این آر او پر سمجھوتہ نہیں کروں گا، وزیراعظم عمران خان

لاہور: وزیراعظم عمران خان نے کہا کوئی بیوقوف ہی ہو گا جسے یہ نہیں پتہ تھا کہ ملکی مسائل کیا ہیں کیونکہ جب گھر پر قرضہ چڑھتا ہے تو اس کا چلنا مشکل ہو جاتا ہے جبکہ اس قرضے کو اتارنا ہو تو اخراجات کم کیے جاتے ہیں اور اس ساری صورتحال میں مجھے ملکی حالات کا پتہ تھا۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا اپنے عہدے کا حلف اٹھاتے ہی کہا تھا کہ پاکستان کے مسائل کو حل کرنا اتنا آسان نہیں ہے کیونکہ ملک قرضوں میں ڈوبا ہوا تھا اور ہم نے دو سال میں 20 ارب ڈالر واپس کئے اور 17 سال بعد پاکستان کا کرنٹ اکاونٹ خسارہ گزشتہ 5 ماہ سے سرپلس ہے۔

بھارت نے آکسفورڈ یونیورسٹی کی کورونا وائرس کی ویکسئن کے استعمال کی منظوری دے دی
انہوں نے مزید کہا کہ ہماری آدھی ٹیکس آمدن قرضوں کی اقساط واپس کرنے میں چلی جاتی ہے اور ان مشکل حالات کے باوجود بھی ہم نے ملک کی معیشت کو صیح انداز میں سنبھالا اور صنعتوں کو خصوصی طور پر پیکج دیئے جس کی وجہ سے انڈسٹری کا پہیہ چلا اور ملک میں لوگوں کو روزگار ملا جبکہ ہماری ترسییلات زر میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

عمران خان نے کہا اپوزیشن جو شور مچا رہی ہے ان لوگوں نے تمام ادارے بینک کرپٹ کر دیئے کیونکہ اسٹیل مل پر کیسز ہیں اور ورکرز پکڑ کر دیے ہیں۔ اپوزیشن کی جانب سے میرا تیاری سے متعلق بیان توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا اس وقت گلگت میں حکومت کو آئے 2 ماہ ہو گئے ہیں لیکن ابھی تک انہیں پریزنٹیشن دی جا رہی ہے کیونکہ باہر بیٹھ کر اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کہ اداروں کے اندرونی حالات کیا ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا سلم لیگ (ق)، ایم کیو ایم اور جی ڈی اے سے بھی تعلقات اچھے ہیں اور ایم کیو ایم کے نظریات ہم سے ملتے جلتے ہیں جبکہ وہ ہمارے منشور کے ساتھ چل رہی ہے اور میری جنگ بانی متحدہ کے خلاف تھی۔ اپنی منزل پانے کیلئے کہیں نہ کہیں سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے اور اپوزیشن واویلا کرتی رہی کہ حکومت آج گئی کل گئی جبکہ شہباز شریف وبا کے دوران لندن سے آ کر کمپیوٹر کے سامنے بیٹھ گئے لیکن ان لوگوں کے ساتھ مل کر حکومت بناتے تو احتساب نہیں ہونا تھا اور میں این آر او پر سمجھوتہ نہیں کروں گا۔

انہوں نے کہا اپنی منزل پانے کیلئے کہیں نہ کہیں سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے تاہم یوٹرن تب بُرا ہوتا ہے جب نظریے پر سمجھوتہ ہو جیسا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنا پاکستان کے نظریے پر سمجھوتہ ہے اور عامر کیانی کیخلاف بدانتظامی کی وجہ سے کارروائی کی گئی جبکہ میرے کسی وزیر پر کرپشن کا الزام لگے تو کارروائی کروں گا کیونکہ وہ ملک ترقی نہیں کر سکتاجس کا وزیراعظم اور وزیر کرپٹ ہوں اور پاکستان کا اصل مسئلہ حکومت میں آ کر ملک کو لوٹنا رہا ہے۔

(Visited 9 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *