بیٹیاں پرائی ہوتی ہیں:تحریر: اظہر اقبال مغل

بیٹیاں پھو لوں جیسی ہوتیں ہیں جس گلشن میں یہ پھول کھلتا ہے ہر طرف اپنی خوشبوبکھیر دیتا ہے۔جس گھر میں بیٹی پیدا ہوتی ہے اس گھر میں رحمت کا نزول شروع ہو جاتا ہے۔وہ گھر خوشیوں سے بھر جاتا ہے۔بیٹی باپ کی آنکھوں کی ٹھندک ہوتی ہے۔ماں کی آنکھوں کا تارا ہوتی ہے۔بھائی کا مان ہوتی ہے اس کو جس پہلو سے دیکھا جائے بیٹی ایک مقدس بندھن میں بندھی نظر آتی ہے۔ماں باپ بہت نازوں سے اپنی بیٹی کی پرورش کرتے ہیں اس کے سارے ناز نخرے اٹھاتے ہیں۔ لیکن ایک بات جو کہ ماں بات کو اندر ہی اندر پریشان بھی کیے رکھتی ہے کہ ان کی بیٹی ان سے جدا ہونے والی ہے اسی لیئے سارے گھر والوں بیٹی حد سے زیادہ پیار کرتے ہیں کہ پتہ نہیں سسرال میں کیا سلوک کرے ہماری بیٹی کے ساتھ انہی سوچوں میں گم ہوتے ہیں ماں باپ اور اس تیزی سے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتی ہے کہ بیٹی کے جوان ہونے کا پتہ ہی نہیں چلتا کہ اس گلشن میں جو کلی کھلی تھی آج پھول بن چکاہیاور اب وقت آگیا ہے کہ جب اس پھول کو توڑ لے جائے گا۔لیکن یہ بات ان کو صبر بھی دتیی ہے بیٹیاں تو پیدا ہوتے ہی پرائی ہوتیں ہیں ۔اس لیئے جب بیٹیاں ہوش سنبھالتی ہیں تو مائیں ان کے کانوں میں یہ بات ڈال دتیی ہیں کہ انھوں نے دوسرے گھر جانا ہے جو کہ ان کا اصل گھر ہے یہ بات اس وقت کو بیٹی کو طعنہ لگتا ہیاور بیٹیاں سمجھتی ہیں کہ شائد ماں اس کو اس گھر پر بوجھ سمجھتی ہے اس لیئے اٹھتے بیٹھتے اس کو یہ بات سننے کو ملتی ہے لیکن یہ بات ایک بیٹی کو اس وقت سمجھ آتی ہے جب وہ خود ماں بنتی ہے کہ اس ماں سچ کہتی تھی کہ بیٹیاں پرائیاں ہی ہوتیں ہیں۔ اصل حقیقت یہی ہے کہ بیٹیوں کو رخصت ہونا ہی پڑتا ہے کیونکہ یہی قانون قدرت ہے۔اس سے آج تک کوئی منہ نہیں پھیر سکا۔اگریہ قانون قدرت نہ ہوتا تو کوئی بھی باپ اپنی آنکھوں ٹھنڈک کسی اور کے حوالے نہ کرتا۔کوئی بھی ماں اپنی آنکھوں کو خود سے جدا نہ کرتی،کوئی بھی بھائی اپنی غیرت اپنے مان کسی اور کے ہاتھ نہ دتیا۔یہ قانون قدرت ہی تو ہے کہ ایک بیٹی پیدا کہاں ہوتی ہے لیکن جاتی کہاں ہے جہاں اس کے نصیب میں جانا لکھا ہوتا ہے وہاں اس کو جانا ہی ہوتا ہے۔جب بیٹی کے رخصت ہونے کا وقت ہوتا۔کیا حالت ہوتی ہیں ماں باپ کی جنہوں ایک بیٹی کو پالاپوسا حد سے زیادہ پیار دیا۔لیکن اب اس کو غیر کے حوالے اپنے ہی ہاتھوں سے کرنے جارہے ہیں۔کتنا دکھ بھرا لمحہ ہوتا ہے کہ اپنے جگر کا ٹکڑا کسی کے حوالے کرنے کا وقت آتا دل کا سار ا غبار آنکھوں میں آنسوؤں کی شکل میں آجاتا ہے بہت ہی کھٹن اور نازک لمحہ ہوتا ہے۔اہک مرد کو قدرت نے بہت مضبوط بنایا ہے لیکن ا وقت ایک باپ آنکھیں نم ہوجاتی ہے۔ایک بھائی بہن سے جدائی پر پھوٹ پھوٹ رونے لگتا۔یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب بیٹی پرانے رشتے چھوڑ کر ایک نیا رشتہ بنانے جارہی ہوتی ہے۔اس طرح یہ نیا رشتہ اس کو پرانے رشتوں سے دور کردتیا ہے۔کیا وقت ہوتا وہ جب ایک باپ دل پر پتھر رکھ لتیا ہے۔کیونکہ ایک باپ نہیں جانتا کے اگلے گھر اس کی بیٹی کے ساتھ کیا سلوک ہوگا۔جو لوگ دیکھنے میں اتنے اچھے ہیں کیا سلوک کریں گے اس کی بیٹی کے ساتھ وہ کیفیت شائد ایک باپ ہی سمجھ سکتا ہے۔شائد کوئی دوسرا اس کیفیت کا اندازہ نہیں لگا سکتا۔ اگر تو بیٹی کو سسرال اچھا مل جائے تو وہی ماں باپ جو کو بیٹی کو رخصت کرتے وقت بیٹی کو بہتے آنسوؤں سے رخصت کیا تھا ان کے وہی آنسو خوشی میں بد جاتے ہیں۔ماں باپ اپنی بیٹی کو خوش دیکھ کر خوش ہوتے ہیں کہ ان کی بیٹی خوش ہے۔لیکن اگر سسرال میں ان کی بیٹی کے ساتھ اچھا سلوک نہیں ہوتا تو ان کو ساری زندگی رونا پڑتا ہے بیٹی کے ساتھ ساتھ ماں باپ کو بھی آنسوبہانے پڑتے ہیں۔ کیونکہ اولاد کا غم بہت تکلیف دہ دہ ہوتا ہے کوئی باپ نہیں دیکھ سکتا اس کی بیٹی کے ساتھ ایسا سلوک ہو کہ اس کی بیٹی کو تکلیف ہو کوئی ماں اپنی بیٹی کی آنکھوں میں انسو نہیں دیکھ سکتی۔ پرانے وقتوں میں شائد اس ہی ڈر سے بیٹیوں کو دفن کر دتیے تھے کہ اس سے ڈرتے تھے کہ پتہ نہیں ان کی بیٹیوں کے ساتھ کوئی کیا سلوک کرے گا لیکن کبھی حقیقت سے منہ نہیں موڑا جا سکتا کہ بیٹیاں ہمیشہ سے ہی پرائیاں ہی ہوتی ہیں ان کا اصل گھر ان کا سسرال ہی ہوتا ہے۔جس گھر میں وہ جنم لیتیں ہیں وہ ان کا اصل گھر نہیں ہوتا اسے چھوڑنے کیلئے ہی وہ پیدا ہوتی ہیں،کیونکہ بیٹی کی جو عزت اس کے اصل گھر میں ہوتی ہے۔ یہ ایک ریت ہے کہ بیٹی پیدا کہیں اور ہوتی ہے لیکن اسے اپنا گھر لازمی چھوڑنا پڑتا کیونکہ یہی قانون قدرت ہے۔جس پر ہرماں باپ کو عمل کرنا پڑتا۔اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہوتا۔جس گھر میں بیٹی ہوتی ہے اس کو رخصت کرنا ہی پڑتا ہے

(Visited 280 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *