درد کا حل صرف دواؤں نہیں، غذاؤں میں بھی ہوتا ہے

درد کا حل صرف دواؤں میں نہیں غذاوں میں بھی ہوتا ہے۔ کچھ غذائیں ایسی ہیں جن سے نہ صرف جسمانی نشوونما میں مدد ملتی ہے بلکہ ان سے کسی بھی قسم کے درد کو کم یا روکا جا سکتا ہے اور انفلیمیشن (سوزش)کی کیفیت سے بھی راحت حاصل کی جاسکتی ہے۔

زیتون کا تیل 

زیتون کا تیل کھانا پکانے میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔فوٹو کریڈٹ؛ شٹر اسٹاک 

پینسلوانیا یونی ورسٹی کے محققین نے خالص زیتون کے تیل میں ایک ‘اولیکینتھل’ نامی ایک کیمیکل تلاش کیا ہے جو کہ بلکل ایسے ہی کام کرتا ہے جیسے درد کو دور کرنے والی دوا بروفین کرتی ہے۔

زیتون کے تیل کو کھانا پکانے کے ساتھ ساتھ سبزیوں اور سلاد پر چھڑکیں اور روٹی یا ڈبل روٹی پر مکھن یا مارجرین کی جگہ لگائیں، خوب صحت بھی پائیں اور درد بھی بھگائیں۔

انناس

انناس کا استعمال میٹھا بنانے کے لیے عام استعمال کیا جاتا ہے۔فوٹو کریڈٹ؛ شٹر اسٹاک 

انناس میں ‘برومیلین’ نامی ہضم کرنے والے اینزائم ہوتے ہیں جو اس پھل کو انفلیمیٹری کے خلاف کام کرنے والا زبردست پھل بنا دیتا ہے۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ انناس کھانے سے جوڑوں اور ہڈیوں کے درد میں مبتلا مریضوں کے درد میں کمی ہوتی ہے۔

انناس سے میٹھا تو بنائیں لیکن ساتھ ہی اس کا استعمال فروٹ سلاد میں اور بطور پھل بھی کرنا چاہیے۔

سیب 

سیب کا شمار عام پھلوں میں ہوتا ہے لیکن اس کے فائدے سب سے خاص ہیں۔فوٹو کریڈٹ؛ شٹر اسٹاک 

سیب کھانے سے درد میں کمی واقع ہوسکتی ہے کیونکہ اس میں ‘کیورسیٹن ‘نامی عنصر موجود ہوتا ہے۔اسی لیے ایک سیب روز کھانے سے ڈاکٹر سے  دور رہنے کا محاورہ بلا وجہ مشہور نہیں ہے۔

خشک میوہ اور بیج 

خشک میوے کا استعمال موسم سرما میں خصوصی طور پر کیا جاتا ہے؛ شٹر اسٹاک 

خشک میوے اور بیجوں میں ‘میگنیشیم’ اور ‘وٹامن ای’ کافی اچھی مقدار میں موجود ہوتا ہے جس سے انفلیمیشن قابو میں رہتی ہے۔اس کے لیے بغیر تلے ہوئے اور بغیر نمک کے خشک میوے اور بیج کھانے چاہیے۔

آرتھرائٹس نیشنل آفس نے خشک میووں میں خصوصی طور پر اخروٹ، مونگ پھلی، بادام ، پستے اور السی کا ذکر کیا ہے۔

بھورے چاول 

بھورے چاول کا استعمال ڈائیٹنگ کے دوران کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے ۔فوٹو کریڈٹ؛ شٹر اسٹاک 

فائبر سے بھرپور بھورے چاول اور دوسری ایسی  اجناس درد سے مقابلہ کر سکتی ہیں۔ فائبر میں ‘سی-ری ایکٹو پروٹین’ کو کم کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے، جگر یہ عنصر جسم میں کسی چوٹ یا زخم کے نتیجے میں درد ہونے کی صورت میں پیدا کرتا ہے۔

انگور اور چیری 

چیری کو گہرا لال رنگ اس میں موجود اینٹی اوکسی ڈینٹ کی وجہ سے ہوتا ہے۔فوٹو کریڈٹ؛ شٹر اسٹاک 

انگور اور چیری میں کچھ ایسے عناصر ہوتے ہیں جو بلکل ایسے ہی کام کرتے ہیں جیسے ایسپرین۔ انگور میں ‘اینتھوسیاننز’نامی عنصر انفلیمیشن کو کم کرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔ رسربھری اور اسٹرابیری میں بھی یہی عناصر ہوتے ہیں۔

پیاز اور لہسن 

مشرق میں کھانا کی ترکیب کا اہم جز پیاز اور لہسن ہے۔فوٹو کریڈٹ؛ شٹر اسٹاک 

پیاز اور لہسن میں سلفر کمپاؤنڈز کی وجہ سے درد میں کمی کا وجہ بنتا ہے۔درد میں کمی کرنے کے ساتھ ساتھ یہ سبزیاں جسم میں مدافعتی نظام کو مضبوط کرنے کا بھی کام کرتا ہے۔

چائے اور سبز قہوہ

چائے اور سبز قہوہ کا استعمال موسم سرما میں بڑھ جاتا ہے۔فوٹو کریڈٹ؛ شٹر اسٹاک 

چائے اور سبز قہوے میں ‘اینٹی اوکسی ڈینٹس’ یا ‘فلاوونوآئڈز’ کی موجودگی جسم میں ان خلیوں کی حفاظت کرتی ہے جن کے خراب ہوجانے سے آرتھرائٹس میں مبتلا مریضوں کی حالت کو مزید خراب کرتا ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *