جنازہ سب کا پڑھایا جائے

پانامہ کیس میں کس کی جیت ہوتی ہے کس کی ہار یہ تو وقت اور سپریم کورٹ کا فیصلہ ہی بتائیگا لیکن حالات اور واقعات یہ بتا رہے ہیں کہ حالات نواز شریف کے حق میں نہیں ہیں ۔اس کا اظہار تو وزیر آعظم صاحب نے خود ہی لواری ٹنل کے موقع پر کر دیا ہے۔اب آگے میاں صاحب کی حکمت عملی پر منحصر ہے کہ وہ ان نازک حالات کو اپنے حق میں کیسے موافق کرتے ہیں ۔پاکستان کی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو پچھلے ستر سالوں میں کرپٹ نظام حکمرانی ہی پاکستانی عوام کے مقدر میں رہا ہے اور کرپشن اب ایک سرطان بن چکا ہے ۔یہاں جو بھی حکمران بنا چاہئے وہ سول یا فوجی سب نے بندے خریدنے اور بیچنے کی نظام کو اپنے لئے پسند کیا۔آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ بھی اس نظام کی ایک کڑی ہے ۔کوئی پانامہ کو سازش قرار دے رہا ہے کوئی جمہورت کے لئے خطرہ۔اس کرپٹ نظام میں سوائے چند لوگوں کے احتساب مانگنے والے اور احتساب کا شکار ہونے والے کوئی بھی احتساب نہیں چاہتا اس احتساب سے بچنے کے لئے کیا کیا حربے ماضی میں استعمال ہوئے ان سے پاکستانی عوام باخبر ہے۔آج عمران خان یا پاکستان کے کرپٹ سیاستدان نواز شریف کو گھیرے ہوئے ہیں ان کا قطعی یہ مقصد نہیں کہ احتساب ہو سوائے سراج الحق کے۔یہ میری رائے ہے اختلاف کا حق آپ رکھ سکتے ہیں ۔میں تو اس نتیجے پہ پہنچا وں کہ یہ پانامہ ایک ٹول ہے جس کو اپوزیشن بہتر طریقے سے استعمال کر رہی ہے تو دوسری طرف صاحب اقتدار اسے سازش قرار دیتے ہیں۔مجھے اس ٹول میں سازش کا پہلو کہیں نظر نہیں آرہا ہے بس ایک ہی بات سمجھ آرہی ہے کہ یہ رولا سارا اقتدار کا ہے جس کے لئے یہ سب کچھ کیا جا رہا ہے کسی کو اقتدار کی جانے کی فکر ہے تو کسی کو اقتدار پر قبضہ کرنے کی تڑپ یہ سب کچھ کرنے پر اکسا رہی ہے۔اسی لئے تو میں کہتا ہوں کہ ہم سراج الحق کے ساتھ ہیں احتساب سب کا ہونا چاہئے ان تمام سیاستدانوں کا جنہوں نے اس ملک کو ستر سالوں میں اس مقام تک پہنچایا ہے۔بس ہمیں یہ جان لینا چاہئے کہ پروردیگار بے نیاز ہے اور اس کے فیصلے صحیح اور بروقت ہوتے ہیں ۔اور اللہ کی لاٹھی بے آواز ہوتی اور جس پر برستی ہے تو اس کے ہوش ٹھکانے آجاتے ہیں ۔ہمیں امید ہے کہ ملک سے کرپشن کے جنازے باری باری نکلتے جائینگے اور سب کی نماز جنازہ پڑھی جائیگی

(Visited 4 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *