خود پسندی اور خود نمائی

انگریزی میں ایک جملہ ہے لُک بیزی ڈُو نتھنگ۔اگر اس کے لفظی ترجمے سے ہٹ کر کوئی بات ہم کر سکتے ہیں تو وہ یہ ہے کہ جو کچھ نہیں کرتے وہ کمال کرتے ہیں ۔اس کمال میں موبائل کیمروں نے تو ایسا ساتھ دیا ہے کہ سوشل میڈیا میں یوں لگتا ہے کہ پاکستان میں بہت ترقی اور خوشحالی آئی ہوئی ہے ۔کوئی بھوکا نہیں ہر ایک کو تعلیمی مواقع دستیاب ہیں ۔صحت اور بنیادی سہولتوں سے ہر کوئی مستفید ہو رہا ہے۔۔کیا صحافی تو کیا عام آدمی بس ان کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی سٹیٹس جاندار ہو۔کسی کو کسی بڑے آدمی سے ملنے کی خوشی ہے تو کسی کو کسی غیر ملکی سے بات کرتے ہوئے یا سر راہ چلتے ہوئے کسی سے ملاقات کا شرف فوراً سے پیشتر سٹیٹس اپ لوڈ۔کیوں نہ ہو لوگ کیا کہنگے یہی نا کہ کیسا اجڈ اور گنوار ہے فیس بک اور ٹیوٹر کا استعمال نہیں کر رہا ہے۔اجڈ کہیں کا۔ماڈرن دور کے طور طریقوں سے واقف ہی نہیں۔چائے پی لی سٹیٹس اپ ڈیٹ نہیں کیا۔ واش روم استعمال کیا سٹیٹس اپ ڈیٹ نہیں کیا(شائد اب تک کسی نے واش روم کی بھی سٹیٹس اپ ڈیٹ کی ہوگی) یا اب شاید یہی ایک سٹیٹس باقی رہ گئی ہے جو اب تک اپ ڈیٹس نہ ہوئی ہو۔اسی موضوع پر کل ایک نجی محفل میں بات ہو رہی تھی ایک صاحب درمیان میں بول پڑے صاحبو آپ لوگ عام آدمی کی باتیں کر رہے ہو یہاں اس سوشل میڈیا میں اسلام کی باتیں اور حدیثیں سنانے والے بھی خود نمائی اور خود پسندی کا شکار ہیں ۔ کسی نے پوچھا وہ کیسے کہا کہ کسی غریب کی زکواۃ کے فنڈ سے مدد کی اس کی تصویر ایسے فیس بک پہ لوڈ کرتے ہیں کہ جیسے اپنے جیب سے مدد کی ہو،وہ یہ نہیں سوچتے کہ اس طرح کرنے سے ان کی خود نمائی تو ہو جاتی ہے لیکن کسی غریب و مسکین کی عزت نفس کتنی مجروح ہوتی اس طرف ان کا دھیان نہیں جاتا۔ آج کے معاشرے میں خود نمائی اور خود پسندی کی لت ہمارے رگ رگ میں گھر کر گئی ہے اب اس بُرائی کو جو گناہ سے بھی بدتر قرار دی گئی ہے ہم گناہ ہی نہیں سمجھتے۔فوٹوز، عورتوں کی تصویریں، موقع بے موقع سیلیفیاں غرض خود نمائی اور خود پسندی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔سوشل میڈیا خود کیسے بُرا ہو سکتا ہے یہ تو اس وقت بُرائی کی شکل اختیار کر جاتا ہے جب ہماری سوچ اور ذہن میں خرافات اٹھ جاتی ہیں ۔جب اسلام اور رسول نے خود نمائی کو ہلاکت کہا ہے تو ہم کیوں اپنے ہاتھوں سے ہلاکت کا سامان پیدا کر رہے ہیں اور جس نے اس حقیقت سے شناسا ئی حاصل کی وہ خوف کے باعث کبھی خود پسندی اور خود نمائی میں گرفتار نہیں ہو سکتا

(Visited 4 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *