکھوں کی ویرانی جب خود کلامی کرنے لگ جائے تو پھر اشک انکھوں کی دہلیز پر آ بیٹھتے ہیں۔۔۔ان میں سے کچھ تو دلبرداشتہ ہو کر پلکوں کی نوک دار سلاخیں اپنے سینے میں چبھو کر خود کشی کر لیتے ہیں اور کچھ دہلیز سے ڈھلک کر اپنی ہستی گنوابیٹھتے ہیں پر آنکھوں کی ویرانی ہے کہ بولتی چلی جاتی ہے
” تمھیں کیسے میں سمجھائوں”
میری” ڈائری کے پنوں میں”
تمھاری ” ذات کے رنگ” ہیں
سنو جاناں۔۔۔۔۔۔!
“تمھیں جانے نہ دوں گی میں”
کہ
“نگاہ شوق” میں میری
اک مدت سے “جلتے خواب”
“خزاں کی شام ” کے رنگ سے
تمھاری”یاد” بُنتے ہیں
دردِ دل” سناتا ہے
ان” لمحؤں کی باتیں “سب
“تعلق” رابطہ” ہم تم”
“گٖئے وقتوں کی باتیں ہیں”
کہ اب بھی ” رت جگا ” آکے
میری آنکھؤں سے کہتا ہے
“ستارہ کس کو کہتے ہیں”
دھڑکنیں جب دل کے دربار پہ یادوں کی پر سوز دھمک پر رقص کرتی ہیں تو سوالوں کی اک دھول سی خلاء میں متعین ہو جاتی ہے۔ اس دھول کا ہر زرہ معصوم چہرے والا نظروں پر پلکوں کی نازک سی ردا ڈالے جب اپنی قسمت پر نوحہ کناں ہوتا ہے تو دل کا دربار ایک عجیب سی خوشبو سے مہک اٹھتا ہے ۔۔۔ اور وہ مہک دل کے کونے کونے میں یوں بس جاتی ہے جیسے وہ مکین ہو یہیں کی ۔۔۔
تیری یاد کے سنہرے موسم میں
میں یوں ٹوٹ کر بکھرتی ہوں
جیسے تیز ہوا میں
سوکھے پتے
در بدر کی خاک چھانے
بے سمت منزلوں کی راہوں میں
گم ہو کر رہ جاتے ہیں
اور بے منزل ہو جاتے ہیں
نبیلہ خآن جب یادوں کی کرنوں کو تخیل میں موجود اداس ، بے ترتیبے لفظوں پر ڈالتی ہیں تو لفظ بیدار ہو جاتے ہیں۔ نبیلہ خان یادوں کے حصا ر میں رہتے ہوئے ایک جہاں تخلیق کر لیتی ہیں۔۔۔جسمیں بچپن کی آوزیں ہیں ، ہجر وصال کے چاند سورج،اترے چہرے والے خؤاب ، کسی کے نام کا ورد کرتی دھڑکنوں کی تسبی،امیدوں کی ٹھہر ٹھہر کے چلتی ہوا، وغیرہ
محبت پھول کی مانند
جسے …..
کسی کتاب میں
رکھ کر بھول بھی جائو
توخوشبو
کم نہیں ہوتی
نبیلہ خان ایک اچھی شاعرہ ہونے کے ساتھ ساتھ اچھی نثر نگار بھی ہیں انکے کالم، افسانے ، قارئین کی پسندیدگی کی سند پا چکے ہیں۔۔ان کا یہ شعری مجموعہ ” تمھاری یاد کے جگنو” ادب میں ایک خوبصورت اضافہ ثابت ہو گا۔۔۔میں ان کی کامیابی کا آرزو مند بھی ہوں اور دعا گو بھی ۔
وسیم سہیل

(Visited 27 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *