اسیرِ محبت

حنا نرجس
ابھی دفتر پہنچ کر میں اپنا لیپ ٹاپ میز پر رکھ ہی رہا تھا کہ موبائل پر میسج کی بیپ سنائی دی. بنا دیکھے ہی مجھے یقین تھا کہ میسج کس کا ہوگا، کس نوعیت کا ہوگا، پھر بھی ہاتھ جیسے اپنے آپ ہی جیب تک چلا گیا.
Love you, dost!
سکرین پر جگمگا رہا تھا. ساتھ ہی ریڈ کلر کا خوبصورت دل پیغام کی صورت بھیجے گئے جذبات کی شدت کو مزید بڑھا رہا تھا. میں نے مسکراتے ہوئے موبائل واپس جیب میں ڈالا اور کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا. وہ ساری کلفت دور ہو گئی جو گھنٹہ بھر بائیک پر ٹھنڈی ہوا کے تھپیڑے کھاتے، ٹریفک کا شور سنتے، ایمبولینس کے سائرن سے پریشان ہوتے، مختلف لوگوں کو اپنی اپنی منزل کی جانب ہوا کے گھوڑے پر سوار بھاگتے، اور منہ بسورتے ٹھنڈی گلابی ناک والے بچوں کو سکول جاتے دیکھ کر ہوتی رہی تھی.

میری بیٹری ایک دم فُل چارج ہو گئی تھی اور اب میں ایک بھر پور ورکنگ ڈے کے لیے تیار، چست و توانا اپنا لیپ ٹاپ آن کر رہا تھا. جانتا تھا ابھی دن بھر ایسے بہت سے میسجز آئیں گے. وہ اپنے کالج میں لنچ بریک میں خود چائے پیتے ہوئے مجھ سے ضرور پوچھے گی،
’’Had lunch, dear
پھر گھر جا کر بھی میری روٹین سے آگاہ ہونے کے باوجود پوچھتی رہے گی.
کب تک آئیں گے آپ؟
Miss you so much, darling!
“آپ کی فیورٹ کڑھی بنی ہے، جلدی سے آ جائیں، صبر نہیں ہو رہا مجھ سے.‘‘

جی ہاں، وہ ایسی ہی ہے. ایک لمحے کے لیے بھی اپنے تصور سے آزاد نہیں ہونے دیتی مجھے اور اس کے لیے اس کے پاس روزانہ نت نئے طریقے اور برانڈ نیو شرارتیں ہوتی ہیں. وہ خود تو زندہ دل اور شوخ و چنچل ہے ہی، مجھے بھی ہر دم جوان رکھتی ہے. اسے کیا خبر، میں تو ویسے ہی اس کی زلف کا اسیر ہوں، اس کی محبت کا قیدی، اس سے جدائی کا تصور بھی میرے لیے سوہانِ روح ہے. ویسے میں کبھی سمجھ نہیں پایا کہ یہ میری محبت کی شدت کا کمال ہے یا اس کی زندہ دل شخصیت کا کرشمہ، کہ ان پچیس سالوں میں ہمارے تعلق پر کبھی باسی پن کا شائبہ تک نہ گزرا. بلکہ سچ بتاؤں میں تو ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کی رفاقت کا مزید حریص ہوئے چلا جا رہا ہوں.

وہ وفا شعار تو بلا کی ہے لیکن روایتی قسم کی خدمت گزار ہرگز نہیں. کام ذرا مشکل اور بھاری ہو تو مجھے آوازیں دینے لگے گی. اور کھانے کے بعد چائے تو ہمیشہ مجھ سے بنوائے گی. میں جھوٹ موٹ انکار کر دیتا ہوں.
’’آج نہیں بنا سکتا میں.‘‘
’’اوں ہوں، لیکن مجھے تو آپ کے ہاتھ کی ہی پینی ہے.‘‘
’’نہیں، آج نہیں. میں سونے جا رہا ہوں.‘‘
’’پلیز دیکھیں نا، میں نے بھی تو اتنے پیار سے آپ کے لیے کھانا بنایا ہے. ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بھی تو گھر والوں کا ہاتھ بٹاتے تھے نا… تو پلیز… یوں جائیں… اور جلدی سے… کوئیک سروس… چائے بنا کر لے آئیں.‘‘ چٹکی بجاتے ہوئے کہے گی.
’’اچھا بنا لاتا ہوں لیکن میں نہیں پی رہا.‘‘
’’کیوں؟ آپ کو پتہ ہے میں اکیلے نہیں پیتی کبھی بھی.‘‘
’’زبردستی ہے؟‘‘
’’ہاں نا!‘‘
’’موڈ نہیں میرا اس وقت. آپ کے لیے بنا لاتا ہوں.‘‘
اور کچن میں پہنچ کر اپنی مسکراہٹ دباتے ہوئے میں دو کپ چائے کے لیے پانی رکھ رہا ہوتا ہوں ?
کسی دن میرے انکار پر کہے گی، ’’اچھا، صرف آج بنا دیں‘‘ اور میں چپ چاپ بنانے چلا جاتا ہوں حالانکہ مجھے پتہ ہوتا ہے کہ کل پھر وہ یہی کہے گی کہ ’’صرف آج بنا دیں.‘‘

جتنی بار وضو کر کے واش روم سے برآمد ہوگی، چلّو میں پانی ہوگا اور متلاشی نظریں مجھے ڈھونڈ رہی ہوں گی. گرمیوں میں نرمی سے پوچھے گی، ’’آپ کو گرمی تو نہیں لگ رہی؟ لیں پانی سے ٹھنڈا کر دیتی ہوں.‘‘ اور اگلے ہی لمحے میرا چہرہ، بال اور شرٹ پانی کی بھرپور پھوار سے بھیگ چکے ہوں گے. ہاں سردیوں میں محض ہلکے چھینٹے ڈالنے پر اکتفا کرے گی.

اس معمول میں تعطل تب آتا ہے جب وہ مجھ سے ناراض ہو اور اس وقت وہ اپنا یہ قول دہرانا نہیں بھولتی، ’’میں پانی صرف ان پر ڈالتی ہوں جن سے میں بولتی ہوں. آپ سے تو میں ناراض ہوں.‘‘ اور سچ تو یہ ہے کہ ناراض ہو کر وہ مجھے پہلے سے بھی زیادہ اچھی لگتی ہے.

میں سنَیکس کا زیادہ شوق نہیں رکھتا تھا لیکن وہ مجھے اپنے ہر الٹے سیدھے شوق میں ساتھ ساتھ رکھتی ہے. چاکلیٹ کھول کر آدھی اپنے منہ میں ڈالے گی تو باقی آدھی زبردستی میرے منہ میں.

امی کے گھر جانے کو دل مچل اٹھے تو دو لفظی ایس ایم ایس کرے گی،
Mamma paas!
اور میں آفس سے واپسی پر بخوشی اسے لے جانے کو تیار ہو جاتا ہوں حالانکہ مجھے پتہ ہوتا ہے کہ وہاں جا کر ’’بےوفائی‘‘ کرے گی اور صاف مکر جائے گی یہ کہہ کر کہ ممّا تو صرف میری ہیں اور میں اپنی ماں ’’کسی‘‘ سے شیئر نہیں کرتی.

اب تک آپ یقیناً یہ رائے قائم کر چکے ہوں گے کہ اتنی بچگانہ عادات والی شرارتی بیوی تو سوٹ نہیں کرتی بھئی. گھر چلانے کے لیے تو سمجھ دار، پختہ سوچ اور متانت کی حامل بیوی کی ضرورت ہوتی ہے. تو ٹھہریے، ابھی تو میں نے اس کی شخصیت کی صرف ایک جہت ہی دکھائی ہے آپ کو. شادی کی رات، عمروں میں واضح فرق سے قدرے خائف، میں نے دوسری بہت سی باتوں کے ساتھ ساتھ اس سے یہ بھی کہا تھا کہ ہم دونوں دوستوں کی طرح رہیں گے. اس نے اور کوئی بات یاد رکھی ہو یا نہ، لیکن یہ بات خوب یاد رکھی، جب بھی ٹوکوں، ’’دیکھو، بیویاں تو ایسے نہیں کرتیں‘‘ جھٹ سے جواب آتا ہے ’’لیکن ہم تو دوست ہیں‘‘ اور یقین جانیے مجھے اس بروقت دوستی کے فیصلے پر بارہا خوشی ہی ہوئی ہے.

یاد ہے نا میں نے پچیس سالہ ساتھ کی بات کی تھی؟ تو جناب اس عرصے میں ہمارے بچے بڑے ہو چکے ہیں، کالج اور یونیورسٹی جاتے ہیں. وہ شوخ و چنچل بیوی ہونے کے ساتھ ساتھ بڑی مدبر اور سوبر ماں بھی ہے. پھر دنیا تو اسے ایک سنجیدہ، باوقار اور متین لیکچرر کے طور پر جانتی ہے. اس کا یہی ایک احسان ہر شے پر بھاری ہے کہ میرے بچوں کی اس نے بہترین تربیت کی. وہ کبھی ان کی صحت اور تعلیم سے غافل نہیں رہی. خود تو بچوں کی اچھی دوست ہے ہی، اس نے شعوری کوششوں سے بچوں کے دلوں کو میرے دل سے بھی بہت گہرا جوڑا ہے. یہ اسی کی تربیت ہے کہ بچے احترام و لحاظ کا ایک مناسب فاصلہ برقرار رکھنے کے باوجود ہم دونوں سے بہت بے تکلف ہیں. وہ جب اپنی ہر کامیابی مجھ سے شیئر کرتے ہیں، ہر مسئلہ مجھے بتاتے ہیں، میری موجودگی میں بھی آپس کی فقرے بازی اور شرارتیں جاری رکھتے ہیں تو جنت نظیر گھر کا سکون عطا کرنے پر میرا رواں رواں رب کا شکر گزار ہو جاتا ہے.

میری پیاری بیوی کو دلوں کو جوڑے رکھنے کا فن آتا ہے. بچوں کو صبح اپنے ہاتھ سے لنچ بنا کر ساتھ دیتی ہے اور پھر چھوٹے چھوٹے پیار، توجہ اور شرارت بھرے میسجز انہیں بھی بھیجتی رہتی ہے، یوں بچوں کا دل باہر جا کر بھی گھر میں ہی اٹکا رہتا ہے. ان کے دوست حیران ہوتے ہیں اور ان کی اپنی ماں سے محبت پر رشک کرتے ہیں.

دنیا ساری کی ساری متاع ہے اور نیک بیوی بہترین متاع. نیک بیوی کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ خواہ مخواہ کی سنجیدگی کا لبادہ اوڑھے یا اوڑھائے رکھے. ایسی سنجیدگی مجھ جیسے خوش رہنے اور خوش رکھنے کے دلدادہ مردوں کو بےزار کر دیتی ہے اور پھر وہ یہی سب باہر تلاش کرنے لگتے ہیں. ذرا یاد کیجیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا عمروں کے اس قدر تفاوت کے باوجود حضرت عائشہ سے تعلق کیسا مثالی تھا. ان کے ساتھ دوڑ لگاتے، ان کے شوق اور دلچسپی کے کاموں میں حصہ لیتے. ایک بار جب ان کا ہار گم گیا تو قافلے کو ایسی جگہ ہی پڑاؤ ڈال کر ہار تلاش کرنے کو کہا جہاں پانی تک نہ تھا اور پھر اسی موقع پر آیاتِ تیمم نازل ہوئیں.

جب ایک بار آپ سے پوچھا گیا: آپ کو سب سے زیادہ محبت کس سے ہے؟ آپ نے ایک لحظہ کی دیر کیے بنا کہا: عائشہ سے. سائل نے کہا: میرا سوال مردوں کے بارے میں تھا. آپ نے فرمایا: عائشہ کے باپ سے.

پھر وہ بات بھی ذہن میں مستحضر رہے جب جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ شادی کے بعد آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے. دورانِ گفتگو آپ کو پتہ چلا کہ انہوں نے ایک بیوہ سے شادی کی ہے تو آپ نے فرمایا: تو نے کنواری لڑکی سے شادی کیوں نہ کی تاکہ تو اس کے ساتھ کھیلتا اور وہ تیرے ساتھ کھیلتی، تو اس کے ساتھ دل بہلاتا اور وہ تیرے ساتھ دل بہلاتی.

بہت سے دوستوں کی نجی زندگی کو بےزاری کا شکار دیکھتا ہوں. اپنی ہی اولاد سے ذہنی مطابقت نہیں ہے. سکون، اطمینان اور خوشیاں پانا چاہتے ہیں، غلط طریقے اپناتے ہیں. میں جانتا ہوں کہ ان کے مسائل کی صحیح تشخیص کیا ہے، غلطی کہاں ہو رہی ہے لیکن براہ راست بتانے میں جھجھک محسوس کرتا ہوں. آج اسی لیے نہاں خانہ دل آپ کے سامنے عیاں کر رہا ہوں.

اور ہاں! زندگی پرفیکٹ کبھی بھی نہیں ہوتی، اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں. مجھے بھی آلو، پیاز، ٹماٹر، ٹشو، کاپی، شیمپو لانے کے میسجز موصول ہوتے ہیں لیکن دلوں کو جوڑنے کے فن کو ذرا اپنی ترجیحات میں ٹاپ پر رکھ کر تو دیکھیے، یقین کیجیے سکون کی تلاش میں باہر نہیں نکلنا پڑے گا.

(Visited 19 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *