پیلوں پکیاں نی وے | ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

میں کالم لکھنا تو ابھی شروع کروں گا مگر پہلے میں سعودی عرب کے بادشاہ شاہ سلمان کی تھوڑی سی تکلیف کا ذکر کر لوں۔ وہ سیڑھیاں اتر رہے تھے جو اچانک بند ہو گئیں اور انہیں سیڑھیاں خود ہی اترنا پڑیں۔

ملتان سے مجھے جو ادیب سب سے پہلے اور سب سے زیادہ پسند آیا وہ انوار احمد ہے۔ وہ ملتان میں صدر شعبہ اردو کے طور پر ریٹائرڈ ہوئے ہیں۔ وہ نثر بہت اچھی لکھتے ہیں۔ بہت قابل اور پسندیدہ پروفیسر مانے جاتے ہیں۔

انہیں احساس ہے کہ وہ بڑے آدمی ہیں۔ وہ بڑے آدمی ہیں۔ وہ ادب کی دنیا کے ایک سردار ہیں۔ یہ ہم سب مانتے ہیں مگر صرف جارحانہ رویے کو منصفانہ رویہ مان لیا جائے تو خرابی پیدا ہو گی اور خرابی پیدا ہو گئی ہے۔ صرف اپنے آپ کو پڑھا لکھا سمجھنا اور کسی دوسرے کو نہ ماننا ایک کلچر اور ادبی کلچر بن گیا ہے۔

ڈاکٹر انوار ادب کے لیے بہت مخلص ہیں۔ انہوں نے اپنا یہ کام کبھی چھوڑا نہیں۔ وہ میرے ساتھ بہت دوستانہ سلوک کرتے ہیں۔ مجھے اپنے ادبی مشاغل میں شامل کرتے ہیں۔

انہوں نے مجھے ادبی رسالہ بھیجا ہے۔ یہ رسالہ وہ باقاعدگی سے شائع کرتے ہیں۔ وقفہ زیادہ ہو جاتا ہے مگر انہوں نے اس ادبی مصروفیت کے لیے اپنے آپ کو وقف کر دیا ہے۔ وہ جب رسالہ چھاپتے ہیں تو مجھے ضرور بھیجتے ہیں۔ اس طرح ملتان کے کچھ ادبی منظر سامنے آتے ہیں؟ میں ملتان میں کچھ عرصہ رہا ہوں مگر تقریباً سب لوگ اس کے بعد متعارف ہوئے۔ صرف عرش صدیقی تھے جن سے رسمی سی ملاقات رہتی تھی۔

ان کے رسالے کا نام ”پیلوں“ ہے۔ پیلوں سرائیکی کا لفظ ہے۔ یہ ایک غیرمعروف پھل ہے جو شاید صرف اس علاقے میں ہوتا ہے۔ کچھ مدت پہلے اسے بہت پسند کیا جاتا تھا۔ اسی لیے تو پیلوں کے حوالے سے شاعری تخلیق ہوئی ہے۔

آ چنوں رل یار
پیلوں پکیاں نی وے
ایک اردو ادبی رسالے کے لیے یہ نام بہت منفرد اور مختلف ہے۔ یہ اپنے علاقے اور اپنے کلچر کی سچی اور آسان نمائندگی ہے۔ مدیر کے لیے ڈاکٹر انوار احمد کا نام ہے اور مہمان مدیر کے طور پر اپنے استاد نامور اور بزرگ ممتاز ادیب ڈاکٹر سلیم اختر کا نام موجود ہے۔ ذاتی طور پر ڈاکٹر انوار احمد وضعدار آدمی ہیں۔ ڈاکٹر سلیم اختر انہیں ہمیشہ یاد رہتے ہیں۔ معاون مدیران کے طور پر سید عامر سہیل، محمد عارف عمران، میر سجاد نعیم، شکیل حسین سید محمد الیاس کبیر اور رانا تصویر احمد شامل ہیں۔ عجیب بات ہے کہ اس رسالے میں تقریباً تمام تحریریں مجھے اچھی لگیں مگر جو بہت اچھی لگیں وہ خواتین ادیبوں کی تحریریں ہیں۔ ثمینہ اشرف اور مصباح کیانی کے خاکے پسند آئے۔ ”ہمارا چاچا اسماعیل“ اور ”مرے ابو مرے دلدار“۔

فاطمہ حسین کو میں کراچی کی نمائندہ ادیبہ سمجھتا ہوں۔ ان کا افسانہ ”بیگم اعجاز“ دردانہ نوشین خان کا افسانہ دس لاکھ ڈالر کی جمائی پسند آئی۔ سعدیہ بتول کی کہانی ”اونچی سفارش“ اچھی کہانی ہے مگر مانی کیوں نہیں جاتی؟ شمائلہ حسین کی نظم کا عنوان بہت بامعنی ہے۔ اسقاط فکر۔ ایک جملہ مصباح نوید کیانی کا دیکھیے ”میرا باپ اور میری ماں کا شوہر دو مختلف آدمی تھے جو ایک فرد میں رہتے تھے۔“ ”پیلوں“ میں لاہور کی نمائندگی بھی ہے۔ میرے دوست ڈاکٹر ایوب ندیم کا ایک شعر….

حاصل زیست ہے بس اک لمحہ
عمر کیا عمر کا حساب ہے کیا

(Visited 6 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *