شاعری

چُپ چپیتے نیویں پا کے بیٹھے رئے،شبیر حسین بٹ

چُپ چپیتے نیویں پا کے بیٹھے رئے، ویلے توں دستار بچا کے بیٹھے رئے۔ ہنجُو اکھیاں وچ لُکا کے بیٹھے رئے، بُلیاں تے مُسکان سجا کے بیٹھے رئے۔ اپنے آپ دے نال مُتکٓا لایا سی، اپنے آپ نُوں مار مکا

وہ تو پتھر پہ بھی گزرے نہ خدا ہونے تک

وہ تو پتھر پہ بھی گزرے نہ خدا ہونے تک جو سفر میں نے نہ ہونے سے کیا ہونے تک زندگی اس سے زیادہ تو نہیں عمر تری بس کسی دوست کے ملنے سے جدا ہونے تک ایک اِک سانس

سزا پہلے مقدمہ بعد میں

اب یہ بات تو صاف ہے کہ ملک کے ایک منتخب وزیر آعظم سابق ہوگئے۔ اور پاکستانی تاریخ کے اس فیصلے کے بارے صرف اتنا کہا جا سکتا ہے کہ وہ منصفوں کی رواتیں وہی فیصلوں کی عبارتیں میرا جُرم

جنازہ سب کا پڑھایا جائے

پانامہ کیس میں کس کی جیت ہوتی ہے کس کی ہار یہ تو وقت اور سپریم کورٹ کا فیصلہ ہی بتائیگا لیکن حالات اور واقعات یہ بتا رہے ہیں کہ حالات نواز شریف کے حق میں نہیں ہیں ۔اس کا

پریس ریلیز۔۔تعزیتی ریفرنس لیاقت جنجوعہ (کینٹین منتظم۔۔الحمرا ادبی بیٹھک، لاہور وجگنو ماہانہ مشاعرہ بابت ماہ جولائی 2017

میزبان۔ایم زیڈ کنولؔ (چیف ایگزیکٹو)، شگفتہ غزل ہاشمی(صدر) فردوس نقوی(کنوینئر) علمی،ادبی،سماجی و ثقافتی تنظیم جگنو انٹر نیشنل کے زیرِ اہتمام لیاقت جنجوعہ (کینٹین منتظم۔۔الحمرا ادبی بیٹھک، لاہور کا تعزیتی ریفرنس وجگنو ماہانہ مشاعر ہ بابت ماہ جولائی 2017 کاانعقاد الحمراء

میری زندگی میر ے ساتھ چل

میری زندگی میر ے ساتھ چل تُو تھام کے میرا ہا تھ چل میرے ہاتھ میں تُو ہاتھ دے میرا عمر بھر تُو ساتھ دے تجھے دیکھنا میری جستجو تجھے چا ہنا میری آرزو مجھے دن دے اپنے خیال کا

ماہِ صیام – صہیب اکرام

آگیا آخر وہ ماہِ حاملِ صد احترام مضطرب تھے جس کے استقبال کو سب خاص و عام ہر زباں باندھے ہوئے احرامِ ورد و ذکر ہے ہر دلِ بیدار کو بس عاقبت کی فکر ہے تیرگی گویا مقید ہے حصارِ

خود کو جب خود سے کسی روز رہائی دوں گی

خود کو جب خود سے کسی روز رہائی دوں گی میں پرندوں کی طرح اڑتی دکھائی دوں گی زندگی تو مجھے کنگن نہ بھی پہنا بے شک میں تجھے ہنستے ہوئے پھر بھی کلائی دوں گی معجزے لفظ مرے خلق

کیا اضافی تھا کیا ؟کیا ضروری تھا؟

کیا اضافی تھا؟ کیا ضرُوری تھا؟ پہلے یہ فیصلہ ، ضرُوری تھا۔ اپنی آنکھیں نکال کر رکھ دیں، راستے میں دیا ضرُوری تھا۔ تیری زُلفیں سنوارنے کیلئے، دستِ ہمسر، بھلا ضرُوری تھا؟ اُس نےکتنا سُنا؟ نہیں معلوم، میں نے جتنا

ہجر نگری سعدیہ صفدر

ہجر نگری تری موجودگی موجود ہے تو پھر یہاں سب کچھ مجھَے پھیکا فنا جیسا سکوت _ مرگ جیسا لگ رہا ہے کیوں نہ دنیا ہے نہ شورو غل نہ ہنگامے نہ دل کو کھینچتے میلے جھمیلے ہیں نہ لوگوں