اردو زبان کس کی ہے۔۔۔ سعد اللہ جان برق

آج ہم اپنی تحقیق کا ٹٹو ایک بالکل ہی نئی سمت میں دوڑانا چاہتے ہیں اور یہ سمت ’’اردو زبان‘‘ کی ہے اور وجہ اس ’’بے سمتی‘‘ کی یہ پیدا ہوئی کہ بعض اوقات ہم اخبارات و رسائل میں کچھ اساتذہ قسم کے حضرات کے ایسے مضامین پڑھ لیتے ہیں جن میں اردو زبان کے بگاڑ اور الفاظ کی تصحیح کا سلسلہ ہوتا ہے خاص طور پر اردو میں انگریزی یا دوسری زبانوں کی ملاوٹ پر تو بہت واویلہ کیا جاتا ہے۔ سب سے پہلے تو یہ بات طے ہونی چاہیے کہ اردو کے اہل زبان ہم کن لوگوں کو سمجھیں گے اور یا یہ کہ ایسا کوئی فرد یا لوگ موجود ہیں جن کو اردو کا یا کے اہل زبان کہا جا سکتا ہے۔عام طور پر تو بھارت سے آنے والوں کو اہل زبان کہا جاتا ہے خاص طور پر جو وسطی بھارت سے آئے ہیں لیکن یہ سن کر آپ چونک بلکہ چونکہ چنانچہ ہو جائیں گے کہ اردو کا اہل زبان نہ کوئی تھا نہ ہے اور جو لوگ اس کے مدعی ہیں وہ بالکل

غلط دعویٰ کرتے ہیں بلکہ دعوے کے بغیر قبضے کا مظاہرہ کر رہے ہیں، اس بات کو ثابت کرنے کے لیے پہلے ہمیں زبان اور قوم کی تشریح کرنا پڑے گی، زبان ہمیشہ کسی قوم کی ہوتی ہے اور قوم ہم زبان نسلوں کی بنتی یا ہم نسل لوگوں کی۔اردو تو کم و بیش چار سو سال کی زبان ہو گی جو پہلے ریختہ تھی، پھر اردو ہو گئی۔ اس کے بولنے اور لکھنے والے اس عرصے میں پیدا ہو گئے۔ وہ اردو کی طرح اچانک چار سو سال پہلے پیدا نہیں ہوئے تھے بلکہ زمانوں سے موجود دوسری اقوام اور زبانوں کے ہوا کرتے تھے۔ یعنی جدی پشتی زبان ان کی کچھ اور ہوا کرتی تھی۔ مثال کے طور پر غالبؔ اپنے آپ کو ایرانی افراسیابی کہا کرتے تھے، جوشؔؔ ملیح آبادی جو اردو کی ڈکشنری کہلاتے تھے آفریدی پشتون تھے، میرؔ ایرانی النسل تھے، امیر خسروؔ بھی فارسی ترک تھے۔ اس طرح ہر بڑے ادیب و شاعر کو ٹٹولیے تو کسی اور زبان سے ’’نقل لسانی‘‘ کر کے آئے ہوئے ثابت ہوں گے۔ ہمارے علامہ اقبالؔؔ،احسان دانشؔؔ، فیضؔ، منیرؔ نیازی، حفیظؔؔ جالندھری پنجابی سے ادھر آئے تھے۔مطلب یہ کہ اردو زبان کے بارے میں اگر صحیح صحیح کہا جائے تو وہ یہ کہ یہ زبان سب کی ہے اور جب سب کی ہے تو سب ہی اہل زبان ٹھہرے اس کی صفت ہمہ گیری ہے محدودیت نہیں۔اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ اس میں ایک بلکہ آدھا لفظ بھی ایسا نہیں جسے اردو زبان کا اپنا لفظ قرار دیا جا سکے اور جب کوئی لفظ ہی نہیں تو زبان کیسی اور اہل زبان کیسے؟ٹھیک ہے جو لوگ کئی نسلوں سے اسے بطور زبان اختیارکیے ہوئے ہیں وہ سینئر ہونے کی وجہ سے محترم ہیں، اساتذہ بھی ان کو کہا جا سکتا ہے لیکن ساری اردو زبان کی میراث یا ملکیت نہیں اور یہی تو اس کی واحد خوبی ہے کہ کسی کی نہیں ہے، اس لیے ہر کسی کی ہے۔اب ذرا اس کی پیدائش اور نام کا سلسلہ بھی زیر بحث لایا جائے تو

معاملہ اور صاف ہو جائے۔ لفظ’’اردو‘‘ کو ترکی زبان کا مشہور کر دیا گیا ہے لیکن یہ غلط ہے۔ یہ لفظ اپنی بنیاد میں سومیری، بابلی بلکہ زیادہ صحیح اشوری زبان کا لفظ ہے۔اشوری دور میں بڑے بڑے اشوری بادشاہ ہوئے ہیں جن میں وہ حمورابی بھی شامل ہے جسے بابائے قانون یا پہلا مقنن بادشاہ کہا جاتا ہے لیکن ہماری بحث سے تعلق رکھنے والا مشہور بادشاہ ’’اشوربنی پال‘‘ ہے جس کی لائبریری آثار میں اہم ترین چیز ہے، مٹی کی پختہ اور کچی تختیوں پر مشتمل اس لائبریری کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کی بیس ہزار تختیاں توصرف برٹش میوزیم میں موجود ہیں اور چونکہ اسی لائبریری میں اس زبان کی ’’کلید‘‘ بھی ملی ہے اس لیے ساری تختیاں آسانی سے پڑھی گئیں۔لیکن اس نیک شہرت کے ساتھ ساتھ یہ اشوری بادشاہ نہایت ہی ظالم اور خونریز بھی تھے۔ ارد گرد کے علاقوں کو تاخت و تاراج کر کے لوٹنا اور خون

بہانا ان کا محبوب مشغلہ تھا۔ مال غنمیت میں یہ بادشاہ ان اقوام کے لوگ بھی پکڑ کر لاتے اور غلام بناتے تھے خاص طور پر بنی اسرائیل کی دونوں سلطنتیں یہودیہ اور اسرائیلہ تو ان کا ہمیشہ نشانہ رہتے رہیں، چنانچہ سناخریب، نارام سن اور تغلت پلاسر نامی بادشاہوں نے بھی حمورابی اور اشوری بنی پال کے بعد یہ سلسلہ جاری رکھا۔ اسرائیلہ کی سلطنت پہلے ان اشوری بادشاہوں نے تہس نہس کی تھی بعد میں بابل کے کلدانی بادشاہ بخت نصر نے یہودیہ کی سلطنت کو بھی ملیامیٹ کر کے بنی اسرائیل کو مکمل طور پر کچل دیا۔ان جنگوں میں جو غلام لائے جاتے تھے، وہ اتنے زیادہ ہو گئے کہ ان کے لیے ایک الگ کیمپ ’’اریدو‘‘ کے نام سے بسایا گیا۔’’ار‘‘ کے معنی شہر کے اور’’ایدو‘‘ بمعنی غلام۔ادھر آہستہ آہستہ ان بادشاہوں نے سوچا کہ ان غلاموں یا یرغمالیوں سے کچھ کام کیوں نہ لیا جائے چنانچہ ان کو اپنے ساتھ لشکری

بنا کر جنگوں پر لے جایا جانے لگا اور مال غنیمت میں سے کچھ تھوڑا سا حصہ ان کو دیا جاتا تھا باقی بادشاہ کا ہوتا تھا۔ یہیں سے دنیا میں پہلی بار معاوضہ دار یا تنخواہ دار لشکر کا سلسلہ شروع ہو گیا اور ’’اریدو‘‘ شہر کی وجہ سے ان کو اریدو کہا جانے لگا۔ یہ لفظ پھر لشکر سے منسوب ہو گیا اور دوسرے ممالک اور زبانوں میں بھی مروج ہو گیا۔ ترکی میں اس کی شکل ’’اردو‘‘ ہو گئی جو آج بھی تقریباً تمام ایشیائی ممالک میں ’’لشکر‘‘ یا فوج کے لیے مروج ہے۔ افغانستان میں بھی مختلف حصوں کے لیے اردوئے فلاں اور اردو ئے فلاں کے الفاظ رائج ہیں۔اب فوج یا لشکر میں تو ہر قوم و ملت کے اور زبان و نسل کے لوگ ہوا کرتے ہیں چنانچہ ان ساری زبانوں کے مال مسالہ پر مبنی زبان کا نام بھی اردو ہو گیا۔جس طرح اس کے بولنے والے ہر قوم و نسل کے ہو سکتے ہیں اسی طرح اس کے الفاظ یا لغات یا مال کا بھی نہ کوئی حد ہے

اور تخصیص۔ چونکہ ہند کے کچھ خاص علاقوں میں اس کی پرورش و پرداخت ہوئی ہے اور وہیں پر یہ تحریری اور ادبی زبان بنی ہے اس لیے ان علاقوں کے لوگوں کو اولیت کا درجہ حاصل ہے لیکن زبان یہ سب کی ہے۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ اب بھی مسلسل دوسری زبانوں سے الفاظ کھینچ رہی ہے اور جزو بدن بنا رہی ہے۔ اس کی مثال ایک بے تحاشا کھانے والے جانور کی طرح ہے کہ جتنا کھاتا ہے اتنا ہی موٹا ہوتا ہے اور جتنا موٹا ہوتا ہے اتنا ہی زیادہ کھاتا ہے۔معروف معنوں میں یہ ایک صحیح اور حقیقی بین الاقومی یا بین اللسانی زبان ہے پھر وہی بات دہرائیں گے کہ ہر کسی کی ہے اس لیے کسی کی نہیں ہے اور کسی کی نہیں ہے اس لیے ہر کسی کی ہے۔پاکستان میں اس کے ساتھ سیاسی اور سرکاری طور پرکچھ ’’برا‘‘ ہوا ہے جس نے اس معصوم نہایت کارآمد اور ہمہ صفت زبان کے لیے کچھ لوگوں میں نفرت اور ناپسندیدگی کے گوشے بنا دیے ہیں۔ لیکن وہ سیاست اور سرکاری غلط کاریوں کا شاخسانہ ہے۔ بجائے خود اردو اب بھی ایک بین القومی اور پیاری زبان ہے۔جہاں تک اس میں بیرونی الفاظ کی آمد اور چلن کی بات ہے تو ہمارے خیال میں اس پر نہ کوئی قدغن لگانا درست ہے اور نہ ہی ممکن۔

(Visited 21 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *