سچا واقعہ سعودیہ میں مقیم پاکستانی کا

تیسرے دن میں نے اپنے عزم کو عملی جامہ پہناتے ہوئے اپنی دکان سامان سمیت فروخت کر دی اور دیگر جمع پونجی اکٹھی کی تو میرے پاس 4 لاکھ پچاس ہزار ریال جمع ہو گئے تو فوراً 3 لاکھ ریال سے دوست کا قرض ادا کیا جس سے مجھے دلی سکون ملا اس ادائیگی کے 2 ہفتے بعد وہی شخص جس کو میں نے 3 لاکھ ادا کئے تھے میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ مجھے پتا چلا ہے کہ آپ نے اپنا سب کچھ بیچ کر یہ پیمنٹ کی ہے لہٰذا میں 1 لاکھ ریال سے دستبردار ہوتا ہوں، یہ کہہ کر اس نے 1 لاکھ ریال مجھے واپس کر دیا اور مارکیٹ میں دوسرے تاجروں کے ساتھ بھی اس واقعہ کا تذکرہ کیا کہ مخلص دوست نے کمال کی مثال قائم کر دی ہے-
سعودی عرب کے شہر بریدہ میں پیش آنے والا ایک سچا واقعہ ایک سعودی تاجر کا بیان ہے کہ میں اور میرا دوست سعودی شہر بریدہ میں تجارت کرتے تھے ایک دن میں جمعہ کی نماز کے لیے بریدہ کی مسجد الکبیر میں گیا نماز جمعہ کے بعد جنازہ کا اعلان ہوا نماز جنازہ ادا کی گئی-

لوگوں نے ایک دوسرے سے پوچھنا شروع کر دیا کہ یہ جنازہ کس کا ہے پتہ چلا کہ یہ جنازہ میرے ہی دوست سعود کا ہے جو گزشتہ رات دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گیا تھا مجھے سن کر انتہائی صدمہ پہنچا-

یہ 1415ھ یعنی کوئی 22 برس پہلے کی بات ہے اس وقت ابھی موبائل فون عام نہیں ہوا تھا – چند مہینے گزرنے کے بعد وہاں کے ایک دکاندار نے مجھ سے بات کی کہ مرحوم سعود کے ذمے میرے 3لاکھ ریال ہیں تو آپ میرے ساتھ چلیں ہم جا کر اس کے بیٹوں سے بات کریں-

اور یہ بات پہلے سے میرے علم میں تھی کہ سعود کے ذمہ یہ قرض ہے چنانچہ ہم مرحوم کے بیٹوں سے جا کر ملے بات چیت ہوئی تو انہوں نے بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے رقم لوٹانے سے صاف انکار کردیا اور کہا کہ ہمارے باپ نے تو صرف 6 لاکھ ریال چھوڑا ہے اگر 3 لاکھ ہم آپ کو دیتے ہیں تو پھر ہمارے پاس کیا بچے گا –

اس دور میں بہت سا لیں دین باہم اعتمادی بھی ہوتا تھا چنانچہ ہم واپس آگئے- یوں وقت گزرتا گیا لیکن ہر وقت مجھے سعود کی یاد ستاتی رہی یہی سوچتا رہا کہ ناجانے قرض نہیں چکانے کی وجہ سے قبر میں اس کے ساتھ کیا بیت رہی ہوگی-

ایک دن میں نے اپنے پیارے دوست کا قرض اتارنے کا عزم کرلیا اس ارادے کے بعد پھر مجھے دو دن تک نیند نہیں آئی جب بھی میں سونے کے لئے آنکھیں بند کرتا تو سعود کا مسکراتا چہرا میرے سامنے آ جاتا گویا وہ میری مدد کا منتظر ہو-

تیسرے دن میں نے اپنے عزم کو عملی جامہ پہناتے ہوئے اپنی دکان سامان سمیت فروخت کر دی اور دیگر جمع پونجی اکٹھی کی تو میرے پاس 4 لاکھ پچاس ہزار ریال جمع ہو گئے تو فوراً 3 لاکھ ریال سے دوست کا قرض اداک یا جس سے مجھے دلی سکون ملا-

اس ادائیگی کے 2 ہفتے بعد وہی شخص جس کو میں نے 3 لاکھ ادا کئے تھے میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ مجھے پتا چلا ہے کہ آپ نے اپنا سب کچھ بیچ کر یہ پیمنٹ کی ہے لہذا میں 1 لاکھ ریال سے دستبردار ہوتا ہوں، یہ کہہ کر اس نے 1 لاکھ ریال مجھے واپس کر دیا اور مارکیٹ میں دوسرے تاجروں کے ساتھ بھی اس واقعہ کا تذکرہ کیا کہ مخلص دوست نے کمال کی مثال قائم کر دی ہے-

چند دن گزرے کہ ایک تاجر کا فون آیا اس نے پیشکش کی کہ میرے پاس دو دکانوں پر مشتمل ایک سٹور ہے جو میں آپ کو بلا معاوضہ دینا چاہتا ہوں میں نے اس کی پیشکش کو قبول کیا مزدور لگا کر دکانوں کی صفائی کی-

اسی دوران سامان سے لدا ہوا ایک بڑا ٹرک دکانوں کے سامنے آ کر رکا جس میں سے ایک نوجوان نیچے اترا سلام کے بعد کہنے لگا کہ میں فلاں تاجر کا بیٹا ہوں یہ سامان میرے ابا جان نے بھیجا ہے اور کہا ہے کہ سامان بیچ کر اسکی نصف قیمت آپ ہمیں لوٹا دینا اور باقی آدھا مال ھماری طرف سے گفٹ ہے اور آئندہ جتنے مال کی ضرورت ہو ہم سے ادھار لے کر فروخت کر کے پیمنٹ کر دیا کریں-

لوگ جنہیں میں جانتا نہیں تھا چاروں طرف سے میرے ساتھ تعاون کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے اور تھوڑے ہی عرصے میں میرا بزنس پہلے سے دگنا ہوگیا المختصر 1436ھ کے رمضان المبارک میں میں نے 3 ملین ریال اپنے مال کی زکواة ادا کی ہے يہ كوئی افسانہ نہیں بلکہ حقیقی واقعہ ہے –

سید کائنات رحمۃ اللعالمین کا فرمان گرامی کس قدر سچا ہے کہ جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں رہتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کی مدد کرتا رہتا ہے ـ

(Visited 24 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *