اہم ترین مسئلہ ، کرونا یا انتخابی اصلاحات؟

انگریزی کا ایک ناول نگار چند ماہ قبل فوت ہوا ہے۔اصل نام اس کا ڈیوڈ کارن ول David Cornwellتھا۔ کتابیں لکھنے کے لئے مگر اس نے John Le Carreکا نام استعمال کیا۔ قلمی نام سے لکھنا اس کی مجبوری اس لئے بھی تھی کہ وہ برطانیہ کے خفیہ ادارے ایم آئی- 6کا باقاعدہ ملازم تھا۔سرد جنگ کی انتہاء کے دوران یورپ کے مختلف ممالک میں سفارت کار کا روپ دھارے اپنے فرائض سرانجام دیتا رہا۔میں ہرگز اس قابل نہیں کہ طے کرسکوں کہ اس کا ادبی مقام کیا ہے۔اس کے ناول مگر لاکھوں کی تعداد میں شائع ہوتے رہے ہیں۔ کئی غیر ملکی زبانوں میں بھی ان کے تراجم ہوئے۔ بی بی سی نے اس کے ناولوںپر مبنی چند مقبول ڈرامائی سلسلے تیار کئے تھے۔ برطانوی تھیٹر کے جید اداکار وں نے ان میں کلیدی کردار ادا کئے۔

جان لاکارے کا بنیادی موضوع سرد جنگ اور اس کے تناظر میں جاسوسی اداروں کا کردار رہا ہے۔اس کے لکھے ناول اور ان پر مبنی ڈرامے اور فلمیں مگر انسانی نفسیات کے حیران کن پہلوئوں کو بہت مہارت سے اجاگر کرتے ہیں۔شہرئہ آفاق روسی ادب-چیخوف- کی طرح وہ انسانوں پر مسلط ہوئی اداسی کو نہایت نفاست سے بیان کرتا ہے۔ اس کا اندازِ نگارش مگر اس کالم کا موضوع نہیں ۔ میرے لئے اہم ترین وہ مشاہدات ہیں جو جان لاکارے اپنی موت سے قبل انتہائی پریشانی کے عالم میں دُنیا کے روبرو لانے کی کوشش کرتا رہا۔

اس کے لکھے ناولوں نے جب مقبولیت حاصل کرنا شروع کردی تو جان لاکارے نے برطانوی خفیہ ادارے کی نوکری چھوڑ دی۔ سمندر کے قریب واقع ایک دور دراز گائوں میں گوشہ نشین ہوکر مزید ناول لکھتا رہا۔برطانیہ کی ملکہ نے اسے ہائوس آف لارڈز کا رکن نامزد کرنا چاہا تھا۔اس نے مگر انکار کردیا۔ادبی تقریبات میں شریک ہونے کو وہ کبھی آمادہ نہیں ہوا۔ میڈیا کو انٹرویوز دینے سے بھی گریز کرتا۔مکمل تنہائی اس کی اولین ترجیح رہی۔

2003میں لیکن جب امریکہ نے عراق پر حملے کا ارادہ باندھا تو جان لاکارے گوشہ نشینی چھوڑ کر ازخود لندن پہنچ گیا اور وہاں قائم ٹی وی اداروں سے انٹرویوز کی فرمائش کرتا رہا۔اپنی پریشانی بیان کرنے کے لئے اس نے ایک طویل مضمون بھی قلم بند کیا۔’’امریکہ پاگل ہوگیا ہے‘‘ اس کا عنوان تھا۔اس چونکا دینے والے عنوان کے ساتھ لوگوں کی توجہ اپنے خیالات کی جانب مبذول کرواتے ہوئے جان لاکارے دہائی مچانا شروع ہوگیا کہ صدام حسین ہرگز ایٹمی ہتھیار بنانے کے قابل نہیں۔اسے بنیادی دُکھ یہ بھی لاحق ہوا کہ امریکہ اور برطانیہ کے جاسوسی ادارے صدام حسین کو ’’خطرناک‘‘ ثابت کرنے کے لئے ٹھوس حقائق کے برعکس سنسنی خیز داستانیں ’’ایجاد‘‘ کررہے ہیں۔وہ بضد رہا کہ ’’داستان نویسی‘‘ جاسوسی کے شعبے میں مکمل بددیانتی اور غیر پیشہ وارانہ حماقت ہے۔ریاست کے لئے خفیہ معلومات جمع کرنے والوں کی ہرگز یہ ذمہ داری نہیں کہ وہ حکمرانوں کو من گھڑت ’’معلومات‘‘ اور تجزیوں کے ذریعے کسی دوسرے ملک پر حملہ آور ہونے کے جواز فراہم کریں۔

جاسوسی اداروں سے کہیں زیادہ پریشان وہ اس امر کی بابت بھی ہوا کہ امریکہ اور برطانیہ کے ’’آزاد اور غیر جانب دار‘‘ بڑے بڑے اخبارات اور ٹی وی نیٹ ورکس بھی من گھڑت معلومات کو سنسنی خیز انداز میں اچھالتے ہوئے عوام کو خوفزدہ بنارہے تھے۔ان کے دلوں میں پھیلائے خوف نے بش اور ٹونی بلیئر کو بالآخراس قابل بنایا کہ پوری وحشت کے ساتھ عراق پر حملہ آور ہوجائیں۔2003میں مسلط ہوئی جنگ کے ہولناک اثرات نے ابھی تک مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک کو عدم استحکام سے دو چار کررکھا ہے۔’’داعش‘‘ جیسی انتہا پسند تنظیمیں اسی جنگ کا کئی حوالوں سے ردعمل ہیں۔جان لاکارے کی فریاد پرلیکن امریکہ اور برطانیہ کی حکمران اشرافیہ نے بروقت توجہ ہی نہیں دی۔

جان لاکارے کی درد بھری فریاد کے دو بنیادی نکات تھے۔پہلا یہ کہ جاسوسی اداروں کو حکمرانوں کی دلجوئی اور سہولت کے لئے حقائق ’’ایجاد‘‘ کرنے سے ہر صورت اجتناب برتنا چاہیے۔ دوسرا کلیدی نکتہ یہ تھا کہ ’’آزاد‘‘ ہونے کے دعوے دار میڈیا اداروں کو ریاست کی جانب سے گھڑے ’’بیانیے‘‘ کا پیغامبر نہیں ہونا چاہیے۔صحافی از خود نہایت دیانت داری سے یہ طے کریں کہ ان کے معاشرے کے لئے کونسا موضوع اہم ترین ہے۔حکمران اشرافیہ کے حکم یا فرمائش کو نظرانداز کرتے ہوئے اس موضوع کی بابت واویلا مچاتے رہیں۔

بھارت میں ان دنوں کرونا کی دوسری لہر نے جو قیامت برپا کررکھی ہے اس پر غور کرتے ہوئے مجھے جان لاکارے کی پریشانی اکثر یاد آتی ہے۔عالمی اقتصادی فورم سے اس برس کے آغاز میں خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیر اعظم نے نہایت رعونت سے اعلان کردیا تھا کہ اس کے ملک نے ’’کرونا کو شکست‘‘ سے دو چار کردیا ہے۔آکسفورڈ یونیورسٹی کے ایک تحقیقی ادارے کی معاونت سے بھارت نے متاثر کن سرعت کے ساتھ کرونا کے تدارک کی ویکسین بھی تیار کرنا شروع کردی۔وہ تیار ہوگئی تو اس کا وافر حصہ اپنے چند ہمسایہ اور افریقہ کے غریب ممالک کو ’’مفت‘‘ بھیج کر مودی سرکار نے ’’فراخ دل‘‘ ہونے کا ناٹک بھی رچانا شروع کردیا۔ بھارت کے تمام جید اخبارات اور ٹی وی نیٹ ورکس مودی کی ’’انسانی دوستی اور دور اندیشی‘‘ کی بابت درباری قصیدہ نویسوں کی طرح 24/7ڈھول بجانا شروع ہوگئے۔مودی سرکار سے کبھی یہ معلومات طلب کرنے کی جرأت ہی نہیں دکھائی کہ ایک ارب تیس کروڑ کی آبادی پر مشتمل بھارت میں کتنے افراد کو بھارت ہی میں تیار کردہ ویکسین لگادی گئی ہے۔کرونا کی دوسری لہر نے صحت عامہ کے نظام کو کامل مفلوج بنادیا تب انہیں یہ بیان کرنے کی ہمت ہوئی کہ بھارت کے فقط دو فیصد شہریوں کو یہ ویکسین لگائی گئی تھی۔ گزشتہ ڈیڑھ برس سے وبائی امراض پر نگاہ کرنے والے جبکہ مسلسل اصرار کررہے ہیں کہ کوئی بھی ملک اس وقت تک کرونا کو ’’شکست‘‘دینے کا دعویٰ نہ کرے جب تک اس کی آبادی کا کم از کم 60سے 70فی صد حصہ وباء سے بچائو کی ویکسین نہ لگوالے۔اس حقیقت کو بھارتی میڈیا پیشہ وارانہ ذمہ داری کے ساتھ مسلسل اجاگر کررہا ہوتا تو آج اس کے ملک میں شاید لاشوں کے انبار نہ لگے ہوتے۔

بھارت اور جان لاکارے کا حوالہ دینے کو اس لئے مجبور ہوا ہوں کہ پاکستان کے تمام بڑے اخبارات کا باقاعدہ قاری ہوتے ہوئے مجھے ہرگز یہ علم نہیں ہے کہ ہمارے ہاں آبادی کے کتنے فی صد کو اب تک کرونا سے مدافعت کی ویکسین لگائی جاچکی ہے۔ہم اس تناظر میں کب تک مطلوبہ تناسب یعنی 60سے 70فی صد تک پہنچ جائیں گے۔ہمارے قریبی ہمسائے میں نازل ہوئی قیامت نے ہم سب کو مجبور کردینا چاہیے تھا کہ دیگر موضوعات کو فی الوقت نظرانداز کرتے ہوئے محض پیشہ وارانہ تقاضوں کے تحت مذکورہ سوال کا ٹھوس اور قابل اعتماد اعدادوشمار پر مبنی جوابات ڈھونڈتے۔

گزشتہ تین دنوں سے مگر ہمارے میڈیا میں ’’انتخابی اصلاحات‘‘ کو پاکستان کا مسئلہ نمبر ون بناکر پیش کیا جارہا ہے۔فواد چودھری صاحب نہایت فخر سے اعلان کررہے ہیں کہ وطن عزیز کے تخلیقی ذہنوں نے ایسی مشین تیار کرلی ہے جو رائے دہندگان کو بیلٹ پیپر پر ٹھپہ لگانے کے بجائے محض ایک بٹن دبا کر اپنا ووٹ دینے کی سہولت میسر کرے گی۔اس کے بعد دھاندلی کے الزامات لگانا ناممکن ہوجائے گا۔لوگوں کو میڈیا کی بھرپور معاونت سے تبلیغی لگن کے ساتھ مائل کیا جارہا ہے کہ مشین کا ایک بٹن دباکر اپنا ووٹ ڈالتے ہوئے ’’جدید‘‘ دور میں داخل ہوجائیں۔

نظر بظاہر پاکستان میں آئندہ ا نتخابات 2023کے آخری چھ مہینوں میں کسی بھی وقت ہوسکتے ہیں۔میں یہ کالم مئی 2021کے پہلے ہفتے میں لکھ رہا ہوں۔ یہ کالم لکھتے ہوئے نہایت خلوص سے کئی بار سوچا کہ فی الوقت پاکستان کا اہم ترین مسئلہ ’’صاف شفاف انتخاب‘‘ کو یقینی بنانا ہے یا عوام کو یہ اطمینان دلانا کہ ہمارے ہاں آبادی کے 60سے 70فی صد حصہ کو وباء سے بچانے کا بندوبست انتہائی تیز رفتاری سے اپنے ہدف کی جانب رواں دواں ہے۔ اگر قابل اطمینان بندوبست قائم ہوچکا ہے تو صحت عامہ کے مسائل پر نگاہ رکھنے والے کئی مستند ماہر اور ادارے کیوں اس خدشے کا اظہار کئے چلے جارہے ہیں کہ جون کے آغاز کے ساتھ پاکستان میں بھی کرونا کے حوالے سے ویسی ہی صورتحال رونما ہوسکتی ہے جس نے بھارت کو آج دِکھنے والی قیامت کی طرف دھکیلا تھا۔

(Visited 3 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *