شاعری

ہمنشیں! پوچھ نہ مجھ سے کہ محبت کیا ہے احسان دانش.

ہمنشیں! پوچھ نہ مجھ سے کہ محبت کیا ہے اشک آنکھوں میں ابل آتے ہیں اس نام کے ساتھ تجھ کو تشریحِ محبت کا پڑا ہے دورہ پھر رہا ہے مرا سر گردشِ ایام کے ساتھ سن کر نغموں میں

گُل ترا رنگ چرا لائے ہیں گلزاروں میںاحمد ندیم قاسمی

گُل ترا رنگ چرا لائے ہیں گلزاروں میں جل رہا ہوں بھری برسات کی بوچھاروں میں مجھ سے کترا کے نکل جا مگر اے جانِ جہاں! دل کی لَو دیکھ رہا ہوں ترے رخساروں میں مجھ کو نفرت سے نہیں

جناب اعجاز حیدر کی’’عکسِ موقوف‘‘پر خراجِ تحسین ڈاکٹر سعید اقبال سعدیؔ

لکھی ہے ’’عکسِ موقوف‘‘اس طرح اعجاز حیدر نے سخن کا کر دیا ہے حق ادا اعجاز حیدر نے یہ ہے اعجاز اس کے نام کا یہ پھر سخن گوئی دیا ہر شعر کو لہجہ نیا اعجاز حیدر نے بڑی قدرت

چلنے کا حوصلہ نہیں رکنا محال کر دیا ۔۔۔ پروین شاکر

چلنے کا حوصلہ نہیں رکنا محال کر دیا عشق کے اس سفر نے تو مجھ کو نڈھال کر دیا اے مری گل زمیں تجھے چاہ تھی اک کتاب کی اہل کتاب نے مگر کیا ترا حال کر دیا ملتے ہوئے

دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا ۔۔۔ نا صر قاظمی

دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا وہ تری یاد تھی اب یاد آیا آج مشکل تھا سنبھلنا اے دوست تو مصیبت میں عجب یاد آیا دن گزارا تھا بڑی مشکل سے پھر ترا وعدۂ شب یاد آیا تیرا بھولا ہوا

ہوکے آہواں بھردی پئی آں۔۔۔ اظہر اقبال مغل

ہوکے آہواں بھردی پئی آں غماں دی اگ وچ سڑنی پئی آں وچھڑن والا تاں وچھڑ گیا اے ہن کاہدے توں ڈرنی پئی آن زخماں بھریا اے دل میرا نال دُکھاں دے لڑنی پئی آں یاداں اوہدیاں بہت ستاون بن

وقت کیساتھ ساتھ مسکرانا بھول گیا ہوں ۔۔۔ خالد راہی

وقت کیساتھ ساتھ مسکرانا بھول گیا ہوں شائد اس کو یاد جو آنا بھول گیا ہوں یہ بات بھی اسکو بتانا بھول گیا ہوں اب میں روٹھنا منانا بھول گیا ہوں زمانے بیت گئے ہوں خود سے ملاقات کئے بھیج

علمی،ادبی، سماجی و ثقافتی روایات کی امین تنظیم جگنو انٹر نیشنل لاہور کے زیرِ اہتمام جگنو ماہانہ مشاعرہ

لاہور (اظہراقبال مغل) ادب و ثقافت کے فروغ میں کوشاں،ا علمی،ادبی، سماجی و ثقافتی روایات کی امین تنظیم جگنو انٹر نیشنل لاہور کے زیرِ اہتمام تنظیم کی سربراہ ایم زیڈ کنول کی میزبانی میں جگنو ماہانہ مشاعرہ بیاد راؤ قاسم

مجھے وہ چاندنی بھولی نہیں اب تک: شاعر دعا علی

مجھے وہ چاندنی بھولی نہیں اب تک ترے آنے پہ جو کھل کر برستی تھی تجھے تکتا تھا چندا بھی شجر کی اوٹ سے اکثر مگر تو اپنی قسموں کو وفا کرنے نبھانے اپنے وعدوں کو چلے آتے تھے میرے

کہتے ہیں سب کی سانجھی ہوتی ہیں بیٹیاں سب :شاعر دعا علی

کہتے ہیں پھول جیسی ہوتی ہیں بیٹیاں سب تنہا دکھوں میں ان کو کیوں لوگ چھوڑتے ہیں معصوم دل ہیں ان کے کیوں لوگ توڑتے ہیں ہوتی ہیں پریوں جیسی کہتے ہیں بیٹیاں سب معصوم دل ہیں ان کے کیوں