شاعری

میں کہیں گم ہوگیا ہوں۔غزل ۔۔۔ خالد راہی

میں کہیں گم ہوگیا ہوں جب سے تم ہوگیا ہوں بجھتی ہوئی لو جیسے بہت مدہم ہوگیا ہوں اسقدر زخم ملے ہیں اب تو مرہم ہوگیا ہوں تیری گلیوں کی جیسے پیچ و خم ہوگیا ہوں قیاسوں میں ہوں جیتا

اگر کج رو ہیں انجم آسماں تیرا ہے یا میرا ۔۔۔ علامہ اقبال

اگر کج رو ہیں انجم آسماں تیرا ہے یا میرا مجھے فکر جہاں کیوں ہو جہاں تیرا ہے یا میرا اگر ہنگامہ ہائے شوق سے ہے لا مکاں خالی خطا کس کی ہے یا رب لا مکاں تیرا ہے یا

ایک پل میں زندگی بھر کی اداسی دے گیا ۔۔ غزل۔۔ محسن نقوی

ایک پل میں زندگی بھر کی اداسی دے گیا وہ جدا ہوتے ہوئے کچھ پھول باسی دے گیا نوچ کر شاخوں کے تن سے خشک پتوں کا لباس زرد موسم بانجھ رت کو بے لباسی دے گیا صبح کے تارے

نقش فریادی ہے کس کی شوخی تحریر کا۔۔ غزل۔۔۔ مرزا غالب

نقش فریادی ہے کس کی شوخی تحریر کا کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا کاو کاو سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ صبح کرنا شام کا لانا ہے جوئے شیر کا جذبۂ بے اختیار شوق دیکھا چاہئے سینۂ شمشیر

کیا زمانہ تھا کہ ہم روز ملا کرتے تھے

کیا زمانہ تھا کہ ہم روز ملا کرتے تھے رات بھر چاند کے ہمراہ پھرا کرتے تھے جہاں تنہائیاں سر پھوڑ کے سو جاتی ہیں ان مکانوں میں عجب لوگ رہا کرتے تھے کر دیا آج زمانے نے انہیں بھی

دنیا کا کچھ برا بھی تماشا نہیں رہا

دنیا کا کچھ برا بھی تماشا نہیں رہا دل چاہتا تھا جس طرح ویسا نہیں رہا تم سے ملے بھی ہم تو جدائی کے موڑ پر کشتی ہوئی نصیب تو دریا نہیں رہا کہتے تھے ایک پل نہ جیئیں گے

انہی خوش گمانیوں میں کہیں جاں سے بھی نہ جاؤ

انہی خوش گمانیوں میں کہیں جاں سے بھی نہ جاؤ وہ جو چارہ گر نہیں ہے اسے زخم کیوں دکھاؤ یہ اداسیوں کے موسم یونہی رائیگاں نہ جائیں کسی یاد کو پکارو کسی درد کو جگاؤ وہ کہانیاں ادھوری جو

راز الفت چھپا کے دیکھ لیا ۔غزل۔۔۔ فیض احمد فیض

راز الفت چھپا کے دیکھ لیا دل بہت کچھ جلا کے دیکھ لیا اور کیا دیکھنے کو باقی ہے آپ سے دل لگا کے دیکھ لیا وہ مرے ہو کے بھی مرے نہ ہوئے ان کو اپنا بنا کے دیکھ

آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گا۔ غزل ۔۔۔ احمد فراز

آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گا وقت کا کیا ہے گزرتا ہے گزر جائے گا اتنا مانوس نہ ہو خلوت غم سے اپنی تو کبھی خود کو بھی دیکھے گا تو ڈر جائے گا ڈوبتے ڈوبتے

اشک اپنا کہ تمہارا نہیں دیکھا جاتا ۔۔۔ محسن نقوی

اشک اپنا کہ تمہارا نہیں دیکھا جاتا ابر کی زد میں ستارا نہیں دیکھا جاتا اپنی شہ رگ کا لہو تن میں رواں ہے جب تک زیر خنجر کوئی پیارا نہیں دیکھا جاتا موج در موج الجھنے کی ہوس بے