کالم

بھڑکتے سلگتے حالات حاضرہ:ڈاکٹر مجاہد منصوری

نئے نئے حالات پیدا ہونا اور ہو کر اسلامی مملکت قومی و ریاستی امور پر اثر انداز ہونا ایک مسلسل عمل ہے۔ ان ’’حالات حاضرہ‘‘میں سے کچھ مستقبل قریب کو متاثر کرتے کرتے ارتقاء کی شکل اختیار کر کے دور

علماء اور مدارس:ہارون الرشید

مدارس کو بدلنا ہو گا…اور اس طرح کہ اس میں سے جنرل اٹھیں‘ ظفر الطاف ایسے افسر اور صلاح الدین ایسے اخبار نویس۔ دوسرے شعبوں کے شہسوار بھی!اب تو ایسی مخلوق مدارس پیدا کرتے ہیں دوسروں میں جو گھل مل

صحت مند خوشگوار:جاوید چوہدری

یہ تجربہ 1938ء میں شروع ہوا‘ دنیا کی نمبر ون یونیورسٹی ہارورڈ نے ’’ہارورڈ اسٹڈی آف اڈلٹ ڈویلپمنٹ‘‘ کے نام سے ایک یونٹ بنایا اور اس یونٹ نے ’’خوش گوار اور صحت مند زندگی‘‘ کے تین اصولوں کی تلاش شروع

الف لیلہ:مبشر علی زیدی

’’جو کوہ قاف کی طرف جاتا ہے، غائب ہو جاتا ہے۔‘‘ انتونیو نے کہا۔ وہ میرا فرانسیسی دوست ہے۔ کراچی آیا ہوا ہے۔ ’’ہاں، کوہ قاف کی ایک کہانی بچپن میں پڑھی تھی۔‘‘ میں مسکرایا۔ ’’ایسی ایک نہیں، بہت سی

بنارس خان موچی، درازندہ کا سعداللہ شاہ:وجاہت مسعود

ڈیرہ اسمعیل خان سے ژوب کی طرف جائیں تو درازندہ کا نیم قبائلی گاؤں آتا ہے۔ درازندہ میں لکڑیاں بیچنے والے سعداللہ شاہ کا بیٹا قاسم شاہ محکمہ زراعت کے تربیتی مرکز میں تعلیم پا رہا تھا۔ سعداللہ شاہ امید

شہباز شریف کی باری؟سہیل وڑائچ

ایسا کیا ہو گیا کہ وہ جو سب کا پسندیدہ تھا یکایک ناپسندیدہ بن گیا۔ آصف زرداری، عمران خان، طاہر القادری سب یک زبان ہیں کہ اب اسے نکالیں گے۔ صرف تین ماہ پہلے لگتا تھا کہ شہباز شریف کو

پاکستان کی ’’بزرگ‘‘ اور ’’بچہ‘‘ لیڈر شپ:حسن نثار

ہمارے ہاں سیاستدان بننے کی بنیادی شرائط یہ ہیں کہ بندہ یا بندی شرم و حیا کو اچھی طرح گھول کر پی لے، رکھ رکھائو اور وضع داری کو گہرا دفن کردے، ڈھٹائی کی ہیوی ڈوز لیتا رہے۔ گزشتہ دنوں

نہد شاخ پر میوہ سر بر زمین:مفتی منیب الرحمٰن

تحریک لبیک پاکستان کے قائدین علامہ خادم حسین رضوی اور علامہ پیر محمد افضل قادری اپنی دھرنا تحریک میں سرخرو ہوئے اور ایک باوقار معاہدے کے نتیجے میں دھرنا ختم کر کے واپس لاہور پہنچے۔ ان کا ہر جگہ پرتپاک

خون ناحق لے بیٹھے گا!ایاز میر

1977ء کی پوری پی این اے تحریک میں اتنے لوگ نہیں مارے گئے‘ جتنے ایک صبح آپریشن کے دوران ماڈل ٹاؤن میں پولیس کی گولیوں سے چھلنی ہو گئے۔ 9-10 اپریل 1977ء کو انار کلی کے پاس گولی چلی تھی‘

پاکستان پیپلز پارٹی کا 50واں یوم تاسیس راشد علی

1966ء میں جب ذوالفقار علی بھٹو سیاسی اختلافات کی بنا پر صدر ایوب خان کی کابینہ سے مستعفی ہوئے اور اپنی سیاسی پارٹی بنانے کے لیے متحرک 30 نومبر اور یکم دسمبر 1967ء کو لاہور میں ڈاکٹر مبشر حسن کی